مسلمانوں کے تعلق سے آرایس ایس سربراہ کا بیان ،اویسی نے کہا: اب بھاگوت بتائیں گے کہ ہم خوش ہیں یا نہیں؟

نئی دہلی: ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ اصل میں انھوں نے ایک ہندی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان پوری دنیا میں سب سے زیادہ مطمئن ہیں۔ان کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ‘ہماری خوشی کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا اب بھاگوت نامی شخص بتائے گا کہ ہمیں اکثریت کے تئیں کتنا شکر گزار ہونا چاہیے؟ آئین کے تحت اپنی عزت نفس کو برقرار رکھنے میں ہماری خوشی ہے۔ ہمیں مت بتائیے کہ ہم کتنا خوش ہیں ،جب آپ کا نظریہ چاہتا ہے…‘۔
ان کے اس ٹوئٹ کے بعد ٹویٹر اور فیس بک پر رد عمل کا سیلاب آگیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو بھاگوت کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے آئین ہند کی خوبیاں گنوارہے ہیں ،تو دوسری طرف کچھ لوگ بھاگوت پر تنقید کر رہے ہیں اور مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہندوستانی مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوستانیت کی بات کی جاتی ہے تو تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور صرف وہی لوگ علیحدگی پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو مفاد پرستی کے شکار ہیں۔
ایک ٹویٹر صارف نینا راٹھوڑ نے کہا ‘کیا بھاگوت کو لگتا ہے کہ ہم بے وقوف ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ پچھلے 7 سالوں میں کیا ہوا ہے؟ ‘ اسی دوران انوپال داس نامی ایک اور ٹویٹر صارف نے کہا ‘اگر یہاں واقعتا مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے تو پھر مسلمان یہاں سے بھاگ کر پاکستان اور بنگلہ دیش کیوں نہیں چلے جاتے،الٹا وہیں کے لوگ ہندوستان میں پناہ لیتے ہیں‘۔
صحافی سواتی چترویدی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق چانسلر ظفر سریش والا بھی اس بحث میں شامل ہوگئے ۔ ظفر نے کہا کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں کی مدد کرنی ہے تو سب سے پہلے ان کو تعلیم دلائیے۔ اس پر سواتی نے کہا کہ مسلمانوں کو آئین میں ہندوؤں کی طرح حقوق ملنے چاہئیں۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ ہندوستان کے برعکس پاکستان نے کبھی بھی دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو بااختیار نہیں بنایا اور اسے خالص مسلمانوں کا ملک بنا دیا گیا۔ جبکہ ہمارے آئین میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہاں صرف ہندو ہی رہ سکتے ہیں یا یہ کہ یہاں صرف ہندوؤں کی ہی سنی جائے گی یا اگر آپ کو یہاں رہنا ہے تو آپ کو ہندوؤں کی برتری تسلیم کرنی ہوگی۔ ہم نے ان کو جگہ دی۔ یہ ہمارے ملک کی فطرت ہے اور اسی فطرت کو ہندو کہا جاتا ہے۔