عوام کااعتمادعدلیہ کی سب سے بڑی طاقت،ججوں کو بے خوف ہوکرفیصلہ لینا چاہیے:جسٹس این وی رمن

نئی دہلی:سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس این وی رمن نے کہاہے کہ عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اس پر اعتماد ہے اورججوں کوتمام دباؤ اور پریشانیوں کے باوجود ان کے اصولوں کے بارے میں اٹل رہنا چاہیے اورجرات مندانہ فیصلے لینے چاہئیں۔چیف آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ وائی ایس آر جگن موہن ریڈی نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے حال ہی میں چیف جسٹس آف انڈیا کوخط لکھ کرجسٹس رمن پرالزام لگایاہے۔ اس پس منظر میںجسٹس رمن کے تبصروں کوخاص اہمیت دی جارہی ہے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے آر۔ لکشمن کے تعزیتی اجلاس میں ، جسٹس رمن نے کہاہے کہ عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت لوگوں کااعتمادہے۔کسی کو وفاداری ، اعتماد اور قبولیت حاصل کرناہوگی۔یہ پہلا موقع ہے جب ریڈی کے خط لکھنے کے ساتھ شروع ہونے والے تنازعہ کے بعد کسی عوامی تقریب میں جسٹس رمن نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ جج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے اور بے خوف ہوکر فیصلہ لے۔ کسی بھی جج کی یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود جر ات کے ساتھ کھڑے ہوں۔سابق جج کو یاد کرتے ہوئے جسٹس رمن نے کہاہے کہ ہم سب کو ان کی باتوں سے سبق لیناچاہیے اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، جس کی آج کے دور میں ضرورت ہے۔ریڈی نے 6 اکتوبر کو چیف جسٹس (سی جے آئی)کولکھے گئے خط میں الزام لگایاہے کہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کومیری جمہوری طور پر منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور تختہ پلٹنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ریڈی نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اورریاستی عدلیہ کے منصفانہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے پر غور کریں۔چیف منسٹر نے الزام لگایاہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے ٹی ڈی پی چیف چندرابابونائیڈوکے قریبی ہیں ۔