عوام پربوجھ ڈال کرسرکارخزانہ بھررہی ہے:کپل سبل

نئی دہلی:کانگریس نے ہفتہ کے روزپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پرحکومت کوگھیرتے ہوئے کہاہے کہ اس کے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈرکپل سبل نے بھی دعویٰ کیا کہ کورونا بحران کے وقت بھی ، بھارت میں بنگلہ دیش کے بعد پٹرول پر ٹیکس سب سے زیادہ 69 فیصد ہے اور حکومت عام لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فروری 2015 میں دہلی اسمبلی انتخابات کے وقت مودی نے کہاتھاکہ میں خوش قسمت ہوں اور عوام نے فائدہ اٹھایا، اس طرح خوش قسمت شخص کو ووٹ دیں۔ میں مودی جی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ اب خوش قسمت نہیں ہیں کیونکہ عوام پر بوجھ بڑھتا جارہاہے۔ حکومت کی قسمت پھوٹ رہی ہے اور وہ عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ براہ کرم جواب دیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟اہم بات یہ ہے کہ ہفتے کے روز پیٹرول کی قیمتوں میں 59 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 58 پیسے فی لیٹر اضافہ کیاگیا تھا۔ قیمت کاجائزہ 82 دن کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد پٹرول ڈیزل مسلسل ساتویں دن مہنگا ہوگیاہے سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرائس نوٹیفکیشن کے مطابق ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 74.57 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر75.16 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے ، جبکہ ڈیزل کی قیمت 72.81 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 73.39 فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہفتے کے روز پیٹرول کی قیمتوں میں 59 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 58 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ قیمت کا جائزہ 82 دن کے لئے ملتوی کیے جانے کے بعد پٹرول ڈیزل مسلسل ساتویں دن مہنگا ہوگیا ہے۔ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرائس نوٹیفکیشن کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 74.57 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 75.16 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے ، جبکہ ڈیزل کی قیمت 72.81 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 73.39 فی لیٹر ہوگئی ہے۔کپل سبل نے ویڈیو کانفرنس کے دوران کہاہے کہ مئی 2014 میں ، خام تیل کی قیمت فی بیرل $ 106 تھی ، جب کہ ملک میں پٹرول کی قیمت 71.40 روپے فی لیٹرتھی۔کپل سبل نے کہاہے کہ خام تیل کی قیمت 38 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے،لیکن پٹرول کی قیمت 75.14 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت اپنا خزانہ بھر رہی ہے ، لیکن بوجھ عام لوگوں پر پڑ رہا ہے۔کپل سبل کے مطابق ، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاتھاکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ، یہ واضح ہے کہ مرکزی حکومت ایک اور ناکامی ہے۔ کانگریسی لیڈر نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت،انتظامیہ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن جیسے جمہوریت کے چار اہم ستون صحیح طور پر کام نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کوملک کی معاشی حالت کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ لہٰذاپٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیاجارہاہے۔حکومت کے پاس محصولات کا کوئی ذریعہ نہیں ہے لہٰذا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے ۔