ایڈورڈ سعید اور مسئلہ فلسطین ـ نگار سجاد ظہیر 

 

فلسطینی نژاد ایڈورڈ سعیدEdward Wadie Said زیر انتداب فلسطین میں یکم نومبر 1935ء کو پیدا ہوا، والد امریکن آرمی میں تھے، اس اعتبار سے وہ امریکی شہری تھا، اس کی ساری تعلیم امریکہ کی ہارورڈ یونی ورسٹی اور پرنسٹن یونی ورسٹی میں ہوئی اور وہیں کی کولمبیا یونی ورسٹی میں ادب کا استاد مقرر ہوا، وہیں 25/ستمبر2003ء کو انتقال ہوا اور نیویارک میں تدفین ہوئی۔

اپنی کتابOrientalism (1978ء) سے شہرت پانے والا ایڈورڈ سعید فلسطین کے مکمل حقِ خودارادیت کا زبردست وکیل تھا، اس حوالے سے اس کی کتاب The question of Palestineاستعماری ذہنوں اورسامراجی اسرائیل کو اس قدر ناپسند ہوئی کہ مغرب میں اس کتاب کاحصول مشکل ہوگیا۔ اس کتاب میں ایڈورڈ سعید نے صہیونیت کے مکروہ چہرے کوبے نقاب کیا ہے۔ مغربی دنیا میں فلسطین کے حوالے سے جو کچھ لکھا گیا وہ اسرائیلی نقطۂ نظر سے لکھا گیا ہے جب کہ یہ کتاب ایڈورڈ سعید نے فلسطینی نقطۂ نظر سے لکھی ہے۔ کتاب کا اسلوب ادبی ہے۔ اس کتاب میں مسئلہ فلسطین سے پیدا ہونے والے مزاحمتی ادب کی جھلکیاں جابجا دیکھی جاسکتی ہیں۔ سعید نے بعض ایسے تاریخی گوشوں سے بھی پردہ اٹھایا ہے جن تک بہتوں کی نظر نہیں گئی ہے۔کیمپ ڈیوڈ ایگریمنٹ کے مضمرات پرایک عقابی نظر ڈالی ہے۔ کفرقاسم،غزہ، مغربی کنارے اوریروشلم میں اسرائیلی دہشت گردی کے وہ واقعات بیان کیے ہیں جن کی نصف دنیا کو خبر ہی نہیں۔ سعید برملا کہتا ہے کہ میرا مسئلہ فلسطین کی بقا ہے اور فلسطین سے اس کی مراد آج کا کٹاپھٹا فلسطین نہیں، جنگ عظیم اول سے قبل کا فلسطین ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی دیرینہ خواہش ہے کہ ”مسئلہ فلسطین“ کودفن کردیاجائے، لوگ اس بارے میں بات نہ کریں، اسرائیلی استعماریت کو ڈسکس نہ کریں، کسی فورم پر یہ مسئلہ زیر بحث نہ لایاجائے جب تک سعید کی یہ کتاب چھپتی رہے گی، اسرائیل اور امریکہ کی اُمیدوں پر اُوس پڑتی رہے گی۔

اس کتاب کا ترجمہ شاہد حمید نے کیا ہے ،ترجمہ رواں اور معیاری ہے ـ حواشی دوطرح کے ہیں، وہ حواشی جو مصنف نے لکھے اور وہ حواشی جو مترجم کی ایزاد ہیں ۔ یہ حواشی مسئلہ فلسطین کی تفہیم میں مدد دیتے ہیں، البتہ کتاب میں ”اشاریہ“ Index کی غیر موجودگی کھٹکتی ہے،نیز پوری کتاب میں”صہیون“ اور "صہیونیت ” کے بجائے ”صیہون“ اور”صیہونیت “ کے ہجے استعمال کیے گئے ہیں ، جودرست نہیں ۔ اصل لفظ صہیون (Zion) ہے،یہ یروشلم کا ایک مشہور مقام ہے۔ کتاب بک کارنر جہلم، پاکستان سے سلیقے سے شائع کی گئی ہے ۔