عائشہ عارف خان کی خودکشی پر مولانا ولی رحمانی کا اظہارِغم،کہا-بیٹیوں کو بچانے کے لیے سماج سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ضروری

پٹنہ:گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی عائشہ عارف خان کی سسرال والوں کے برے سلوک اور جہیز کے مطالبہ سے تنگ آکر سابر متی ندی میں کود کر خود کشی کرلینے کے واقعہ پر سماج کے ہر طبقہ سے رنج اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے ، وہیں دوسری طرف سماج سے جہیز جیسی برائی کے خاتمہ کی بحث بھی تیز ہوئی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی دل دہلا دینے والا اور اندوہناک واقعہ ہے ۔اس دلدوز واقعہ کو ایک حادثہ کے طور پر دیکھنا چاہئے اور اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، اس طرح کے واقعات کسی بھی سماج کے لیے افسوس ناک ہیں اور سماج کو اس کے وجوہات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ اس واقعہ سے تمام لوگوں کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے اورمعاشرے سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا چاہئے ۔ جہیز کے لیے سسرال میں لڑکیوں کو پریشان کرنا بہت گھٹیا حرکت ہے ، سسرال میں بہوؤں کے ساتھ خوش اخلاقی کا معاملہ ہونا چاہئے، انہیں پریشان نہیں کرنا چاہیے ۔ جہیز کے نام پر ان کو تنگ کرنا، بار بار طعنے دینا ، میکہ سے روپیہ اور سامان لانے کا مطالبہ کرنا ، انہیں ذہنی ٹارچر کرنا اچھے لوگوں کا کام نہیں ہے ۔ شریعت میں جہیز لینا اور دینا دونوں حرام ہے ، لیکن لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے ہیں ۔
مولانا محمد ولی رحمانی نے مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک اس سلسلہ میں چل رہی ہے ، اور تفہیم شریعت کمیٹی نے خاص طریقہ پر تمام صوبوں میں اجلاس کر کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے ۔ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس مسئلہ کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اس تحریک کا ساتھ دینا چاہیے، ہر انسان اپنے گھر سے اس کی شروعات کرے اور یہ عزم کرے کہ نہ اپنی یا اپنے بچوں کی شادی میں جہیز لینا ہے اور نہ بچی کی شادی میں جہیز دینا ہے ، پورے معاشرہ سے جہیز کی بیماری ختم ہونی چاہئے تاکہ اس طرح لڑکیوں کو انتہائی اقدام کرنے کی نوبت نہ آئے اور معاشرے کے اندر کوئی نامناسب صورت حال پیش نہ آئے ۔
جنرل سکریٹری بورڈ نے آگے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تمام انسانوں خاص طور پر مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکیں اور یہ محسوس کریں کہ جس گھر میں لڑکا ہے اس گھر میں لڑکی بھی ہے ، اگر وہ اپنی بہو کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے۔ تو ان کی بیٹی کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا مظاہرہ ہو گا۔ آپ کے گھر میں جو بہو ہے وہ بھی کسی کی بیٹی ہے ، جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کو کوئی تکلیف نہ دے تو آپ کو بھی چاہیے کہ جو بیٹی اپنا گھر بار چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے ، اس کو اپنی بیٹی سمجھیں اور اپنے کسی عمل سے اس کو ذہنی یا جسمانی تکلیف نہ پہونچائیں۔ ہر آدمی جب اس کی عادت ڈالے گا تو کسی بیٹی کے ساتھ بھی برا سلوک نہیں ہوگا۔ سماج میں اور خاندان میں توازن قائم کرنے کے لیے اس طرح کی بری رسموں کا پوری طاقت کے ساتھ بائیکاٹ کرنا چاہیے۔