آئینہ حیران ہے:کثیر الجہات وکثیر المعانی شاعری کا البم-پروفیسر محمد علی جوہر

(ڈپٹی کوآڑڈینٹر،سنٹر آف اڈوانسڈ اسٹڈیز،شعبۂ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)

’’آئینہ حیران ہے ‘‘ ڈاکٹر مشتاق احمد کی نظمو ںکا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر احمد اردو دنیامیں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں کہ اردو کے معاصر قلم کاروں میں ان کی ایک امتیازی حیثیت ہے اور وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ ان کی شعری اور نثری تحریریں اردو کے معیاری رسائل وجرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ ایک بیباک صحافی کے طورپر بھی ان کی ایک الگ شناخت ہے ۔ ان کا ہفتہ وار کالم علمی وادبی حلقے میں بڑے شوق وذوق سے پڑھا جاتا ہے ۔ اب تک ان کی بیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں پانچ انگریزی زبان میں بھی ہیں ۔ ڈاکٹر احمد اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی لکھتے ہیں اور وہاں بھی ادبی مسائل پر اپنی تعمیری فکر اور وسیع وعمیق نظر کا لوہا منوا چکے ہیں ۔ ڈاکٹر احمدجس قدر پیشۂ درس وتدریس سے وابستہ رہے ہیں اتنا ہی انتظامی امور میں بھی دخل رکھتے ہیں ۔ ان دنوں شمالی بہار کے تاریخی تعلیمی ادارہ سی۔ایم کالج ، دربھنگہ ، جہاں بارہویں درجہ سے پوسٹ گریجویٹ تک کی تعلیم کا نظم ہے ، اس کے پرنسپل ہیں۔ ان کی ادارت میں گذشتہ بیس برسوں سے ’’جہانِ اردو‘‘ جیسا ادبی ریسرچ جرنل شائع ہو رہاہے جو عالمی سطح پرمقبولیت حاصل کر چکا ہے ۔ اس جرنل کے معیار ووقار کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ یو جی سی ، دہلی نے اپنے ریفرڈ جرنل کی فہرست میں اسے شامل کر رکھا ہے ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کا خاص میدان تو تنقید وتحقیق ہی ہے مگر ان کو شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رہا ہے ۔ وہ بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں لیکن جدید نظم نگاری کو فروغ دینے میں بھی خاصے فعّال رہے ہیں۔
پیشِ نظر شعری مجموعہ ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ خالص نظموں پر مشتمل ہے اور مشمولہ نظموں میں نہ صرف فکر کی تازگی کا احساس ہوتا ہے بلکہ ان کے احتجاجی اور انقلابی ذہن کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔مگر دیگر احتجاجی اور انقلابی شعراء کی طرح کوئی گھن گرج دکھائی نہیں دیتی بلکہ شعریت ، غنائیت اورنشتریت کے ساتھ ساتھ محاسنِ اسلوب کی پاسداری نمایاں طورپر نظر آتی ہے۔
مختصر یہ کہ ’’آئینہ حیران ہے‘‘ کی نظمیں محض احتجاجی وانقلابی فکر کی آئینہ دار نہیں ہیں بلکہ کورونا جیسی مہلک وباکی آڑ میں عالمی سطح پر جس طرح کے واقعات وحادثات رونما ہوئے ہیں اور بالخصوص اپنے ملک ہندوستان میں جس طرح محنت کش طبقوں کے ساتھ سیاسی فریب ہوا ہے اور غیر انسانی رویہ اپنایا گیا ہے ان تمام فکری ونظری موضوعات کو شعری پیکر میں پیش کیا گیاہے۔بیشتر نظموں میں تاریخی شعور کی زیریں لہریں رواں دواں ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے عرصے میں شاعر اپنے کمرے میں بند ضرور رہے ہیں مگر ان کا کمرہ ’’جامِ جم ‘‘ یا’’جامِ جہاں نما‘‘بن گیاہے اور وہ اپنی تنہائی کے کرب کو جھیلتے ہوئے عالم گیر واقعات وحادثات کو لفظی پیکروں میں ڈھالنے میں مصروف رہے ہیں ۔ بلا شبہ لمحہ بہ لمحہ بدلتے خوفناک حالات خون کے آنسو رلانے والے تھے اور ایسے حالات ایک حسّاس فنکار کے لئے غوروفکر کی نئی دنیا آباد کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔یہاں ایک نظم ’’ہم شرمندہ ہیں‘‘ کا ذکر ضروری ہے کہ اس نظم کے بالاستیعاب مطالعے سے یہ حقیقت اجاگر ہو جاتی ہے کہ شاعر شعرگوئی کے بندھے ٹکے فارمولے کے حصار میں قید نہیں ہے بلکہ ایک بیدار مغز اور حسّاس فنکارافکارونظریات کی اشاعت کے لئے کس طرح سوچتا ہے اور اس کے لئے آزادانہ شعری اظہار کو اپناتا ہے اس کی نادر مثال نظم میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ نظم ملاحظہ کیجئے ؎
ہم نے سنا ہے
فرنگی ہمیں انسان نہیں مانتے تھے
تاریخ میں درج ہیں
ایسی ہزاروں دردناک کہانیاں
اور دادی ماں بھی سناتی تھیں
گورے حاکموں کے ظلم کی داستاں
اب بھی نصابوں میں شامل ہیں
حصولِ آزادی کی اذیت ناک حقیقتیں
مگر
ہمارے پُرکھوں نے
ہمیںدیکھنے نہیں دیا
غلامی کی وہ شبِ سیاہ
اپنی جا نیںگنوا بیٹھے
آباد کیا ہمارے لئے
دہلی، ممبئی اور پنجاب
ہم سب کے ہاتھوں میں
تھمائی اک ایسی کتاب
کہ جس کا ہے یہ منتر
’’بہوجن ہتائے، بہوجن سُکھائے‘‘
مگر ہم شرمندہ ہیں
ترے ہزار ہا میل کے سفر
ترے پائوں کے آبلوں کو دیکھ کر
ترے کندھوں پر بلکتی ہوئی
اداس معصومیت کو دیکھ کر
ہم شرمندہ ہیں
ترے بے سروساماں قافلے پر
ان دوائوں کی بارش دیکھ کر
کہ جن سے مارے جاتے ہیں
مضر کیڑے مکوڑے
ہم شرمندہ ہیں
کہ تم !
گائوںکے پیپل کی چھائوں دیکھ نہیں سکے
اپنے آدھے راستے سے
آگے قدم رکھ نہیں سکے
تم کھاتے رہے در بدر لاٹھیاں
تمہاری ماں بہنیں
پیٹتی رہ گئیں چھاتیاں
ترے چہرے پہچانے نہیں جاتے
تری نعش بھی کوئی لانے نہیں جاتے
لیکن، خبریں چل رہی ہیں
ٹیوٹ در ٹیوٹ آرہاہے
کہیں کوئی پریشانی نہیں ہے
یہ اور بات ہے
کہ سڑکوں پہ چل رہے
ہجوم کو میسر پانی نہیں ہے
ہم شرمندہ ہیں
تجھ سے بہت شرمندہ ہیں
کہ ہم گھروں میں بیٹھ کر
گرم چائے کی چُسکیوں کے ساتھ
ٹی وی پر ہر ایک بریک کے بعد
تمہیں تڑپتے ہوئے
اور کسی کو چہکتے ہوئے
دیکھ رہے ہیں
ہم شرمندہ ہیں
ہم شرمندہ ہیں!
نظم کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ شاعر نفسیاتِ انسانی کا نبّاض بھی ہے اور فلسفۂ زیست سے بخوبی آگاہ بھی ۔نظم آغاز سے انجام تک سحر افروز فضا قائم رکھتی ہے اور ہر ایک مصرع قاری کو آگے کے مصرعے کی قرأت پر مجبور کرتا ہے۔کیوں کہ نظم کی مربوطیت میں ایک جمالیاتی حسن بھی ہے اور معانی کی ایک نئی لہر کا احساس بھی ہوتا ہے ۔ نظم کی بُنت ہی کچھ اس طرح کی ہے کہ اگر ایک بھی مصرعہ کو ہٹا دیں یا اوپر نیچے کردیں تو پھرنظم کا ڈھانچہ متزلزل ہونے لگتا ہے۔ دراصل ہر ہر مصرعے میں شاعر کے دل کی کیفیات ومحسوسات اور ذہنی محرکات کارفرما ہے اور انہو ںنے ایسا شعوری طورپر نہیں کیا ہے بلکہ لا شعوری طورپر یہ عمل انجام پایا ہے ۔ اس لئے نظم میں ایک فطری پن پیدا ہوگیا ہے۔ یہ نظم جدید کی بنیاد ی خصوصیت ہے اور اردو شعریات میں اسے نامیاتی ارتقاء سے تعبیر کیا جاتاہے۔
ڈاکٹر مشتاق احمد بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں اور فنّی لوازم پر غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں ۔مشاہدات وتجربات کے شعری اظہار پر انہیں جو دسترس حاصل ہے وہ ہم عصرشعراء میں خال خال نظر آتی ہے ۔ اردو، فارسی ، انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی ادب کا وسیع مطالعہ کیا ہے ۔ا س لئے اس مجموعہ کی نظمو ںمیں اردو لفظیات سے ہی استفادہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہندی کے شعری لوازم اور شبداولی کا استعمال بھی بڑی خوبصورتی کے ساتھ کیا گیاہے ۔اس مجموعے کی ایک اہم نظم ’’نیا عہد نامہ‘‘ بھی ہے جو قارئین کی خصوصی توجہ کی طالب ہے ۔ نظم ملاحظہ ہو ؎
ہر شہر ویران ، ہر بستی اداس
تا حدِ نظر خاموشی، فضا محوِ یاس
ایسا تھا وہم وگماں؟
کہ ہوگا فاصلہ زندگی کا ضامن
قربتیں موت کی علامت
تنہائی ہم پہ مسکرائے گی
جدائی دل کو راس آئے گی
اک مرئی کو غیر مرئی کا خوف
کوئی ہمدم نہ کوئی غم شناس
ایک دوجے کو ہے دوریوں کا احساس
مگر ہے زندگی جینے کی آس
کہ ان آنکھوں نے دیکھا ہے
برسوں بعدیہ نیل گوں آسمان
اب اخباروں میں مر رہے ہیں
صرف اور صرف انسان
اب لباس کسی کی پہچان نہیں
کسی کے ہاتھوں میں کسی کی جان نہیں
اب سکوں ہے دونوں طرف
کہ ہمسایہ وبالِ جان نہیں
کوئی حرم سے ہے بیگانہ
کوئی صنم خانے سے
ہو ٗہوٗ کی صدا آتی ہے
اے مطرب میخانے سے
کتنی بدل گئی ہے یہ دنیا
اے کورونا
اک ترے آنے سے
ترے آنے سے!
عصری حسّیت کی ترجمان مذکورہ بالا نظم میں روحِ عصر کو شعری قالب میں ڈھالنے کا فنکارانہ ہنر دکھائی دیتا ہے ۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ شاعر کا تاریخی شعور بہت بلند ہے اور وہ مشاہدۂ کائنات کے ساتھ ساتھ تغیراتِ زمانہ سے بھی آشنا ہے۔ بالخصوص سیاسی جبر واستبداد اور سماجی ومذہبی مکروفریب سے خوب خوب واقف ہے ۔اسی لئے بیشتر نظموں میں روحِ عصر کی صدائے باز گشت سنائی دیتی ہے۔ شاعر نے اپنی ذہنی کیفیات اور محسوسات کو تخلیقی زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور یہ احتیاط بھی قائم رکھی ہے کہ اپنے دل کی اضطراری کیفیات کو جذبات کی تہذیب کے ساتھ پیش کریں۔اس مجموعے میں شامل تمام نظمیں کورونا وباسے پیدا ہوئے حالات وواقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ان نظموں میں لاک ڈائون سے پیدا ہونے والے انسانی مسائل اور انسانی مسائل سے پیدا ہونے والی کشمکشِ حیات کو شعری قالب میں ڈھالا گیاہے۔ اس لیے نظم کی تفہیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس وقت کے سماجی مسائل اور انسانی نفسیات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے کیوں کہ اس مجموعے کی ہر ایک نظم موضوع اور اسلوب کی رنگا رنگی کی بنا پر نہایت سنجیدہ مطالعے کا تقاضہ کرتی ہے۔بہ حیثیت مجموعی یہ نظمیں سیاسی اور سماجی نظام اصلاح و بہتری کی ضامن ہیں۔اس مجموعۂ کلام کی ایک خوبصورت نظم ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ ہے۔ نظم ملاحظہ کیجئے ؎
یہ بحر وبر
یہ حیوانات ونباتات
یہ سفرِ آفتاب
اور سکونِ جاں رات
جیسے تھے کل
آج بھی ہیں
کہ انہیں دعویٰ نہیں
اپنی شان واوقات کا
یہ سمجھتے ہیں خو د کو
عطیہ اس واحد ذات کا
مگر
ہم تھے کل جیسے
آج کہاں ہیں ویسے
کہ ہمیں دعویٰ تھا بہت
اپنے علم وہنر کا
ہم پلّہ سمجھ رہے تھے
خود کو اس عظیم ترکا
ہم رات کو دن بنانے چلے تھے
چاند پر بستی بسانے چلے تھے
پاکر رتبہ اشرف المخلوقات کا
بھول بیٹھے تھے سبق کائنات کا
پہچان بنا بیٹھے تھے ہم
دیر وحرم کے نام پر
ایک دوجے کے دشمن تھے ہم
دین ودھرم کے نام پر
دیکھ!
ہماری بستی کیسی ویران ہے
آباد شہر خموشاں اور شمسان ہے
آج دیکھ کر ہم کو آئینہ حیران ہے
کہ جو کل تھا ،یہ وہی انسان ہے ؟
اس نظم میں شاعر کی تخلیقی بصیرت ، سیاسی وسماجی شعور اور عصری حسّیت کی فنکارانہ پیشکش دکھائی دیتی ہے۔ایک خاص عرصے کے تناظر میں یعنی کورونا کی مہلک وبا سے پیدا شدہ مسائل اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے عالمی سطح پر پیدا شدہ مشکلات کے موضوعات پر میری دانست میں اردو کا یہ پہلا شعری مجموعہ ہے اور یہ مجموعہ نہ صرف ادبی اعتبار سے اہم ہے بلکہ سماجی وسیاسی مطالعے کے لئے بھی معاون ہو سکتا ہے کیوں کہ اب تمام علوم میں کورونا کی وباسے پیدا شدہ مسائل کا مطالعہ ایک خاص موضوع کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔
’’آئینہ حیران ہے ‘‘ کی بیشتر نظمیں قاری کو غوروفکر پر مجبور کرتی ہے ۔ بالخصوص ’’یومِ احتساب، میں چپ ہوں ، روشن اندھیرا، عنکبوت، پال گھر کے شہید سنت بابا کی چٹھی، کوزہ گر کی یاد میں‘‘ اور ’’لاک ڈائون کی عید‘‘ جیسی نظموں میں فنّی اور معنوی انفرادیت دکھائی دیتی ہے۔یہ نظمیں موضوع کے تنوع کے ساتھ ساتھ تخلیقیت اور شعریت کی خوبیوں سے مالا مال ہیں ۔ اس میں شاعر کی فطری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی ، سیاسی ، سماجی اور خصوصی طورپر جذبۂ انسانی کی خوبصورت مصوری کا تخلیقی اظہارہوا ہے ۔اس اعتبار سے ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ جدید اردو نظم نگاری کے باب میں غیر معمولی اہمیت کاحامل ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

  • جاوید اختر
    24 جولائی, 2020 at 7:07 شام

    مکرمی۔
    آئینہ حیران ہے پر تبصرہ خوب ہے۔ شاعر کا کلام بھی خوب ہے۔ وہیں تبصر نگار نے بھی خوب تجزیہ کیا ہے۔ میں مصنف اور تبصری تبصرہ نگار دونون کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • جاوید اختر
    24 جولائی, 2020 at 7:09 شام

    مکرمی۔
    آئینہ حیران ہے پر تبصرہ خوب ہے۔ شاعر کا کلام بھی خوب ہے۔ وہیں تبصرہ نگار نے بھی کیا خوب تجزیہ کیا ہے۔ میں مصنف اور تبصرہ نگار دونوں حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • جاوید اختر
    24 جولائی, 2020 at 7:15 شام

    مکرمی۔
    آئینہ حیران ہے پر تبصرہ خوب ہے۔ شاعر کا کلام بھی خوب ہے۔ وہیں تبصرہ نگار نے بھی کیا خوب تجزیہ کیا ہے۔ میں مصنف اور تبصرہ نگار دونوں حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ والسلام

  • جاوید اختر
    24 جولائی, 2020 at 7:19 شام

    مکرمی۔
    آئینہ حیران ہے پر تبصرہ خوب ہے۔ شاعر کا کلام بھی خوب ہے۔ وہیں تبصرہ نگار نے بھی خوب تجزیہ کیا ہے۔ میں مصنف اور تبصرہ نگار دونوں صاحبان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ والسلام

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*