آئینۂ مظفرپور – اسلم رحمانی

بی اے اردو آنرس، نتیشور کالج، مظفرپور

(مظفرپور کے 148 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی تحریر )

مظفرپور تاریخی عظمتوں اور رفعتوں کا امین ہے۔ یہ خطہ ہر عہد میں مذہبی ، ثقافتی، سماجی، تعلیمی، معاشی اور ادبی طورپر متحرک و فعال رہا ہے۔ مظفرپور بھارتی ریاست بہار کے 38 اضلاع میں سے ایک مردم خیز ضلع ہے۔ فی الوقت مظفرپور ترہت کمشنری کا مرکز ہے جس میں چھے ضلعے آتے ہیں۔ مغربی چمپارن( بیتیا) ،مشرقی

چمپارن( موتیہاری) ،شیوہر، سیتامڑھی، ویشالی اور مظفرپور۔

مظفرپور شمالی بہار کے سب سے بڑے تعلیمی، ثقافتی، ادبی، سماجی اور سیاسی مراکز میں سے ایک ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق جنوری 1875ء میں مظفرپور کو ضلعی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی۔147 سال بعد پہلی بار مظفرپور ضلع انتظامیہ کی طرف سے یکم جنوری 2023 کو مظفرپور کا 148 واں یوم تاسیس منایا جارہا ہے۔اس موقع سے درج ذیل سطور میں مظفرپور کی تاریخ ملاحظہ فرمائیں۔

تاریخی پس منظر :

قدیم زمانے میں مظفر پور (ترہت) کا ایک حصہ تھا۔ چھٹی صدی میں ہندوستان آنے والے چینی سیاح ہیوین سانگ کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ مہاراجہ ہرش وردھن کی حکومت میں ایک طویل عرصہ تک رہا۔تقریباً 11ویں صدی میں ترہت پر چیدی خاندان نے بھی کچھ عرصہ حکومت کی۔ 13ویں صدی کے درمیان، غیاث الدین تغلق ترہت کا پہلا مسلمان حکمراں بنا۔ سابق صدر شعبۂ اردو، بی آر اے بہار یونیورسٹی، مظفرپور و مظفرپور علمی ادبی اور ثقافتی مرکز کتاب کے مصنف پروفیسر محمد حامد علی خاں، 1958 میں مظفرپور گزیٹیر قلم بند کرنے والے ریونیو ڈویژن کے خصوصی آفیسر مسٹر پی سی رائے چودھری کے حوالے سے علاقہ ترہت میں پہلی بار فوجی پیش قدمی کرنے والے مسلم حکمراں غیاث الدین تغلق کی آمد کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

1323ء سے ہی مسلمانوں کا باضابطہ عمل دخل اس علاقہ ترہت میں ہونے لگا۔ چودہویں صدی عیسوی کے کم و بیش وسط میں بنگال کے گورنر شمس الدین حاجی محمد الیاس نے اس طرف رخ کیا۔( شمس الدین پور جو آج سمستی پور کہلاتا ہے اور حاجی پور انہیں کے نام سے منسوب ہے)۔ اس کی فتح مندانہ پیش قدمی نے گورکھپور، سارن، چمپارن، ترہت اور متھلا کو اسے کے تابع کردیا۔

بہار اتہاس پریشد کے سمینار( منعقدہ 30-31 / مئی 1976ء) میں علم تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر نول پرشاد سنگھ نے بھی اپنے مضمون (Trihut Region from Muslim Conquest to Sepoy Rebellion) میں اس کی وضاحت کی ہے کہ:

1345ء میں شمس الدین حاجی الیاس نے اپنی کامیابی کے بعد اس علاقے کو دو حصوں میں منقسم کردیا۔

استحکام حاصل کرنے کے بعد شمس الدین حاجی الیاس نے ترہت میں حاجی پور کو مستقر بناکر ایک خودمختار سلطنت قائم کرنے کی کاوش شروع کردی۔ چنانچہ اس کو سزا دینے کے لیے 1353ء میں فیروز شاہ تغلق نے علاقہ ترہت پر حملہ کیا۔حاجی صاحب کو شکست ہوئی اور سلطان فیروز شاہ تغلق نے بھوگیشور کو ترہت کا راجا مامور کیا۔ 1359ء میں فیروز تغلق نے دوبارہ حملہ کیا اور حاجی الیاس کے بیٹے اور وارث سکندر شاہ کو شکست دےکر ملک بیر افغان کو پورے ترہت کی جاگیر دےدی جس نے اس علاقے کے حکمراں گنیشور ولد بھو گیشور کو 1373ء میں قتل کا ڈالا۔ مقتول گنیشور کے وارثوں نے آخری تغلق شہنشاہ نصیرالدین محمود کے عہد میں ملک سرور خواجہ جہاں سے پناہ اور معاونت طلب کی جس نے جونپور میں مشرقی سلطنت کی بنیاد ڈالی تھی۔اسی کے عہد میں ترہت نے جونپور کے مشرقی حکمرانوں کی بادشاہت قبول کی اور 1460ء تک یہ علاقہ شرقیوں کی ماتحتی میں رہا لیکن ترہت اور متھلا کے راجاؤں کو اندورنی خودمختاری حاصل رہی۔ چودہویں صدی عیسوی کے اخیر میں 1495ء میں سکندر لودھی نے پورے علاقہ ترہت پر قبضہ کر لیا اور بھرت سنگھ کے بیٹے رام بھدر کو باجگزار بناکر اس خطے کی حکمرانی دےدی۔ سیاسی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اگست 1474ء میں افغانوں کے مضبوط مرکز حاجی پور پر مغل تاجدار شہنشاہ اکبر کا تسلط ہوگیا جس نے نظم و نسق کی سہولتوں کے لیے شمالی بہار کو چار سرکاروں میں منقسم کردیا۔ سارن، چمپارن، ترہت اور حاجی پور ۔1579ء میں اکبر نے پٹنہ پر فوجی یورش کرکے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا تو بنگال کو الگ کر کے ایک مغل گورنر رضا خاں جنھیں مغل شہنشاہ سے مظفرپور جنگ کا خطاب ملا ،بحال کیا اور حاجی پور اور ترہت کو پٹنہ میں شامی کرکے صوبہ بنادیا گیا۔ پھر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں سرکار ترہت کی تشکیل ہوئی۔ لیکن اس کا مرکزی مقام دربھنگہ بنایاگیا۔ آخر کار 1875ء میں مظفرپور کو ضلعی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی اور اس کی کمشنری پٹنہ برقرار رہی۔ 15/ اکتوبر 1856ء کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ ترہت کو پٹنہ میں شامل کیا جا چکا تھا۔ پھر 1907ء میں ترہت کو ایک ڈویژن کا درجہ مل گیا اور مظفرپور انھیں رضا خاں مظفر جنگ کے نام سے آباد ہوا کہ گورنر کے عہدہ سے سبکدوشی کے بعد انھیں اسی علاقہ میں 75/ بیگہا کی ملکیت دی گئی تھی جو سکندر پور سے سعدپورہ بشمول کنہولی اور سریا گنج تک تھی۔

(مظفرپور علمی ادبی اور ثقافتی مرکز، ص: 2تا4 سال اشاعت 1988 ناشر ادراک پبلی کیشنز، زاہدہ منزل سعد پورہ، مظفرپور)

ضلع کے یوم تاسیس کی تاریخ طویل مدت سے تلاش کی جارہی تھی۔ دی اسٹیٹسمین انگریزی روزنامہ میں شائع اطلاع کے ساتھ دی اسٹیٹسمین آکائیو سے ملی اطلاع سے اب پتا چلا ہے کہ یکم جنوری 1875ء کو گزٹ کے شائع خبر خط کے نمبر میں کیا گیا ہے۔ اسی کے مطابق مظفرپور ضلعی مجسٹریٹ پرنو کمار کی ہدایت پر یکم جنوری 2023 کو ضلع کا یوم تاسیس منانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

وجہ تسمیہ :

موجودہ مظفرپور اٹھارہویں صدی کے دوران وجود میں آیا۔ مغل گورنر رضا خاں مظفر جنگ کے نام سے وابستہ ہے۔ جن کے متعلق کہاجاتاہے کہ وہ برطانوی عہد حکومت میں تحصیلدار بھی تھے۔

خدمات:

انگریزوں کی ظلم و استبداد کے خلاف ملک میں برپا ہونے والے 1857 کی بغاوت کی چنگاری نے مظفرپور ضلع کے مجاہدین آزادی کے اندر بھی دوڑ پڑی تھی۔ وطن کو آزاد کرانے کی تحریک میں قدیم مظفرپور( ویشالی، سیتامڑھی، شیوہر ) نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جن میں مجاہدین آزادی شہید وارث علی، شہید کھدی رام بوس، شہید بھگوان لال، شہید بیکنٹھ شکل، شہید جبا سہنی، شہید امیر سنگھ،شہید نیرودھ سنگھ، شہید انوراگ سنگھ، شہید ایودھیا سنگھ، شہید حاجی مبارک علی، شہید حسن علی خان،شہید محمد مسلم، شہید ننھو میاں، شہید قربان علی،شہید رفیق میاں، شہید رحیم اللہ، مولانا شفیع داؤدی،مولوی عبد الوددو، منظور احسن اعجازی، مختار، واعظ الحق، ابراہیم بیگ، محمد اختر، حافظ نعمت اللہ اور محمد شمس الہدی سمیت متعدد مجاہدین آزادی نے نمایاں کردار ادا کیا۔

ادبی خدمات

مظفرپور کئی حوالوں اور کئی پہلوؤں سے اپنی مثال آپ ہے۔ قومی، ملی ،تہذیبی، ثقافتی، مذہبی اور علمی یہ سب حوالے اسی شہر کے ہیں۔ ایک اور حوالہ ادب و شاعری کا جس کا ذکر ناگزیر ہے۔

شعرائے مظفرپور کا تعارف:

شمالی بہار کے قدیم ترین شہروں میں مظفرپور ایک خاص تاریخی، علمی، ادبی اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔مظفرپور کی زرخیز اور مردم خیز سرزمین ازل سے علم و ادب کا گہوارہ ہے۔ روز اول سے یہاں ایسے ایسے جواہر پارے پیدا ہوئے۔ جنہوں نے شعر و سخن ادب اور صحافت سمیت متعدد میدان عمل میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اردو زبان کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مظفرپور میں بےشمار ادیب، فنکار، شعراء اور صحافی پیدا ہوئے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی منفردشناخت و پہچان بنائی۔ مظفرپور کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بی آر بہار یونیورسٹی مظفرپور کے سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر حامد علی خاں رقمطراز ہیں کہ:

بیسویں صدی میں( مظفرپور) میں کئی ادبی وثقافتی تنظیموں کا قیام عمل میں آیا جن میں خان بہادر سید احمد خاں وکیل نے 1921ء میں مسلم کلب کی بنیاد ڈالی تو حافظ شاہ رحمت اللہ(احقر مظفرپوری) (بانی مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور) نے 1926ء میں ‘بزم سخن’ چندوارہ کی بنیاد ڈالی اور 1936ء میں سید فضل الرحمن شہاب نے گلستاں ادب کی بنیاد ڈالی تو 1958ء میں نقی احمد نقی(بانی مدرسہ رشیدیہ مسجد و مسافر خانہ ایس کے میڈیکل کالج مظفرپور ) نے ‘بزم فیض قائم کی۔ اس کے بعد بھی کئی ادبی و ثقافتی تنظیمیں قائم ہوتی رہیں جن کے فیض سے یہاں کی باوقار ادبی نشستیں مستفیض ہوتی رہیں اور نسلوں کی آبیاری کا سلسلہ جاری رہا( جو تاہنوز جاری ہے)

(ضلع اردو نامہ مظفرپور 21-2020 ایوان اردو، ص: 31/ ناشر ضلع اردو زبان سیل مظفرپور، کلکٹریٹ، مظفرپور بہار)

مظفرپور کی ادبی خدمات اور یہاں کے شعراء کی شاعرانہ خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے نئی نسل کے نامور قلمکار منفرد نقاد،صحافی و مبصر حقانی القاسمی رقمطراز ہیں کہ:

لیچی مظفرپور کی شناخت کا صارفی حوالہ ضرور ہے، مگر اس سے اس شہر کی باطنی عظمت یا حشمت ظاہر نہیں ہوتی،اس کی داخلی توانائی اس کی تخلیق و تہذیب میں ہی مضمر ہے کہ دانش کی دنیا میں تخلیقیت ہی عظمت کا حوالہ بنتی ہے، تخلیق ہی اقداری نظا م کی تشکیل کرتی ہے،Enculturationکا فریضہ انجام دیتی ہے اور معاشرہ کو Anomieسے محفوظ رکھتی ہے۔

ہر سرزمین کی طرح مظفرپور کی بھی اپنی ایک شخصیت ہے ،جس کے داخلی اور خارجی اسالیب اسکی عمارتوں اور اشخاص کی شکل میں نمایاں ہیں، مگر اس کی شخصیت کا اصل انعکاس تخلیقی افراد میں اس طرح ہوتا ہے کہ شہر ایک شخص اورپھر انجمن میں تبدیل ہو جاتا ہے، زمین بھی اپنی شخصیت کی ترتیب و تنظیم کچھ اس طرح کرتی ہے کہ اس کا داخلی آہنگ اجتماعی وجود میں تحلیل ہو جائے اور پھر اسی سے شہر کے وجود کی مابعد الطبیعاتی کلیت منکشف ہوتی ہے اور شہر کی سوشیو۔ بایولو جی سے بھی آگہی ہوتی ہے۔

مظفر پور شہر کی شناخت کے تشکیلی اجزا کو استحکام تخلیق نے ہی عطا کیا ہے ،جو گو کہ فرد کی اظہاری قوت کا اشاریہ ہوتی ہے، مگر اسی سے وہاں کی اجتماعی تخلیقی توانائی کی فضا بھی تشکیل و ترتیب پاتی ہے۔

ادب کے مختلف شعبوں اور اصناف کو یہاں کے متو طن اور مقیم افراد نے جو وسعتیں عطا کی ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہاں کی زرخیز مٹی میں تجسس، تفحص، حسنِ تخیل اور ندرتِ اظہار کی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے ایسے بھی شعرا ہیں ،جن کی شاعری میں بے پناہ تخلیقی وفوراور کیفیتِ تحیر ہے

(ماہنامہ بزم سہارا، اکتوبر 2011)

مظفرپور کی ادبی خدمات کی قدر وقیمت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر حامد علی خاں مزید لکھتے ہیں کہ:

مظفرپور کی سرزمین نے شعر و ادب کے سلسلے میں جو اہم خدمات انجام دی ہیں ان کی قدر وقیمت کو ادبی تاریخ نظر انداز نہیں کرسکتی، ایسے گوہر گرانمایہ بھی یہاں منور ہوئے ہیں جو بہار کے دوسرے خطوں سے آکر یہیں سکونت پذیر ہوگئے اور اس،خاک سرزمین سے ابھرنے والے دانشوروں نے بھی تخلیقی ذہانت و بصیرت کی روایتوں کی تشکیل میں اہم حصہ لیا۔

(مظفرپور علمی ادبی اور ثقافتی مرکزص:10/ اشاعت 1988ء ناشر ادراک پبلی کیشنز، زاہدہ منزل، سعد پورہ مظفرپور )

مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں کہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں مظفرپور کے شعراء وادبا نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔یہاں کے شعراء نے اپنی معیاری تخلیقات سے علمی و ادبی فضا کو منور و تابناک بنادیا اور آج بھی ان کے تلامذہ اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو زبان وادب کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔

مظفرپور کے علمی اور ادبی افق پر جن دیگر تخلیق کاروں کی موجودگی ہمیشہ درج رہے گی ان میں صفیر بلگرامی، باقر مظفرپوری، احقر مظفرپوری، مضطر مظفرپوری، احسان رسولپوری، خوشدل مظفرپوری، شمس الضحٰی کاظمی، علامہ جمیل مظہری، شین مظفرپوری، جانکی ولبھ شاستری، رام ورکش بینی پوری،چندیشور پرساد نارائن سنگھ، ڈاکٹر حمید الدین عاصی، رحمت کریم روشن مظفرپوری، غافل مظفرپوری، خوشتر مظفرپوری، ڈاکٹر ظفر حمیدی، عبد اللہ کمال،مخفی مظفرپوری، ثاقب مظفرپوری، مولانا محمد ادریس، عین الحق منظر، جالب مظفرپوری، حضرت کھٹ پٹ مظفرپوری، حضرت نسیم بیڈھب، قیصر سمستی پوری ،پروفیسر نازقدری پروفیسر معراج الحق برق، پروفیسر فاروق احمد صدیقی، پروفیسر منظر اعجاز، ڈاکٹر جلال اصغر فریدی، اسد رضوی، محفوظ عارف، مطیع الرحمن عزیز، محمد خلیل الرحمٰن،منیب مظفرپوری، تمنا مظفرپوری، ان تمام کی ادبی فتوحات کے ذکر کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ ان کے ادبی نقوش ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

بقول عیبد الرحمن:

فہرست سازی ایک بہت نازک کام ہے کہ اس میں کچھ ناموں کے شامل نہ ہوپانے کا خدشہ بنا رہتا ہے۔

ممکن ہے یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہو میں اس کےلئے معذرت خواہ ہوں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مظفرپور میں آج بھی ادبی فضا موجود ہے،مگر اسی کے ساتھ یہ بھی کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ فضا جیسی خوشگوار ہونی چاہیے تھی ویسی نہیں ہے۔ روشن ماضی کی طرح حال اور مسقبل کیسا ہوگا مظفرپور کے تمام شعرا اور ادبا کو اس سمت سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔