ایودھیاکیس پرسپریم کورٹ کا فیصلہ:قانون و انصاف کی خلاف ورزی

تحریر: عبد الخالق (سکریٹری جنرل لوک جن شکتی پارٹی)
ترجمہ مولانا محمد عادل فریدی، امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ
۹/ نومبر ۹۱۰۲ء کو ہندوستان کی جمہوریت اور انصاف کے لیے تاریخ کی سب سے تاریک رات کے طور پر یاد رکھا جا ئے گا۔اسی دن سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے پانچ ججوں نے فیصلہ سنایا کہ ایودھیا میں واقع شہید بابری مسجد کی زمین کو رام مندر کی تعمیر کے لیے بھگوان ”رام للا“ کے حوالہ کر دیا جائے۔المیہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کیا کہ مسجد کو شہید کرنا ”قانون کی خلاف ورزی“ تھی، لیکن اس کے با وجود سپریم کورٹ نے مسجد شہید کرنے والوں کو زمین مسلمانوں کے سپرد کرنے کا پابند نہیں بنایا۔اس کے بر خلاف سپریم کورٹ نے ہندوؤں کو زمین سپرد کرتے ہوئے نہایت بچکانہ دلیل دی کہ ہندو اس کو بھگوان رام کی جائے پیدائش مانتے آئے ہیں۔ یعنی کھلے طور پر آستھا اور عقیدے نے انصاف اور قانون پر فتح حاصل کر لی۔
آئین کے پیش لفظ میں ہندوستان کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ کتنا خوبصورت ہے، ہندوستان کے اس خوبصور ت چہرے کا قتل کر دیا گیا۔ اب تک ہمارے سیکولرزم کا مطلب یہ تھا کہ یہاں مختلف مذاہب، رسم و رواج او رتہذیب و ثقافت کو قبول کیا گیا ہے اور ان کی منفرد شناخت کو تسلیم کیا گیا ہے،اس میں تمام مذاہب کے لئے مساوات اور احترام ہے،کسی بھی مذہب کو عوامی سطح سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ہمارے سیکولرزم کا حصہ نہیں ہے۔ بلا شبہ مہاتماگاندھی کے سیکولرزم کی بنیاد ایسے مذہبی عقیدے پر تھی جس نے انہیں سچائی، رواداری، دوسرے مذاہب کوبرداشت کرنے اور عد م تشدد کے نظریہ پر مضبوطی سے جمادیا تھا۔ان نظریات و افکار کی گہری چھاپ ان کے افعال و اعما ل پر تھی، لیکن آج سیاست اور مذہب کی خطرناک ملاوٹ کا استعمال اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پرکیا جا تا ہے۔ پچھلے مہینے ہمارے وزیر دفاع نے فرانس سے پہلے رفائیل جنگی جیٹ طیارے کی وصولی کے موقع پر پورے بین الاقوامی تام جھام کے ساتھ شستر پوجا کی۔ایک ایسے ملک میں جو کثیر المذاہب شناخت رکھتا ہے اور مختلف عقیدوں اور رسم و رواج پر فخر کرتا ہے، وہاں کھلے عام نیشنل سیکورٹی کے ساتھ ہندوازم کی علامتوں کو شامل کرنا بھی اکثریتی مذہب کو غیر متنازعہ اولیت دینے کا کھلا اعلان ہے۔گویا کہ ہندوتو اب ہندوستان کا سرکاری مذہب ہو چکا ہے۔
اس تناظر میں ایودھیا کا فیصلہ بالکل بھی حیرت انگیز نہیں ہے، فیصلہ آنے سے پہلے کے مراحل میں سپریم کورٹ کی پروسیڈنگ کے دوران ہم دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح سے پوری شدو مد کے ساتھ ببانگ دہل تحریک چلائی گئی اور سپریم کو رٹ کی آئینی بنچ پر دباو ڈالا گیاکہ وہ ایسا فیصلہ سنائے جو رام مندر کی تعمیر کے حق میں ہو۔مختلف ہندو مذہبی رہنماؤں نے کھلے عام الیکٹرونک میڈیا کا استعمال کر کے بھگوان رام اور ہندو سماج کی جیت کا فاتحانہ انداز میں جشن منایا۔یہ بھی اخباروں میں آیا کہ کس طر ح بی جے پی کے ممبر پارلیامنٹ ساکشی مہاراج نے اپنے اس اعلان سے معاملہ کو گر ما دیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر ۶/ دسمبر سے پہلے شروع ہو جائے گی، ۶/ دسمبر وہ تاریخ ہے جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیاتھا۔سب سے اہم پیشگی جشن کا موقع وہ تھا جب دیوالی کے موقع پر ایودھیا میں پانچ لاکھ دیے روشن کیے گئے تھے، اس جشن نے ان کی جیت کی امیدوں کو اور بڑھا دیا تھا۔یوگی آدتیہ ناتھ اور آر ایس ایس نے صبر کرنے اورتحمل برتنے کی اپیلیں کیں، یہ بھی سپریم کورٹ کے لیے ایک خاموش اشارہ تھا کہ اگر فیصلہ ہندوؤں کے خلاف آئے گا، تو بڑا فسادبرپا ہو گا اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سماجی بد امنی پیداہو گی۔ان سب کے پیچھے کا پیغام صاف تھا؛ کہ رام مند ر ہندو سماج کابہت بڑا جذباتی معاملہ ہے اور کورٹ کو اس کے حق میں فیصلہ کرنا ہی ہو گا۔
بلاشبہ سپریم کو رٹ کو اس طرح کے کسی دباؤ یا زبردستی کی ضرورت ہی نہیں تھی، ماضی میں بھی ہماری عدالت عظمیٰ نہ صرف ہندوتوکی معاشرتی طاقت اور بالادستی کو تسلیم کر چکی ہے بلکہ اس کو جائز بھی ٹھہرا چکی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ۶۹۹۱ء کے اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہہ چکی ہے کہ ہندوتو ایک ”طرز زندگی“ ہے اور ہندوستانیت کا مترادف ہے، یعنی ایک یونیفارم کلچر کا فروغ جو ملک میں موجودتمام الگ الگ کلچر اور تہذیب و ثقافت کے درمیان کے فرق کو ختم کر دے۔سپریم کورٹ کایہ نظریہ بالکل ہندو تو کے اسی نظریہ کی عکاسی تھا جو ہندو مذہب کی تمام دوسرے مذاہب اور ثقافتوں پربالادستی کی بات کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے مختلف مواقع پر کئی بار اس متنازعہ فیصلہ پرنظر ثانی اور ترمیم کا حکم جاری کیا۔جس کی وجہ سے ہندو تو کے حامیوں کا یہ فاتحانہ دعویٰ ثابت ہو گیا کہ سپریم کورٹ نے ہندوتو ا کے سنگھی نظریہ پرقانونی مہرلگا دی ہے۔اکثریت کے اعتقاد پر سپریم کورٹ کی حد سے زیادہ غفلت کا مقابلہ سیدھے طور پرمسلمانوں کی حساسیت سے ہے۔۴۹۹۱ء میں سپریم کو رٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں کہا تھاکہ ”مسجد میں نمازپڑھنا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اورمسلمان کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں حتی کہ کھلی جگہ میں بھی“سپریم کورٹ کے اس ریمارک سے مسلمان بھونچکے رہ گئے تھے۔ایودھیا کا جو فیصلہ آیا ہے آج کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے شاید پہلے سے ہی اس کا اندازہ ہو گیا تھا، کیوں کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوتواور اس کے حامی حکومتی اداروں اورعوام دونوں کو کنٹرول کررہے ہیں۔
۰۱۰۲ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے بنچ نے اس معاملہ میں تجرباتی و مشاہداتی حقائق میں توڑ مروڑ، غیر یقینی تاریخی اعداد و شمار،گمراہ کن رپورٹس اور آستھا کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کا کام کیا تھا۔اپنے فیصلہ میں انہو ں نے جن دلیلوں کا سہارا لیا تھا، اس کو”بادشاہ سلمان کا حل“ (یہ انگریزی کا محاورہ ہے، بائبل کے ایک قصہ پر مبنی ہے، جس میں بادشاہ سلمان نے ایک بچے کے بارے میں یہ حل پیش کیا تھا جس کے لیے دو عورتیں لڑ رہی تھیں ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کی ماں ہے، معاملہ بادشاہ کی عدالت میں پہونچا تو بادشاہ نے یہ حل پیش کیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکڑا دونوں عورتوں کو دے دیا جائے۔)سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے متنازعہ زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کر کے تینوں مدعیوں کو ایک ایک حصہ حوالہ کرنے کا حکم دے دیا، مدعی اور ان کے حامی اس یکطرفہ اور ناقابل عمل فیصلہ سے حیران رہ گئے جس میں کوئی فاتح قرار نہیں دیاگیا۔گویا فیصلہ کے باوجود حقیقت میں معاملہ جوں کا توں برقرار رہا۔اور جیسا اندیشہ تھا ناراض فریقوں نے سپریم کور ٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کے نتیجہ میں ملک کو ۹ / سالوں کا طویل انتظار کرنا پڑا۔
سپریم کورٹ کو متنازع زمین کی ملکیت کے انتہائی متنازعہ ہونے اوراس معاملے میں دونوں جانب سے زبردست دباؤ کا احساس تھا، لہٰذا اس تنازعہ میں عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ مرکزی فریقوں کو شامل کر کے ثالثی کے ذریعہ حل تلاش کرنے کی کوشش بھی ہوتی رہی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی سمجھوتہ پررضامندی ہوچکی تھی،لیکن پھر دونوں طرف سے سخت گیروں نے اس کو ختم کردیا۔معاہدے کی وسیع شکل یہ تھی: (الف) مسلمان متنازعہ مقام پر دعویٰ چھوڑ دیں گے۔(ب) مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ اورفنڈ دیا جائے گا۔(ج)اور ریاست”ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء“کے نفاذ کو یقینی بنائے گی، جس کے مطابق کسی بھی عبادت گاہ کو منتقل کرناممنوع ہے۔سپریم کورٹ نے بنیادی طور پر اس معاہد ہ نامہ کی توثیق کی ہے۔
مسلمان بخوبی واقف ہیں کہ وہ لوگ جو مندر کے حامی ہیں وہ معاشرتی، سیاسی اور قانونی شعبوں میں حاکمانہ عہدوں پر قابض ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی پرامن زندگی کی واحد امید، عارضی ہی سہی، متنازعہ مقام پر ان کے حقوق کی بازیابی تھی، لیکن اس معاملہ میں انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
اب وہ یہ دعا کر رہے ہیں کہ ان کی دوسری عبادت گاہیں پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء کے تحت محفوظ رہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ کشمیریوں کو بھی یقین تھاکہ دفعہ ۰۷۳/کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی ہے،مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ آج کے ہندوستان میں اکثریت کا نقطہ نظر غالب رہے گا، اور اس بارے میں کسی کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
جسٹس او ہومس کا یہ تبصرہ مشہور ہے کہ”سپریم کورٹ کورٹ آف لا(قانون کی عدالت)ہے کورٹ آف جسٹس(انصاف کی عدالت) نہیں ہے۔“ لیکن ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ نے نہ تو قانو ن کا خیال رکھااور نہ انصاف کی پرواہ کی۔اس نے اکثریت کی آستھا کو تقویت بخشی ہے جس کے بھگوان کو متنازعہ مقام سونپ دیاگیاہے۔
(مضمون نگا سول سروس میں رہے ہیں اور لوک جن شکتی پارٹی کے سکریٹری جنرل ہیں، مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں۔)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*