عورت – رئیس صدیقی

عورت ہو، مرد نہیں ! اپنی اوقات میں رہا کرو ۔
آئے دن اپنے شوہر، شمیم کے طعنے سنتے سنتے اب حنا کا صبر جواب دینے لگا تھا۔
شادی سے پہلے ہی وہ دہلی کے جمنا پار علاقہ میں ایک سرکاری اسکول میں اردو ٹیچر ہو گئی تھی۔لیکن شمیم کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں تھی۔وہ ایک چھوٹے سے اردو اخبار میں سب ایڈیٹر تھا۔تنخواہ بہت کم تھی لیکن حنا کی بھی عمر ہو رہی تھی ۔اسنے سوچا کہ چلو ہم دونوں مل کر گھر چلا لیں گے۔
لیکن شمیم نے کبھی اس کے اس جذ بہ کی عزت نہ کی۔ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ جیتا کہ وہ مرد ہے ۔وہ شوہر ہے ۔اسنے اپنے بڑوں کو ہمیشہ اپنی بیوی کو کم تر سمجھتے دیکھاتھا۔ وہ دلی آکر بھی اپنی ذہنیت نہ بدل سکا۔
افسوس کی بات یہ تھی کہ باہر وہ خواتین کو اپنی لچھے دار باتوں سے الجھائے رکھتا لیکن گھر میں وہ اپنے اجداد کی طرح ہی شوہر نظر آتا۔ وہ بیوی کو صرف اپنی عورت سمجھتا۔
جب بھی وہ کہتا کہ تم عورت ہو ۔
تم کیا جانو عورت ہونے کے معنی !
حنا یہ کہنا چاہتی تھی لیکن کبھی کہہ نہ سکی ۔ہمیشہ وہ اپنے رشتہ کی آبرو کی خاطر آنسو پی کر رہ جاتی۔لیکن آج اس نے کچھ طے کر لیا تھا۔ کچھ ایسا جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
حنا، چائے کا کیا ہوا ؟
شمیم کی آواز میں کسی حاکم شوہرکا لب و لہجہ تھا ۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔خود بنا لو یا باہر جاکر پی لو۔
حنانے سپاٹ سا جواب دیا۔
شمیم کو اپنی عورت سے اس طرح کے جواب کی قطعی توقع نہیںتھی۔
وہ جھنجلاتے ہوے بولا۔
تو پھر شاید کھانا بھی باہر ہی کھانا پڑیگا !
اسکے جواب میں حنا کی طرف سے خاموشی تھی!
کیٔ دن تک دونوں ایک دوسرے سے منھ پھلائے رہے۔ دونوں کے درمیان خاموشی حائل رہی ۔گھر میں ہر چیز بے ترتیب ادھر ادھر پڑی رہتی۔ میلے کپڑے، ہر طرف دھول، بدبو، منحوس سا ماحول اور گھر میںاندھیری سی خاموشی نے شمیم کو کسی حد تک توڑ دِیا۔ وہ ایک دن خود ہی بولا۔
تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے ۔ آؤ چلو ، ڈاکٹر کو دکھادیں۔
حنا کی سمجھ میں آگیا کہ شمیم نے ہتھیار ڈال دئے۔ اسنے سوال کیا۔
فکر میری ہے کہ اپنے آپکی ؟
اِسپرشمیم بِپھر گیا۔ اُس کے اندر کا مرد پھر جاگ اُٹھا۔وہ چلاتے ہوے بولا۔
لو، شروع ہو گیٔ نخرے۔ہو تو آخر عورت۔عورت کا ہتھیار ہیں۔ نخرے دکھانا، رونا، پھیل مچانا ، ضد کرنا، اپنی بات منوانا۔اسی لیے بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ عورت کے تریا چرتر کو کوئی نہ جانے!
اِس پرحنا پھٹ پڑی۔اسکے اندر کی خاموش عورت بول پڑی۔
تم کیا جانو عورت ہونے کا مطلب !
عورت ہے تو اسکے وجود سے مرد ہے۔
ہر دور میں، ہر طور پر، مرد اپنی پیدأیش سے لیکر آخری سانس تک ، عورت پر ہی منحصرہے ۔
عورت مرد پر بوجھ نہیں ہے۔عو رت مرد کا سہارا ہے، دوست ہے ،محبت ہے، ایثار ہے،تسلی ہے، سکون ہے،بھروسہ ہے ،گھر ہے، ایک جذباتی اور روحانی رشتہ ہے۔
کیا تم عورت کے بغیر زندہ رہ سکتے ہو ؟
اپنے آپ کو حاضر دماغ اور حاضر جواب سمجھنے والا تیز طرار شوہر اپنی عورت کے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں الجھ کے رہ گیا !!!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*