عورت کا کرداراور اقبال کا فکری نظریہ-کوثر حیات اورنگ آباد

 

آج تمام عالم میں برصغیر کے عالمگیر شہرت یافتہ عظیم شاعر و فلسفی ،مفکر ، مصلح قوم، اُخوت کے پیکراور دانائے قوم ڈاکٹر سر محمد اقبال ؒ کو ان کی ادبی و علمی بے لوث خدمات کی وجہ سے خراج تحسین پیش کیاجارہا ہے ۔یوں تو علامہ کی شہرت اور مقبولیت اردو اور فارسی زبانوں میں بہت زیادہ ہے ۔ مگر اقبال نے جو رنگ ، لب و لہجہ اردو زباں کو بخشا وہ منفرد اور مثالی ہے ۔اقبال نے اپنے کلام میں جا بجاء مسلمانوں کو اپنا ماضی یاد دلایا ہے ۔ بقول اقبال

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا

اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

ان کا ماننا تھا کوئی بھی قوم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے اسلاف کی تاریخ سے واقف نہیں ہوتی اور اپنے اسلاف کے ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوتی ۔ اقبال کی شاعری روح کو جھنجھوڑنے والی ، ضمیر کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ ان کے فلسفہ میں ایک درس اور پیغام ہوتا ہے ۔ان کے کلام میں مایوسی اور ناامیدی کو بیداری میں تبدیل کرنا اور قوم میں اعلی اقدار پیدا کرنا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ انسانوں کی تربیت اور خود شناسی کا اہتمام کیا ۔

عورت کے حوالے سے جو تصورات علامہ اقبال کے کلام میں ہیں وہ پہلے کسی اور شاعر کے کلام میں موجود نہیں ہیں ۔ انہوں نے دیگر شعراء کی طرح عورت کے خدو خال اور ظاہری خوبصورتی کے بجائے عورت کے پاکیزہ وصف کو اس طرح پیش کیا کہ جس کی بدولت غزل و نظم کو نئی بنیاد ملی جو آج بھی ایک نظیر ہے ۔

عورت پر اقبال کی شاعری صرف غزل کا شعار نہیں بلکہ ان کی نظر اور کلام میں عورت قابل تکریم ہستی ہے ۔ چاہے وہ ماں ، بیٹی ، بہن اور بیوی کے روپ میں ہوں ۔ عورت کو رب کائنات نے جوعظمت عطا کی وہ ہر اس کردار میں ا پنا ایثار ، قربانی ، محبت، شفقت اور بے لوث خدمات کا پیکر ہوتی ہیں۔ علامہ اقبال نے عورت کی ان خوبیوں اور اوصاف کو مختلف مثالوں کے ذریعہ اپنی نظموں میں ڈھالا ہے ۔

تاریخ اسلامی اگر دیکھیں تو ایسی عظیم خواتین کی مثالیں موجود ہیں جو تمام امت کی خواتین کے لیے رہبری کی عمدہ رہنما اصول ثابت ہوگی۔ علامہ اقبال نے جہاں بیٹی کی تربیت کا ذکر کیا وہیں بیٹی کی تعلیم کی بھی ترغیب دی ہے ۔ مگر ساتھ ہی جدیدیت کے حاوی ہوتے غلبہ سے بچنے اور محفوظ رہنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ انہیں یہ فکر ہر لمحہ لاحق رہتی کے جدید تعلیم عورت کو اس کے مقصد حقیقی سے دور نہ کردے ۔ اپنے اشعار کے ذریعہ وہ درس دیتے ہیں کہ دینی تعلیم زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ عورت کی بنیاد دین کے عالمگیر اصولوں پر ہونی چاہئے ۔

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

ہے حضرت ا نساں کے لیے اس کاثمر موت

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن

ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

اقبال ’’جاوید نامہ ‘‘ میں ایک مثالی بیٹی شرف النساء بیگم کا ذکر کرتے ہیں جو نواب خان بہادر خان کی بیٹی اور پنجاب کے گورنر نواب عبدالصمد خان کی پوتی تھیں ۔ جو اپنا بیشتر وقت تلاوت قرآن پاک میں صرف کرتیں اور اس دوران ایک مرصع تلوار ہمیشہ ان کے ہمراہ رہتی کم سنی میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ اور ان کی یہ نصیحت تھی کہ ان کی قبر اسی مقام تلاوت پر بنائی جائے اور قرآن اور ان کی تلوار کو ان کی قبر کے تعویذ پر رکھا جائے  ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا عورت سے متعلق وہی نظریہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے متعلق ہے ۔ وہ عورتوں کے لیے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتداء سے مروج ہے ۔

ڈاکٹر علامہ اقبال بہن کے رشتہ کے وجود کی اہمیت کوفاطمہ بنت خطاب خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ فاروق کی بہن کے مضبوط کردار کے ذریعہ اجاگر کیا ہے ۔ اس میں علامہ اقبال اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول نہیں کیا جبکہ ان کی بہن اور بہنوئی دونوں نے اسلام قبول کرلیا تھا جب بحالت غیض و غصہ عمر بن خطابؓ بہن کے گھر جاتے ہیں اور فاطمہ بنت خطاب کی قرآن کی تلاوت کے الفاظ حضرت عمرؓ کے کانوں پر پڑتے ہیں اور ان ہی الفاظ کی تاثیر حضرت عمرؓ کے دل پر ثبت ہوتی ہے ۔ اسے سن کر وہ جو نعوذ باللہ آپ  ؐ  کو قتل کا ارادہ کررہے تھے وہ ترک کرکے آپؐ کے پاس جاکر کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ہیں۔ ایک بہن کے مضبوط کردار نے انہیںؓ  صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی ہے ۔  اس واقعہ کو اپنے کلام میں پیش کرکے علامہ اقبال نے عورت کی عظمت اس کے کردار کی مضبوطی کو پیش کیا ہے ۔ جس نے یہاں رہبر اور رہنما کا کردار ادا کیا ہے ۔ آپ کلام کے ذریعہ یہ بات پیش کرتے ہیں ۔

ترجمہ  : تو جانتی ہے کہ تیری قرأت کے سوز نے عمر کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔

اسی طرح علامہ اقبال اپنے کلام میں حضرت فاطمہ ؓ کی مثال پیش کرتے ہوئے بیوی کا بلند مقام و عظمت بیان کرتے ہیں۔ اس میں وہ حضرت فاطمہ ؓ کی حضرت علی ؓ کے تئیں وفا شعاری اور توکل کا خوبصورتی سے ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح وہ نہایت سادہ اور مشقت بھری زندگی بسر کررہی تھیں۔ رحمۃ اللعالمین نبی ؐ آخری الزماں کی بیٹی شوہر کے گھر اپنے ہاتھ سے کام کرتیں اور جو تسلیم و رضا کا پیکر تھیں،ساتھ ہی وہ ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتیں ۔

اپنے اشعار کے ذریعہ علامہ اقبال عظیم بیٹی کا کردار رو برو کرواتے ہیں ۔ ان کی فرمانبرداری اور دین پر ثابت قدمی جو بے شک آج کی ہر عورت کے لئے قابل تقلید ہے پیش کرتے ہیں

نوری اور آتشی اس کے فرمانبرداری ہیں

شوہر کی مرضی میں اس کی مرضی ہے

وہ جس کی پرورش صبر و رضا میں ہوئی ہے

چکّی پیستے ہوئے بھی اس کے لبوں پر قرآن جاری ہے

سب سے اہم اور قوی کردار کی طرف آتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے مثنوی رموز بے خودی میںایک حدیث مبارکہ کو اس طرح بیان کیا ہے

گفت آن مقصود و حرف کن فکان زیر پائی امہات آمد جنان

ترجمہ  :  اس مقصود حرف کن فکان (حضرت محمدؐ ) نے فرمایا کہ ماں کے پیروں تلے جنت ہے ۔

رموز بے خودی میں علامہ اقبال کہتے ہیں ؛

’’سیرت فرزند ہا ازامیات‘‘

ترجمہ  :  اولاد کی اچھی سیرت ماں کی (تربیت) کی وجہ سے ہی ہے ۔

عورت کو ماں کی صورت میں عظیم مرتبہ حاصل ہے صرف اس وجہ سے کہ ماں اپنی اولاد کی تعلیم اور تربیت دلجمعی سے کرتی ہیں ۔ اقبال قوم کی مائوں کے سامنے ماؤں کا وہ کردار پیش کرتے ہیں جو نیک سیرت فرزند قوم کو دیتی ہیں جوکہ قوم کی ترقی کے ضامن ثابت ہوتے ہیں ۔ ماں بچہ کی پہلی درسگاہ ہے۔ احکام خداوندی اور نظام خداوندی کو اپنے کلام میں واقعات سے مزین کرکے خو داپنی کامیابی کی وجہ اپنی ماں کی تربیت بتاتے ہیں جو ان کے خاندان کی سربلندی کی وجہ بنی ۔ ان کی والدہ نے ان پڑھ ہونے کے باوجود دیں اور دنیا دونوں اعتبار سے ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ وہ اپنی ماں کی ہمت افزائی کو زندگی کے مراحل میں مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت مانتے ہیں ۔ بانگ درا میں وہ اپنی نظم ’’مرحومہ والدہ کی یاد میں‘‘  رقم طراز ہیں کہ

دفتر ہستی میں تھی زرین ورق تیری حیات

تھی سراپادین و دنیا کا سبق تیری حیات

قطع تیری ہمت افزائی سے یہ منزل ہوئی

میری کشتی بوس لب ساحل ہوئی

علامہ اقبال نے جابجا تاریخ ساز خواتین کے کردار کو اپنے کلام میں پیش کیا ہے جو آفرین ملت ہیں جوامت کے لیے مثال ہیں۔ماں کے مقام اور عظمت کا ادراک اپنی ذاتی زندگی سے کرتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنی نظم جو کہ مرثیہ کی طرح ہے ماں کو سب کی ماں بنادیا ہے ۔ جگہ جگہ وہ اپنے نظریات اور فلسفہ کو اشاروں میں پیش کرتے ہیں۔ ہر چند کے امام بی بی پڑھی لکھی نہیں تھیں اس کے باوجود علامہ اقبال کی تربیت میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ۔

تقدیر کے مقابلے میں انسان کی بے بسی و بے چارگی کا نقش ابھرنا ایک قدرتی بات ہے ۔ اسی لیے نظم کے آغاز میں وہ فرماتے ہیں

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی ہے

پر وہ مجبوری وہ بے چارگی ہے

علامہ اقبال رب کائنات کے کارساز ہونے کا احساس دلاتے ہیں کہ ہر چیز قادر المطلق کے ہاتھ اور طئے شدہ ہیں ۔ آسماں، سورج، چاند سبھی اس ذات کے سامنے مجبورہیں ۔ تیز رفتار ستارے بھی اللہ تبارک تعالی کے مرہون منت ہیں ۔ ہر ذی روح ، جاندار، بے جان تمام کے تمام اللہ تعالی کے احکامات کی عمل آوری کررہے ہیں۔سورج کا غروب ہونا ، چاند کا نکلنا ، باغ میں کلیوں کا چٹک کر پھول بننا حتی کہ بلبل کے نغمہ سے لے کر ضمیر کی آواز تک اس مالک حقیقی کی دسترس میں ہے ۔

علامہ اقبال اس نظم کے ذریعہ اللہ تعالی کی لازوال نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ماں کے گزر جانے کے صدمہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ

’’زندگی کا باغ ماں کے جانے سے ویران ہوگیا ہے ۔ماں کی جدائی کا غم ایسا ہے کہ نہ خوشی کے موقع پر ہنس پاتا ہوں اور نہ غم کے وقت آنسو نکلتے ہیں ۔ انسان کتنا ہی صابر و شاکر کیوں نہ ہو زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ بے اختیار آنسو بہانے پر مجبور ہوجاتا ہے

یہ تیری تصویر قاصد گریہ پیہم کی ہے

آہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہے

لیکن ماں کی تصویر ،ان کاتصور علامہ اقبال کے آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ’’ میری حکمت دانائی سب دھرے رہ جاتے ہیں ماں کے غم کے سامنے ۔‘‘ماں سے دوری کا غم درد کا ایسا عرفان ہے جس سے عقل کی رسائی ممکن نہیں ۔اپنی نظم میں بڑی خوبصورتی سے ماں کا ذکر کرتے ہیں کہ

’’مرحوم والدہ کی یاد انہیں حال و ماضی کا خوبصورت امتزاج دیتی ہے ،ان کا بچپن یاد آجاتا ہے ۔وہ ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں جب ان کا جسم کمزور تھا اور وہ بولنے سے بھی قاصر تھے واحد ماں وہ ہستی تھیں جو ان کی طاقت بنتی اور بغیر بولے بھی ان کا مدعا سمجھ لیتی تھیں ۔وہ شکر گزار ہے کہ ماں کی توجہ اور تربیت کی بدولت ہی ان کی خوش گفتاری کے چرچے ہورہے ہیں۔ ‘‘

بے شک ماں دنیا کی واحد ہستی ہے جس کے سامنے عالی سے عالی مرتبہ انسان اپنے آپ کو چھوٹا سا بچہ محسوس کرتا ہے ۔ ماں کی محبت و شفقت ایک ایسا جذبہ ہے جس سے ہر عمر میں انسان سیراب ہونا چاہتا ہے ۔ ماں کی آغوش ایسی جگہ ہے کہ اس کے سائے میں آکر ساری تکالیف ذہن سے محو ہوجاتی ہے ،مانو وہ ایک گمشدہ جنت ہے ۔

جب انسان اگر وطن سے دور بھی ہو تو ماں بے صبری سے خط کا انتظار کرتی ہیں۔ اپنی فریاد کے ذریعہ اقبال واضح کرتے ہیں کہ ماں آدھی رات کو اولاد کی بہتری کی دعائیں مانگتی ہیں ۔ اور جب وہ اس دارفانی سے کوچ کرجائے تو کون ہوگا جو نصف شب کو اپنی اولاد کے لیے دعائیں مانگے گا ۔

اقبال ماں کے اعلی مقام کو کُل انسانیت کے سامنے اس طرح رکھتے ہیں کہ ماں کی زندگی دین و دنیا کے حوالے سے ایک سبق کی مانند تھی۔ زندگانی کی آب و تاب ماں کی عرق ریزی کا نتیجہ ہے مگر جب وہ اس قابل ہوتے کہ اپنی ماں کی خدمت کرسکیں والدہ نہیں رہی ۔ ماں کی خدمت کا خواب ان کے دل میں ہی رہ گیا ۔وہ اس بات کا بھی ادراک کرتے ہیں کہ ان کی کمسنی کے دور میں ان کے بڑے بھائی نے ماں کی بہت خدمت کی ۔ پھر ان کا غم کتنا زیادہ ہوگا وہ تو بلک بلک کر روتے ہیں ۔ انہیں کیسے صبر آئے گا جب کہ مجھے ہی صبر نہیں آتا ۔وہ اپنی والدہ کے انتقال کے وقت یورپ میں تھے ۔

’’مرحوم والدہ کی یاد میں ‘‘ اس نظم میں علامہ اقبال نے موت کی حقیقت کی منظر کشی کرکے دنیا کا مکروہ چہرہ ظاہر کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا تو جوان ، بوڑھے ہر ایک کے لیے ماتم کدہ ہے اور اگر زندگی اور موت کا مقابلہ کرنے جائے تو زندگی بے حد مشکل اور موت بہت آسان ہے ۔ مگر موت وہ تلخ حقیقت ہے جو غریب کی جھونپڑی سے لے کر امراء کے دولت کدہ سے ہوتے ہوئے صحرا ، آبادی ،ویرانے غرض ہر جگہ پہنچ جاتی ہے ۔ ساتھ ہی اقبال ایک در س یہ بھی دیتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس کے خلاف نہ تو کوئی گلہ کرسکتا ہے اور نہ شکایت ۔ وہ کہتے ہیں کہ موت کا کوئی مداوا نہیں ۔ مگر مرنے والے کی جدائی کا غم وقت کے ساتھ کم ہوتا ہے مگر اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔ اور کسی بھی تکلیف کے پہنچنے پر یہ غم آنسوئوں کی شکل میں بہنے لگتے ہیں ۔

مکالمات افلاطون نہ لکھ سکی ، لیکن

اسی کے شعلہ سے ٹوٹا شرارِ افلاطون

علامہ اقبال اسلامی طرز زندگی کے پیش نظر کہتے ہیں کہ شرعی حدود میں رہ کر عورتیں تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں ۔ وہ اپنے کلام میں فاطمہ بنت عبداللہ کا ذکر کرتے ہیں جو چودہ سالہ کم سن معصوم عرب لڑکی جسے انہوں نے شجاعت کی مثال کہا ہے جو جذبہ جہاد سے مالا مال تھیں ۔ جنگ طرابلس میں غازی اور زخمی مجاہد بھائیوں کو اپنے مشکیزے سے پانی پلاتی ہوئی جام شہادت نوش کرگئی تھیں ۔اس واقعہ سے علامہ اقبال بہت متاثر ہوکر نظم ’فاطمہ تو آبرو ئے امت مرحوم ہے ‘ بانگ درامیں اس نظم کے ذریعہ اس واقعہ سے امت کو واقف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

فاطمہ ! تو آبروئے امت مرحوم ہے

زرہ زرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے

یہ سعادت حور صحرائی ! تیری قسمت میں تھی

غازیان ِدیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی

یہ جہاں اللہ کے راستے میں بے تیغ و سفر ہے

علامہ اقبال کے کلام سے یہ عیاں ہے کہ وہ عورت کو بیٹی کے روپ میں معصومیت ، شرم و حیا ، زیور تعلیم سے آراستہ اور مغربی تہذیب سے پاک چاہتے ہیں ۔ بہن سے بہادری اور جرأت مند ی کی توقع رکھتے ہیں ۔ بیوی کو صبر و تحمل ، شوہر کی فرمانبردار اور وفا کا پیکر مانتے ہیں ۔ ماں کو بہترین تربیت گاہ تصور کرتے ہیں جہاں اللہ کے صالح بندے ، قوم کے معمار اور سماج کے بہترین شہری تیار ہوتے ہیںاسی لیے وہ کہتے ہیں کہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی میں سوزِ دروں

علامہ اقبال کے کلام کے باعث کئی اسلامی تاریخی واقعات ہمارے سا منے موجود ہے جو نوجوان نسل اور عورتوں کے لیے آج بھی رہنما ثابت ہورہے ہیں۔آخر میں یہ ضرور کہوں گی کہ ادب کا یہ خورشید اپنی شاعری کی روشنی سے کل امت کو بصیرت دے گیا۔علامہ اقبال کی عہد ساز شخصیت پر اردو ادب جتنا بھی ناز کرے کم ہے ۔

Email:khwaja.kauser@gmail.com