اجودھیا:مسجدکاسنگ بنیاد یوم جمہوریہ کورکھاجائے گا

اجودھیا:بابری مسجد کی جگہ بننے والی اس مسجد کاہفتہ کو سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور اس کے لیے مختص پانچ ایکڑ اراضی پر یوم جمہوریہ کوسنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اس بارے میں مسجد کی تعمیرکے لیے قائم ٹرسٹ کے ایک ممبر نے بات کی۔گرچہ مسلمانوں کے سواداعظم کواس مسجدمیں کوئی دل چسپی نہیں ہے اورمسلمانوں کاسربراہ طبقہ مسجدکے لیے زمین کویہ کہہ کر مستردکرتارہاہے کہ جب عدالت نے دلائل ہمارے مانے اورزمین مندرکے لیے دے دی توپھردوسری جگہ زمین لینے کاکوئی جوازنہیں ہے۔انڈواسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (IICF) کے سکریٹری اطہرحسین نے کہاہے کہ ٹرسٹ نے 26 جنوری 2021کوایودھیا مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب سے سات دہائیاں قبل اس دن ہمارا آئین وجودمیں آیا تھا۔ ہمارا آئین تکثریت پرمبنی ہے جو ہمارے مسجد منصوبے کا بنیادی مرکزہے۔مسجد کی تعمیر کے لئے سنی وقف بورڈ نے چھ ماہ قبل آئی سی ایف تشکیل دی تھی۔پروجیکٹ کے چیف آرکیٹیکٹ پروفیسر ایس ایم اختر نے اسے حتمی شکل دے دی ہے جس کے بعد آئی آئی سی ایف نے 19 دسمبر کو مسجد کمپلیکس کے نقشے کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک ملٹی اسپیشلیٹی ہسپتال ایک کمیونٹی کچن اور لائبریری ہوگی۔اختر نے بتایا ہے کہ مسجد میں ایک وقت میں 2000 لوگ نماز پڑھ سکیں گے۔اختر نے کہا ہے کہ نئی مسجد بابری مسجد سے بڑی ہوگی لیکن اس کا ڈھانچہ ویسانہیں ہوگا۔ کیمپس کے وسط میں ایک ہسپتال ہوگا۔ انسانیت کی خدمت اسی روح کے ساتھ کی جائے گی جس طرح نبی 14 نے 1400 سال پہلے سکھایاتھا۔انہوں نے کہاہے کہ ہسپتال صرف ایک ٹھوس ڈھانچہ نہیں ہوگا بلکہ یہ مسجد کے فن تعمیر کے مطابق تعمیرکیاجائے گا۔ اس میں 300 بستروں کی خصوصی یونٹ ہوگی جہاں ڈاکٹر بیمار افراد کا مفت علاج کریں گے۔انہوں نے کہاہے کہ اس مسجد کو اس طرح تعمیر کیا جائے گا کہ اس میں شمسی توانائی کا بھی انتظام ہوگا۔حسین نے کہا ہے کہ جب ہم دھنی پور میں اسپتال کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہیں توایک بات یقینی ہے کہ یہ ایک اسپتال ہوگا۔ باورچی خانے میں دن میں دو بار غریبوں کو کھانا پیش کیا جائے گا۔آئی سی ایف کے سکریٹری نے کہاہے کہ ہم اسپتال کے لیے کارپوریٹ ہاؤسز سے بھی مدد کی توقع کر رہے ہیں۔اگرچندہ کی منظوری دی گئی ہے تو بہت سے لوگ مددکرناچاہیں گے۔ ہم فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت درخواست دیں گے اور بیرون ملک ہندوستانی نژاد مسلمانوں سے امداد کے فنڈز کی درخواست کریں گے۔