عائشہ کی خود کشی پر غیر اسلامی رد عمل ـ یاسر ندیم الواجدی

احمد آباد کی بیٹی نے خود کشی ضرور کی ہے، لیکن اس پر بعض لوگوں کے ذریعے جہنم کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا ایک سطحی اور علمی افلاس کا حامل قدم ہے۔ اگر عائشہ نامی اس خاتون نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ لیکن نصوص کے رٹنے کو علم سمجھنے والے اور ان کو ہر جگہ کاپی پیسٹ کرنے والے افراد کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن حالات سے وہ خاتون گزری ہے وہ کسی بھی انسان کو شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار بنادیتے ہیں۔ آپ نے ویڈیو میں دیکھا ہوگا کہ وہ خاتون ایک طرف مسکراتی ہے، تو دوسرے ہی پل غم کے پہاڑ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اگر اس صورت حال کو آپ اس خاتون کے حالات سے مربوط کریں، تو علم نفسیات کا کوئی بھی طالب علم آپ کو یہ بتا سکتا ہے کہ اس بیماری کو بائی پولر ڈس آرڈر کہتے ہیں۔

اس بیماری میں انسان قوت فیصلہ کھودیتا ہے اور ایسا قدم اٹھا لیتا ہے جو عام انسان کبھی نہیں اٹھا سکتا۔ اگر ایسا شخص کسی دوسرے کو قتل کردے، تو ترقی یافتہ ممالک میں اس کو عام مجرمین کی طرح نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کا طویل علاج کیا جاتا ہے اور پھر مرحلہ وار انداز میں، اس کو معاشرے میں متعارف کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ہمارے علاقے سے ایک مسلمان شخص کو تقریبا بیس سال کے بعد مینٹل ہاسپٹل سے ریلیز کیا گیا ہے۔ یہ شخص بظاہر بالکل نارمل لگتا تھا، لیکن ماضی میں اسی بیماری میں مبتلا رہ کر کسی کی جان لے چکا تھا۔ ہسپتال میں رہتے ہوئے اس نے میرے ایک ماموں کے پاس بذریعہ فون حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کچھ کتابیں پڑھیں، ہسپتال میں کئی لوگوں کی ہدایت اور اسلام کا ذریعہ بنا اوراب طبی ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں ہسپتال سے باہر آکر ایک عام زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گزشتہ سال برطانیہ سے ایک صاحب نے مجھے فون کیا اور سوال کیا کہ ان کے ایک بھائی طویل عرصے سے ڈپریشن کا شکار تھے، یہاں تک کہ انہوں نے خودکشی کرلی۔ میں نے ایک مقامی عالم سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا کہ تمہارا بھائی تو جہنمی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے ان صاحب کی آواز بھرا گئی، وہ کہنے لگے کہ میں اپنا ایمان بہت کمزور محسوس کر رہا ہوں اور اس وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گیا ہوں۔

یہ وہی جہنمی سرٹیفیکیٹ والی ذہنیت ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسلامی تعلیمات پر شک کرنے لگتے ہیں اور بعض مرتبہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا عائشہ کو جہنم کا سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس حرکت سے عائشہ کے والدین کس قدر کرب واضطراب کا شکار ہوں گے، اگر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔

عائشہ کے بارے میں اگرچہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار تھی، لیکن اس احتمال کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ احتمال باقی ہے، خود کشی کا فیصلہ کرنا اسی ذہنی دباؤ کا نتیجہ مانا جانا چاہیے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا۔ اس آیت میں اللہ نے خودکشی سے منع کرنے کے بعد یہ بھی فرما دیا کہ اللہ تعالی تم پر رحم کرے، پھر یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص سرکشی اور ظلم کرتے ہوئے یہ حرکت انجام دے گا تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی عائشہ پر رحم کرے، اس کی مغفرت کاملہ فرمائے اور اس کے والدین کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*