عورت تو جذباتی ہے !-ام ہشام

کہا اور سمجھاجاتا ہے کہ عورت بڑی جذباتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی قوت فیصلہ میں بڑی کمزور ثابت ہوتی ہے۔ لیکن  میرا یقین ہے کہ یہ جذبات  کی زیادتی ہی اس کی سب سے  بڑی مضبوطی اور اللہ کا دیا گیا ایک انمول اور منفرد تحفہ ہے جو کائنات میں صرف اسے ہی عطا کیا گیا ہے ۔

اس کی قوت فیصلہ اگر اس کے جذبات کے تابع نہ ہوتی تو وہ شوہر کی بے وفائی،ناروا سلوک اور ناقدری  کے باوجود  شوہر کی دہلیز پر ساری عمر صرف اس کے نام پر نہ گزار دیتی بلکہ کوئی  فیصلہ لے لیتی۔ ہر بار شوہر کی زیادتی پر نم پلکوں سے  اپنوں سے اپنی زندگی کا کرب چھپاکر یہ نہ کہہ رہی ہوتی کہ "سب ٹھیک ہے، میں یہاں بہت اچھے سے ہوں، آپ سب اپنا حال بتائیں ۔”

جذبات اس کی کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی ہے۔ اگر وہ جذباتی نہ ہوتی تو شاید اب تک پوری دنیا ماں کا دل دُکھانے کا عتاب جھیل رہی ہوتی ۔ یہ تو اس کے جذبات ہیں کہ وہ اولاد کے ذریعے  ستائے جانے پر بھی  اللہ کے آگے اس کی بہتر دنیا وآخرت کے لئے دست دراز کرتی ہے ۔ اس کے جذبات ہی ہیں جن کی وجہ سے زندگی میں آنے والے تمام پلوں میں وہ خود کو ڈھالنا بخوبی جانتی ہے ۔

باپ کا گھر چھوڑ کر کسی اجنبی کے ساتھ محض صرف اس لئے چل پڑتی ہے کہ اس کے پاس ہر ماحول، ہر کیفیت میں ڈھل جانے والے جذبات ہیں ۔

چوہے ،چھپکلی ،کاکروچ  سے خوف کھانے والی نازک اندام ایک دوشیزہ جب ماں کے کردار میں ڈھلتی ہے تب یہی اپنی اولاد کے لئے "ون مین آرمی” بن جاتی ہے ۔ تن تنہا ایک مکمل فوج  ہوتی ہے جس میں اپنی اولاد کے لئے سب کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا ہے،اس لئے  اب کبھی نہ کہنا کہ عورت جذباتی ہوتی ہے اور اگر کہہ دیا تو یہ نہ سوچنا کہ یہ جذبات اس کی کمزوری ہیں ۔

اگر وہ جذباتی نہ ہوتی تو ہنستے ہنستے اپنا حق وراثت اپنے بھائی کو نہ دے رہی ہوتی یا اپنے حصے سے سبک دوشی کا اعلان نہ کرتی ۔ قدرت کا اصول ہے کہ بیک وقت ایک ہی چیز دو مختلف چیزوں پر الگ الگ طرح کے اثرات مرتب کرتی ہے بعینہ جذبات کا معاملہ ہے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*