Home نقدوتبصرہ محسنہ قدوائی کا زندگی نامہ:آزاد ہندوستان کے چھ عشروں کی سیاسی روداد-نایاب حسن

محسنہ قدوائی کا زندگی نامہ:آزاد ہندوستان کے چھ عشروں کی سیاسی روداد-نایاب حسن

by قندیل

 

ہندوستانی دانش ،ثقافت و سیاست کی تاریخ کے مختلف ادوار  میں متعدد خاندانوں کی اہم خدمات رہی ہیں، انھی میں سے ایک بارہویں صدی میں ترکی سے ہندوستان ہجرت کرکے آنے والے قدوۃ العلما قاضی معزالدین کی اولاد و احفاد کا خانوادہ بھی ہے۔ان میں بے شمار اہلِ علم و فضل ہوئے،جنھوں نے  گراں قدر علمی، ثقافتی و سیاسی کارنامے انجام دیے۔مفتی مظہر کریم (وفات:۱۸۷۲ء) اسی خاندان کے جید عالم و مفتی تھے، جو ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف فتواے جہاد دینے والے علما میں شامل تھے، جس کی پاداش میں دیگر بہت سی شخصیات کے ساتھ انھیں بھی کالاپانی کی سزا ہوئی تھی۔ممتاز مجاہد آزادی رفیع احمد قدوائی کا تعلق بھی اسی خانوادے سے تھا۔بعد کے دنوں میں بھی تہذیب و ثقافت اور علم و ادب  کے کئی روشن ستارے  اس خاندان کی مختلف شاخوں سے چمکے ،آج بھی کئی قدوائی اشخاص علم و نظر اور فکر و فن کی قندیلیں جلائے ہوئے ہیں۔ سینئر کانگریسی لیڈر اور یوپی و مرکزی حکومت میں متعدد وزارتوں پر فائز رہ کر ملک کی خدمت کرنے والی محسنہ قدوائی  کا تعلق اسی قدوائی خاندان سے ہے، ممتاز عالم دین،مفسر و انشاپرداز مولانا عبدالماجد دریابادی محسنہ قدوائی کے والد قطب الدین صاحب کے چچا تھے اور اس طرح وہ محسنہ صاحبہ کے دادا ہوتے تھے۔

محسنہ قدوائی ۱۹۶۰ سے اب تک کی ہندوستانی سیاست کا اہم ایکٹیو  حصہ رہی ہیں ، کانگریس کے بزرگ ترین اور تجربہ کار لیڈروں میں ان کا شمار ہے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ممبر اور ان دنوں چھتیس گڑھ کے رائے پور سے راجیہ سبھا کی ممبر ہیں۔ کم و بیش نوے سال کی قد آور خاتون سیاست داں کی خود نوشت سوانح اکتوبر ۲۰۲۲ء میں انگریزی اور اردو  دونوں زبانوں میں میں شائع ہوئی ہے۔ کتاب اپنے مواد کے اعتبار سے نہایت پر لطف  ہے اور اس کے مطالعے سے نہ صرف محسنہ قدوائی کی تقریباً ساٹھ سالہ سرگرم سیاسی و سماجی زندگی کی رو داد سے آگاہی ہوتی ہے؛ بلکہ اس طویل عرصے میں یوپی اور مرکزی حکومتوں کی بہت ساری کارکردگیوں، اس دوران رونما ہونے والی سیاسی اتھل پتھل، بہت سے اہم اور تاریخی ،سیاسی و سماجی سانحات، اس دورانیے میں قومی سطح پر ابھرنے والے درجنوں لیڈروں اور دیگر شخصیات وواقعات کے ان پہلووں سے بھی ہمارا سامنا ہوتا ہے، جن کے بارے میں اب تک ہمیں یا تو بہت زیادہ علم نہیں تھا یا اس علم کا زاویہ کچھ اور تھا۔ محسنہ قدوائی نے ۱۹۶۰ء میں حادثاتی طور پر محض اٹھائیس سال کی عمر میں ریاستی قانون ساز کونسل کی ممبر کی حیثیت سے میدانِ سیاست میں قدم رکھا اور ۱۹۷۸ء میں  اعظم گڑھ سے ۳۶۰۰۰ ووٹوں کے فرق سے لوک سبھاکے ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف ایمرجنسی کی مار جھیل رہی کانگریس کو یوپی میں نئی زندگی دی؛ بلکہ وہیں سے خود ان کا سیاسی قد بھی دراز ہونا شروع ہوا، جو بعد میں دراز تر ہوتا چلا گیا۔ انگریزی میں ان کی یہ دلچسپ خود نوشت My Life in Indian Politics کے نام سے ہارپر کالنز سے چھپی ہے، جبکہ اس کا اردو ترجمہ براؤن بک پبلی کیشنز علی گڑھ سے شائع ہوا ہے۔ اس کے راوی قدوائی خاندان ہی کے ایک نامور فرد ، سینئر صحافی ، سونیا گاندھی سمیت متعدد سیاسی شخصیات کے سوانح نگار، مشہور انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق ایسوسی ایٹ ایڈیٹراورکالم نگار و تجزیہ کار  رشید قدوائی ہیں۔ انگریزی میں یہ طریقہ بہت دنوں سے رائج ہے کہ کوئی بڑی شخصیت اپنا زندگی نامہ کسی قابلِ اعتماد صاحبِ قلم کو نقل کرواتی ہے یا وہ اپنا احوال اسے سنادیتی ہے اور وہ صاحبِ قلم  کتابی شکل میں اس کی جمع و ترتیب کا کام انجام دیتا ہے۔ اردو میں ایسی مثالیں شاذ ہیں، ایک مثال مولانا ابوالکلام آزاد کی پیش کی جاسکتی ہے، جنھوں نے اپنی رودادِ حیات جستہ جستہ اپنے ایک معتمد رفیق مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کو نقل کروائی تھی ، جو انھوں نے ’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘ کے نام سے ۱۹۵۸ء میں مولانا کی وفات کے بعد شائع کروائی تھی۔

محسنہ قدوائی کی یہ خود نوشت اردو میں ’ ہندوستانی سیاست اور میری زندگی‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے سات سیکشنز /حصے ہیں، جن میں انھوں نے اپنی بیتی بیان کی ہے۔ پہلا حصہ ہے’کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے‘ ،اس میں انھوں نے اعظم گڑھ کے ضمنی انتخاب میں اپنی کامیابی اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔ دوسرا حصہ ہے’مستقبل کا فلیش بیک‘، اس میں انھوں نے ذرا تفصیل سے اپنی سیاسی وابستگی کی کہانی، جواہر لال نہرو سے پہلی ملاقات، یوپی کانگریس کی صدارت، ایمرجنسی  کی وجہ سے  کانگریس سرکار کے خاتمے کے بعد دوبارہ اندرا گاندھی کو اقتدار میں لانے کے لیے ان کی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کی کوشش وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ اس حصے میں اندرا گاندھی کے ایمرجنسی کے فیصلے کو انھوں درست قرار دیا ہے، حالاں کہ ان کا ماننا یہ بھی ہے کہ اسے ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں صحیح سے نافذ نہیں کیا گیا ، جس کا کانگریس کو نقصان ہوا۔ اسی طرح خاندانی منصوبہ بندی سکیم کانگریس کے دیگر متعدد ترقیاتی سکیموں کی ایک شق تھی، جسے ان کے مطابق سنجے گاندھی نے دور اندیشی سے کام لیے بغیر شہروں اور دیہاتوں میں یکساں طورپر آزمانے  کی کوشش کی، جس کی وجہ سے کانگریس کو سخت عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا اور سنگھ نے عوامی غم و غصے کو بڑی خوبی سے استعمال کرلیا۔ تیسرا حصہ ’یہ سب کیسے شروع ہوا؟‘ کے عنوان سے ہے، اس میں انھوں نے اپنا خاندانی بیک گراؤنڈ بتانے کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیوں اور خصوصاً ستر کی دہائی میں کانگریس پارٹی میں ابھرنے والی گروہ بندیوں پر قدرے تفصیل سے لکھا ہے، اس میں انھوں نے متعدد صفِ اول کے کانگریسی رہنماؤں کی نفسیات، سیاسی توڑ جوڑ اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے مختلف غیر اخلاقی حربے اختیار کیے جانے کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں۔ چوتھا حصہ ہے’بیٹیاں اور دیگر یادیں‘ اس میں انھوں نے ایک ماں کی حیثیت سے اپنی بیٹیوں کی تربیت اور خود ان کے تعلق سے ان کے تاثرات وغیرہ کے ذکر کے ساتھ اپنی سیاسی زندگی کے اہم تجربات، غیر ملکی دوروں اور اندرا گاندھی کے قتل کیے جانے کے بعد راجیوگاندھی کی سرکار میں اپنی وزارت کے تجربات شیئر کیے ہیں۔ پانچواں حصہ ہے’ہندوستانی سیاست کا سفر‘ اس میں انھوں نے آزادی کے بعد سے لے کر عصرِ حاضر تک ہندوستانی سیاست میں رونما ہونے والے تغیرات، اتار چڑھاؤ، انقلابات اور اہم واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصاً فرقہ وارانہ سیاست کے ابھرنے اور پنپنے کے اسباب و وجوہات پر بھی گفتگو کی ہے۔ چھٹے حصے میں انھوں نے اپنے پارلیمانی حلقے میرٹھ میں اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اسی کی دہائی میں وہاں رونما ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ فساد اور ہاشم پورہ و ملیانہ کے انسانیت کش سانحات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ان واقعات کو روکنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو دور کرنے کی بے پناہ کوشش کی، مگر فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ خود مقامی کانگریسی لیڈران بھی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ماحول کو زہر آلود کرنے میں ملوث تھے، جس کی وجہ سے میرٹھ میں پے درپے متعدد فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے۔ ہاشم پورہ سانحے پر سابق ڈی جی پی آف اترپردیش ، ہاشم پورہ سانحے کے زمانے میں غازی آباد کے پولیس کپتان اور بعد میں اس واقعے کو منظر عام پر لانے اور عدالت تک پہنچانے میں پیش پیش رہنے والے وبھوتی نارائن رائے کا ورژن بھی قابلِ توجہ ہے، جسے انھوں نے اپنی کتاب ’ہاشم پورہ: ۲۲ مئی‘ میں تفصیل سے پیش کیا ہے، جو انگریزی میں ۲۰۱۶ء میں اور اردو میں ۲۰۱۸ء میں شائع ہوئی ہے۔

محسنہ قدوائی نے اُن دنوں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا قدرے احتیاط، مگر خاصی دیانت داری سے تجزیہ کیا ہے اور فرقہ وارانہ سیاست کے ابھرنے کی وجہ سے ان کی پارٹی یا خود ان کی اپنی سیاسی ساکھ کو جو نقصان پہنچا، اس کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اسی حصے میں انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد کانگریس پارٹی میں تنظیم کی سطح پر اپنی سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے مختلف ریاستوں مثلاً پنجاب، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، منی پور، آسام، میگھالیہ، ہماچل پردیش، بہار اور ہریانہ وغیرہ میں پارٹی کی تنظیم و استحکام کے سلسلے میں اپنی کارکردگی کا احوال بیان کیا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں یوپی اے سرکار نے انھیں مرکزی حج کمیٹی کی سربراہ بنایا تھا، اس عہدے پر رہتے ہوئے انھوں نے حج کمیٹی کو کو فعال رکھنے اور حاجیوں کی سہولت وغیرہ کے لیے جو اقدامات کیے ، ان کا ذکر ایک مستقل عنوان کے تحت کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’ساتھی اور مخالفین‘ کے عنوان سے ہے اور بہ ایں طور معنی خیز ہے کہ اس میں انھوں نے اپنی طویل سرگرم سیاسی زندگی کے کچھ اہم رفیقوں، راہِ عمل میں ملنے والے دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں اور سیاست دانوں کے تعلق سے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں ۔ اس کے مطالعے سے ان سیاست دانوں کی شخصیت و کردار کی دلچسپ پرتیں سامنے آتی ہیں۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی تو سرکاروں میں وہ وزیر رہیں ؛اس لیے کتاب کے گزشتہ ابواب میں  انھوں نے ان دونوں کے تئیں اپنے جذبات و احساسات اور تجربوں کا بھرپور اظہار کیا ہے، جبکہ اِس حصے میں سونیا گاندھی،ملائم سنگھ یادو،این ڈی تیواری،منموہن سنگھ،پرنب مکھرجی،احمد پٹیل، لالو پرساد یادو،ارجن سنگھ، مادھو راؤ سندھیا، راجیش و سچن پائلٹ،جتندرپرساد، وی پی سنگھ، چندر شیکھر، ایچ ڈی دیوے گوڑا، اندر کمار گجرال اور آخر میں اروند کیجریوال اور ان کی ’عام آدمی پارٹی‘ کے تعلق سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

الغرض مجموعی طورپر یہ کتاب خاصی دلچسپ ہے، اس میں نہ صرف خود محسنہ قدوائی کی سیاسی زندگی کے مناظر بکھرے ہوئے ہیں؛ بلکہ تقریباً چھ عشروں کی ہندوستانی سیاست/ سیاست دانوں کے بھی رنگارنگ چہروں سے بھی ہمارا تعارف ہوتا ہے۔ جتنے سیاست دانوں کا اس کتاب میں ذکر ہے، تقریباً سبھی ہمارے لیے جانے پہچانے ہیں، مگر ان کے بارے میں ہماری معلومات جو کچھ ہیں، اس کتاب کے مطالعے سے ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ واقعات کے تجزیے میں عموماًٰ انھوں نے خاصا محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ کانگریس پارٹی یا ہندوستانی سیاست میں انھوں نے ایک طویل عرصہ گزارنے اور تنظیمی و وزارتی عہدوں پر رہتے ہوئے اپنی کارکردگی وغیرہ کے ذریعے اپنی جو امیج  بنائی ہے، وہ ہِلنے نہ پائے۔ متعدد سیاست دانوں کے طرزِ عمل سے اختلاف اور بہت سے سیاسی معاملات وواقعات کے تئیں انھوں نے اپنی ناراضی کا بھی کھل کر اظہار کیا ہے، مگر سنجیدہ و متین اسلوب اور وضع دارانہ انداز میں ، جو یقیناً ان کی شخصی خوبی اور جس وجیہ خاندانی پس منظر سے ان کا رشتہ ہے، اس کا اثر کہا جائے گا۔ کتاب کا ترجمہ بہت رواں دواں، سلیس اور شگفتہ ہے، کہیں کہیں کچھ اٹکاؤ سا محسوس ہوتا ہے، مگر من حیث المجموع ترجمے کی زبان بڑی پر لطف  اور تخلیقیت آمیز ہے۔ کتاب کے شروع میں متعدد سینئر کانگریسی رہنماؤں: اے کے انٹونی، دگ وجے سنگھ، آنند شرما، بھوپیش بگھیل اور ششی تھرور وغیرہ کی اس کتاب اور محسنہ قدوائی کے تعلق سے رائیں شامل کی گئی ہیں۔ طباعت بہت دیدہ زیب اور خوب صورت  ہے، یہ کتاب بڑے لوگوں کی سوانح /خود نوشت سوانح کے مطالعے کا شوق رکھنے والوں کے علاوہ ہندوستانی سیاست کو پڑھنے،جاننے اور سمجھنے کا ذوق  رکھنے والوں کے لیے بھی خاصی دلچسپ ہے۔ حاصل کرنے کے لیے براؤن بک پبلی کیشنز علی گڑھ سے اس نمبر 9818897975پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment