اجودھیا اراضی کی خریداری میں گھپلے کا معاملہ:شیوسینا نے ٹرسٹ سے وضاحت طلب کی

ممبئی:اجودھیامیں نیاس کے ذریعہ اراضی کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات کے درمیان ، شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیر کو کہا کہ نیاس اور دیگر رہنماؤں کو اس کی وضاحت دی جانی چاہیے۔راوت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مندر کی تعمیر کا معاملہ ان کی پارٹی اور لوگوں کے لیے عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے صبح ان سے بات کی اورجو ثبوت انہوں نے دیئے وہ چونکانے والے ہیں۔راوت نے کہا ہے کہ رام اور رام مندرکے لیے لڑناہمارے لیے عقیدہ کی بات ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔مندر کی تعمیرکے لیے جو ٹرسٹ قائم کیا گیا تھا اسے یہ واضح کرناچاہیے کہ آیا یہ الزامات درست ہیں یا غلط۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی اس مندر کے بھومی پوجن پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ انہیں بھی اس بارے میں بات کرنی چاہئے۔ رام مندر عقیدے کی بات ہے۔ لوگوں نے صرف عقیدہ کی بنا پر اس کے لیے چندہ دیا۔ یہاں تک کہ شیوسینا نے ٹرسٹ کو ایک کروڑ روپیہ دیا۔انہوں نے کہاہے کہ عقیدہ سے جمع کی گئی رقم کا غلط استعمال کیا جاتا ہے ، پھر یقین رکھنے کی کیا بات ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آخر کیا ہو رہا ہے ، ہم جاننا چاہتے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ الزامات درست ہیں یا غلط۔آپ کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ اور پون پانڈے ، جو سابقہ سماج وادی پارٹی حکومت میں وزیر تھے ، نے الزام لگایا ہے کہ شری رام جنم بھومی تیرت کھیترا نیاس کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے 18.5 کروڑ میں 2 کروڑ روپے کی زمین خریدی ہے۔ رائے نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس کو منی لانڈرنگ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے سنگھ اور پانڈے نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔راوت نے کہاہے کہ ٹرسٹ کے ممبران کا انتخاب بی جے پی نے کیا تھا۔ شیوسینا جیسی تنظیموں کے نمائندوں کو ٹرسٹ میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک میں شیو سینانے بھی حصہ لیا تھا۔ ہم نے پہلے بھی یہ مطالبہ کیا تھا۔