عوام سے معذرت خواہ ہوں کہ میرا دور خوش حالی کے بغیر ختم ہوگیا: اشرف غنی

لندن :افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ یہ شدید دکھ کی بات ہے کہ میرے اقتدار کا باب بھی میرے پیش روؤں کی طرح استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے بغیر تمام ہوا۔ میں افغان عوام سے معذرت خواہ ہوں کہ میں اس کا مختلف اختتام نہ کر سکا۔اشرف غنی نے بدھ کو ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ مجھے 15 اگست کو طالبان کے کابل شہر میں داخل ہونے کے بعد محل کے سکیورٹی عملے کے مشورے پر ملک چھوڑنا پڑا تاکہ کابل کی گلیوں میں 1990 کی دہائی جیسی خونریزی نہ ہو۔کابل کی 60 لاکھ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بندوقوں کے دھانوں کو خاموش رکھنا واحد راستہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میری کابل سے روانگی کے بعد مجھ پر اربوں ڈالرز ساتھ لے جانے کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ یہ الزامات قطعی طور پر غلط ہیں۔ میں نے اپنے عہدِ صدارت میں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں۔میں نے اور میری اہلیہ نے اپنے مالی معاملات کو شفاف رکھا۔ میری اہلیہ کو خاندان کی جانب سے وراثت میں ملنے والے اثاثے بھی ان کے آبائی ملک لبنان میں سرکاری ریکارڈ پر موجود ہیں۔اشرف غنی نے اپنے اثاثوں کے آڈٹ اور چھان بین کے لیے ’اقوام متحدہ کے نمائندے یا کسی بھی غیر جانب دار باڈی‘ کو تحقیقات کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے قریبی ساتھی بھی باقاعدگی سے اپنے اثاثے پبلک آڈٹ کے لیے پیش کرتے رہے ہیں۔انہوں نے بیان میں کہا کہ میں نے ساری زندگی ایک خودمختار، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے جمہوری ریاست کے فارمولے کو واحد راستہ سمجھا ہے۔میں افغان عوام بالخصوص افغان سپاہیوں اور ان کے خاندانوں کی گزشتہ 40 برسوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ’میری افغان عوام کے ساتھ جڑت کبھی بھی متزلزل نہیں ہو سکتی اور یہی ربط باقی زندگی میں بھی میری رہنمائی کرے گا‘۔خیال رہے کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ کابل سے روانگی کے بعد ان کے ناقدین نے الزام لگایا تھا کہ وہ اپنے ساتھ پیسوں سے بھری چار کاریں اور ہیلی کاپٹر لے گئے ہیں۔