اجودھیا اور رام مندر مکہ مکرمہ اور کعبہ کے مساوی نہیں ہوسکتے ـ مولانا عبدالحمید نعمانی

ہماری فطرت میں تلاش و تجسس شامل ہے، باتیں سننے اور سمجھنے کی بالکل چھوٹی عمر سے سوال سے جواب اور جواب سے سوال کی طرف ذہن، اصل تک رسائی کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے، رام، اجودھیا ،اور دیگر کرداروں کے متعلق ہمارے ذہن و دل میں کئی طرح کے تصورات و سوالات شروع سے اب تک ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں، جن کا بہتر تعین و جوابات، اسلام اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم تک رسائی کے ساتھ مل جاتے ہیں، رسول اللہ کی حیثیت سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا تعین ہوجاتا ہے جب کہ کعبہ اور قرآن کی شکل میں مرکز اور پیغام الٰہی کا معاملہ بھی واضح ہو جاتا ہےـ دیگر معاملات میں فرشتے، جن، شیطان کے وجود اور دائرہ و زمرہ کی بات بھی طے ہے، فرشتے معصوم ہیں وہ گناہ نہیں کر سکتے ہیں وہ خالق حقیقی کے فرمان کے پابند ہیں اور مختلف امور کو انجام دیتے ہیں، وہ بدی کی طاقتوں سے شکست نہیں کھا سکتے ہیں، اس میں کوئی سوال اور بھٹکاؤ نہیں ہے ،لیکن دیوتا گناہ حتی کہ زنا تک کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں اور بدی کی شکتیوں سے ہار جاتے ہیں ،ایسی حالت میں کبھی بھی آئیڈیل انسانی معاشرے کی تشکیل اور مثالی اخلاقی نظام کے قیام کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی ہے، ماضی میں اور گزشتہ کچھ عرصے سے اسلام اور مسلم سماج کی دیکھا دیکھی کچھ بنانے اور بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اجودھیا اور رام مندر کو مکہ مکرمہ اور کعبہ کی حیثیت اور روپ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، سنگھ اس کے لیے مہم چلا رہا ہے، چند دنوں پہلے ( 27 /جون 2021 روزنامہ انقلاب ) وزیر اعظم نے کہا ” اجودھیا کے انسانی اخلاق کا مستقبل کے بنیادی ڈھانچے سے میل کھانا چاہیے، آنے والی نسلوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ اجودھیا جانے کی خواہش محسوس کرنی چاہیے” لیکن اس کے لیے اصل بنیاد کا ہونا ضروری ہے ، شنکر آچاریہ نے جن چار مقامات کو چار دھام کے طور پر پیش کیا ہے ان میں اجودھیا نہیں ہے، قدیم چینی سیاح نے اپنے سفر نامے میں اجودھیا کی جن قابل ذکر عبادت گاہوں کو شمار کیا ہے ان میں رام مندر کا کوئی ذکر نہیں ہے حتی کہ تلسی داس نے بھی اس طور سے اجودھیا اور رام مندر کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے، بعد اور حال کے دنوں میں جس طرح سے رام مندر کی تعمیر اور زمین حاصل کرنے کے لیے تحریک چلائی گئی اس میں تقدس و عظمت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیاـ
راما نند ساگر اور کلا کاروں کی اداکاری سے عبادت کا تقدس اور کردار میں عظمت پیدا نہیں ہو سکتی ہے، بعد کے لوگ پہلے کا کردار کیسے بن سکتے ہیں؟ ایسی حالت میں عظمت و تقدس مجروح ہوتا ہے نہ کہ معزز و معظم اور موقر، کردار و روایت میں ڈراما اور اداکاری کا عمل شامل ہوتے ہی سنجیدگی اور حقیقت کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے، دنیا کو دارالعمل سمجھنے کے بجائے اسٹیج سمجھنے کا نتیجہ اس سے مختلف نہیں نکل سکتا ہے، اس پر برہمن وادیوں نے اپنے تفوق و توقیر کے لیے غور نہیں کیا، انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے رام جیسے صبر و سچائی، تحمل و وقار کی علامت کا بھی اپنے حساب سے استعمال کیا ہے، راون کے ذریعے نقلی سیتا کے اغوا کی کہانی کا بعد میں اضافہ کرکے روایت میں تحریف اور دکھاوا قرار دے کر رنگ کو بھنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس صورت میں لنکا پر حملہ آور راون سے جنگ محض ایک بہانہ بن کر رہ جاتی ہے، ایسا موجودہ دور میں قدیم اساطیر کے حوالے سے سب سے معروف و مشہور نام، دیو دت پٹنائک کو بھی محسوس ہوا ہے، انہوں نے پینگوئن سے انگریزی، ہندی میں شائع کتاب سیتا میں بعد کی تشریح و اضافہ کو تسلیم نہیں کیا ہے، ہمارے گاؤں کے مہنت سے برسوں پہلے ہماری جم کر بحث ہوئی تھی، آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ قابل توجہ و غور ہے، وہ کبیر پنتھی ہونے کے ناتے رام کو اوتار نہیں مانتے تھے،جب تک اصل اور ماضی کے حوالے سے تسلسل و توارث نہیں ہو گا، تب تک عقیدہ و عمل سے صحیح رشتہ قائم نہیں ہو سکتا ہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)