عائشہ کی خودکشی:کیا جہیز محرک تھا ؟ ـ مسعود جاوید

عائشہ نے بقول اس کے برضا و رغبت خود کشی کی کسی نے خود کشی کے لیے اس پر جبر نہیں کیا !
قیاس کیا جا رہا ہے کہ جہیز نہ لے جانا اس کا محرک تھا۔ عائشہ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی۔ اس نے اپنے پیغام میں لوگوں سے یہ بھی کہا کہ محبت یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہے۔ اس کی اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فرسٹریشن کا کیس تھا اس لیے کہ جس شدت سے اس نے کسی کو چاہا تھا اس کا خاطر خواہ رسپانس اسے نہیں ملا اور وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی جان دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس نے کیس اٹھانے کی بات بھی کہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی تھی اور معاملہ کیس مقدمہ تک پہنچ گیا تھا۔
یک طرفہ محبت، ففٹی پرسنٹ لو۔
پہلی بات تو یہ کہ محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ اس ہونے والی محبت میں ملنے جلنے کا وقت کم ہی میسر ہوتا ہے جو وقت ملتا ہے اس میں ایک دوسرے کی خوبیوں پر نظر جاتی ہے عیوب کی طرف عموماً نہیں جاتی اور اگر جاتی بھی ہے تو نظر انداز کرتے ہیں یا اپنی محبت کی طاقت پر اتنا یقین ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک بار شادی کے بندھن میں بندھ گئے تو اس کی بری خصلتیں چھوٹ جائیں گی۔
شادی کے بعد وقت ہی وقت ہوتا ہے رومانس کے علاوہ عملی زندگی گھر گرہستی کی شروعات ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی شخصیت کی اچھی بری پرتیں کھلنے لگتی ہیں۔ اچھی سمجھ بوجھ رکھنے والے زندگی کا سنہرا اصول ” adjustment” اپنا کر اپنے آپ کو اس کے لئے راضی کرتے ہیں کہ ہم نے اس کی خوبیوں کو خامیوں سمیت اپنایا ہے۔ ایسے ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔
عائشہ کی خود کشی کے اسباب کیا تھے اس کا علم تو نہیں مگر اس خود کشی کے تناظر میں ، عائشہ کے متعلق نہیں ، چند عمومی باتیں عرض کرنی ہے:

عائشہ نے کہا اللہ سے میرے لیے دعا کرنا ! اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسے دینی شعور تھا۔ تو پھر اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ خود کشی حرام ہے اور موت کے مقرر وقت آنے تک اس کی روح بھٹکتی رہے گی۔ اسی عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں میں خودکشی کے واقعات کی شرح تقریباً صفر ہے۔
خودکشی کی وجہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی۔ قرآن کریم میں جو باتیں لکھی ہیں وہ ہوا ہوائی نہیں ہیں عین انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے کہ اگر ناچاقی ہو تو اسے اس ترتیب سے حل کریں :
١- بستر علحدہ کر لیں۔ ازدواجی الفت و مودت کا تقاضا ہے کہ اس علحدگی کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لیے کسک پیدا ہو اور وہ دونوں اپنی اپنی غلطیوں پر غور کریں نتیجہ کوئی ایک پہل کرے گا اور غلطی کا اعتراف کرکے پھر سے شیر شکر ہو جائیں گے ۔
٢- ضد اور انا کی شدت کسک کیا اپنے موقف سے نیچے آنے میں حائل رہی اور بات نہیں بنی۔ تو ان دونوں کے گارجین مل کر بیٹھیں دونوں کی بات سنیں جس کی غلطی ہو اسے تنبیہ کریں اور اس طرح مصالحت کرادیں۔

اگر بیوی سمجھتی ہے کہ اس شوہر کے ساتھ گزارا ممکن نہیں ہے اور اس کی معقول وجہ ہو، تو خلع لے سکتی ہے یعنی اپنے شوہر کو طلاق دے سکتی ہے۔
کیا یہ سارے دروازے عائشہ نے کھٹکھٹا لیے تھے ؟ اگر سارے آپشن آزما بھی لی تھی تو کیا خود کشی کا جواز حاصل ہو گیا ؟ اس نے غلط قدم اٹھایا اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔

جہیز ایک سماجی برائی ہے۔ اس کا مفہوم ہے کہ یہ برائی سماج کے ہر طبقے میں پائی جاتی ہے۔ الناس علی دین ملوکہم یعنی عوام اپنے شہر اور ملک کے حکمرانوں اور شرفا کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ ویسے تو جہیز کا رواج ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے یہاں غیر مسلموں سے آیا ہے لیکن بہر حال کم و بیش ملک کے ہر علاقے میں ہر برادری میں رائج ہے۔ دین سے اس کا ثبوت اور اس کے جواز کے لئے تاویل کی جاتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر جہیز دینا سوشل پریسٹج بن گیا ہے۔ چنانچہ امرا ، متوسط طبقہ اور ادنی طبقہ کے ہر بیٹی کے باپ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اوقات سے زیادہ جہیز دے۔ ضروری نہیں کہ لڑکا والوں کی طرف سے ڈیمانڈ ہی ہو۔ بعض ایسے بھی واقعات کا میں شاہد ہوں کہ دینی مزاج کا لڑکا اور اس کے والد نے منع کر دیا پھر بھی لڑکی والوں نے پہنچا دیا۔ بعض لوگوں نے سختی سے منع کیا تو پڑوسیوں نے شوشہ چھوڑا کہ لڑکا انجنیئر ہے ضرور کوئی کمی ہوگی ورنہ کیا وجہ کہ پان دکان والے کے بیٹے کو کار ملی اور اسے بائیک تک نہیں۔ یعنی آپ نہیں لینا چاہیں تو سماج لینے پر بعض اوقات مجبور کرے گا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے جہیز مخالف مہم امراء شرفاء اعلیٰ تعلیم یافتہ سے لے کر متوسط اور ادنیٰ طبقات میں چلا کر اس لعنت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ظاہر ہے امراء اور شرفا سے جب تک یہ ختم نہیں ہوگا متوسط اور ادنیٰ طبقات میں جلتا رہے گا۔
جہیز نہ لانے کی وجہ سے بعض گھروں میں بہوؤں کو طعنے دیے جاتے ہیں لیکن عموماً وہ کچھ دنوں کے بعد ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس کی شدت غیر مسلموں کی طرح کیروسین ڈال کر یا گیس سلنڈر لہرا کر مارنے کی طرح نہیں ہوتی۔
پولیس ریکارڈ میں گرچہ مسلمانوں کے خلاف بھی جہیز سے متعلق ظلم و زیادتی کے کیس درج ہوتے ہیں لیکن اصلا اس کی نوعیت میاں بیوی اور ساس بہو کے آپسی اختلافات اور جھگڑے کی ہوتی ہے لیکن پولیس میں درج کرانے کے لیے وکیل کے مشورے پر جہیز کا کیس بنایا جاتا ہے تاکہ ڈوری ایکٹ کے تحت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو۔
علماء کرام اور مفتیان عظام کو جہیز اور دختری حق کے مابین کوئی تطبیق کی صورت پر غور کرنا چاہیے اس لیے کہ والد کے انتقال کے بعد بھائی بہنوں کی شادی میں جو خرچ کرتے ہیں اسی کو دختری حق کی ادائیگی سمجھ کر بہنوں کو والد کے ترکہ میں حق سے محروم کردیتے ہیں اور گنہگار ہوتے ہیں۔