اورنگ زیب کا نام ونشان مٹانے سے پہلے…. – معصوم مرادآبادی

آدھی صدی تک ہندوستان کے وسیع تر علاقہ پر حکومت کرنے والا مغل بادشاہ اورنگ زیب آج کل پھر سرخیوں میں ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ملک میں اورنگزیب کی کوئی نئی یادگار قائم کی جارہی ہے بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں اورنگ زیب کے نام سے موسوم جو یادگاریں موجود ہیں ان کا نام ونشان مٹانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔حالانکہ نئی دہلی کی ایک طویل شاہراہ کو جو اورنگزیب روڈ کے نام سے جانی جاتی تھی ، پہلے ہی سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے نام سے موسوم کیا جاچکا ہے۔ اب اس کے بغل میں اورنگزیب لین کے نام سے جو پتلی سی گلی باقی ہے ، اس پر بھی گزشتہ ہفتہ سیاہی پھیرکر ’گروتیغ بہادر لین‘ لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس سے پہلے2019 میں شرومنی اکالی دل کے لیڈر منجیت سنگھ سرسا نے اورنگ زیب لین کے سائن بورڈ پرسیاہی پھیرنے کی کوشش کی تھی۔2017 اور 2018 میں نئی دہلی کی سب سے طویل شاہراہ ’ اکبر روڈ‘ کا سائن بورڈ بھی مٹانے کی کوششیں ہوچکی ہیں۔
دوسری طرف مہاراشٹر کی مخلوط حکومت میں شامل شیو سینا اور کانگریس کے درمیان اس بات پر تکرار چل رہی ہے کہ اورنگزیب کے نام سے موسوم مہاراشٹرکے شہر اورنگ آباد کا نام چھترپتی سامبھا جی مہاراج کے نام پر’سامبھا نگر‘ رکھاجائے یا نہیں۔ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اورنگ زیب سیکولربادشاہ نہیں تھا، اس لیے کانگریس کو اس کا دفاع نہیں کرنا چاہئے۔ظاہرہے کانگریس کو مسلم ووٹوں کی فکر ہے تو شیو سینا کو ہندو ووٹ عزیز ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مہاراشٹر حکومت کی تشکیل جس میں شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس شامل ہیں ، سیکولر ایجنڈے پر ہوئی ہے، اس لیے اورنگ آباد کو’ سمبھا جی نگر‘ میں تبدیل کرنے پر تکرار ہورہی ہے۔
اس ملک میں مسلم حکمرانوں اور خاص طور پر مغل بادشاہوں کی ہندو دشمنی اور ظلم وستم کی کہانیاں عام ہیں۔ مغلیہ عہد میں جلال الدین محمداکبر اور دارا شکوہ کو چھوڑ کر سبھی بادشاہوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند مسلمان تھے اور انھوں نے اپنے دور اقتدار میں نہ صرف ہندوؤں پر مظالم کیے بلکہ مندروں کو بھی مسمار کیا اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے کی لگاتار کوششیں کیں۔اس پروپیگنڈے کا زور اتنا شدید ہے کہ لوگ تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ جب سے بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالا ہے تب سے ان یادگاروں کو مٹانے کی کوششیں عروج پر ہیں، جنھیں ہم اس ملک میں قومی یکجہتی یا ہندومسلم اتحاد کی علامتیں قرار دے سکتے ہیں۔پچھلے ہفتہ یہ خبر آئی تھی کہ بجرنگ دل کے کچھ کارکنوں نے تاج محل کے احاطے میں بڑے فخر سے بھگوا جھنڈا لہرایا اور ’ جے شری رام ‘ کے نعرے لگائے۔ پچھلے دنوں دہلی کی ایک عدالت میں مسجد قوت الاسلام کو مندر میں بدلنے کی درخواست دی گئی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد ‘مندر توڑ کر بنائی گئی تھی اور اس کے درودیوار پر مندروں کی علامتیں موجود ہیں۔ مسلم عہد کے بعض خوبصورت مقبروں کو بھی مندروں میں بدلنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے سائن بورڈ غائب کیے جارہے ہیں۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ملک میں وہ تمام عمارتیں اور نشانیاں خطرے میں ہیں جنھیں مسلم بادشاہوں نے بنایا تھا اور جن کی وجہ سے ہندوستان کا نام دنیا کے نقشہ پر عزت واحترام کے ساتھ لایاجاتاہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مغلیہ عہد کی سب سے خوبصورت عمارت تاج محل کو آج بھی پوری دنیا میں ہندوستان کا تاج تصور کیا جاتا ہے ۔ سب سے زیادہ غیرملکی سیاح اسے ہی دیکھنے ہندوستان آتے ہیں جن سے حکومت کو کروڑوں روپوں کا زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تاج محل کو بھی ایک سنگھی مورخ نے قدیم مندر قرار دے رکھاہے۔پی این اوک نام کے ان نام نہاد مورخ نے اس کا نام تیجو مہالیہ‘ مندر کے طور پر دریافت کیا تھا۔ آنجہانی پی این اوک سے میں نے 90کی دہائی میں ایک تفصیلی انٹرویو لیا تھا جس میں انھوں نے مسلم عہد کی ہر عمارت کے نیچے ایک مندر ہونے کی بات کہی تھی۔
جہاں تک اورنگ زیب کا سوال ہے تو اس کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ ہندو دشمنی اور فرقہ پرستی کے الزامات اسی پر عائد کیے جاتے رہے ہیں ۔ابوالمظفرمحی الدین محمدجنھیں عرف عام میں اورنگ زیب عالمگیر کے نام سے جانا جاتا ہے، مغلیہ سلطنت کے چھٹے تاجدار تھے۔ان کی پیدائش 3 نومبر 1668کو داہوڑ میں ہوئی۔ ان کا عہد سلطنت 1658 سے شروع ہوکر ان کے انتقال1707 تک جاری رہا۔ اس طرح انھوں نے ہندوستان پر آدھی صدی تک راج کیا۔ان کی زندگی کا مقصد ہندوستان کے زیادہ سے زیادہ حصوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا تھا جس کے لیے انھوں نے جنگ وجدال کی راہ اپنائی۔ بیس برسوں تک وہ دکن کی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
اس وقت مشہور مورخ اور سابق گورنر بی این پانڈے کی لکھی ہوئی ایک مختصر کتاب ’’ ہندوستان میں قومی یکجہتی کی روایات‘‘ پیش نظر ہے ۔ اس کتاب کو 1988میں خدابخش لائبریری پٹنہ نے شائع کیا تھا ، جو ایک سرکاری ادارہ ہے ۔اس لیے اس کتاب کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا ایک اقتباس آپ کی نذر ہے تاکہ اورنگزیب کی اصلیت آشکارا ہوسکے۔ بشمبر ناتھ پانڈے جنہیں عرف عام میں بی این پانڈے کے نام سے جانا جاتا ہے، لکھتے ہیں:
’’جس طرح شیواجی کے متعلق انگریز مورخوں نے غلط فہمیاں پیدا کیں، اسی طرح اورنگ زیب کے متعلق بھی۔ ایک اردو شاعر نے بڑے سوز کے ساتھ لکھاہے:
تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا
کہ عالم گیر ہندو کش تھا، ظالم تھا ، ستمگر تھا
بچپن میں ، میں نے بھی اسکولوں کا لجوں میں اسی طرح کی تاریخ پڑھی تھی اور میرے دل میں بھی اس طرح کی بدگمانی تھی۔ لیکن ایک واقعہ پیش آیاجس نے میری رائے قطعی بدل دی۔ میں تب الہ آباد میونسپلٹی کا چیئرمین تھا۔ تربینی سنگم کے قریب سومیشور ناتھ مہادیو کا مندر ہے۔ اس کے پجاری کی موت کے بعد مندر اور مندر کی جائیداد کے دو دعویدارکھڑے ہوگئے۔ دونوں نے میونسپلٹی میں اپنے نام داخل خارج کی درخواست دی۔ ان میں سے ایک فریق نے کچھ دستاویزیں بھی داخل کی تھیں۔ دوسرے فریق کے پاس کوئی دستاویز نہ تھی۔ جب میں نے دستاویز پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ وہ اورنگزیب کا فرمان تھا۔ اس میں مندر کے پجاری کو ٹھاکر جی کے بھوگ اور پوجا کے لیے جاگیر میں دو گاؤں عطا کیے گئے تھے۔ مجھے شبہ ہوا کہ یہ دستاویز نقلی ہیں۔ اورنگزیب تو بت شکن تھا۔ وہ بت پرستی کے ساتھ کیسے اپنے کو وابستہ کرسکتا تھا؟ میں اپنا شک رفع کرنے کے لیے سیدھا اپنے چیمبر سے اٹھ کرسر تیج بہادر سپرو کے یہاں گیا۔ سپرو صاحب فارسی کے عالم تھے۔ انھوں نے فرمان کو پڑھ کر کہا کہ یہ فرمان اصلی ہیں۔ میں نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب ، عالمگیر تو مندر توڑتا تھا، بت شکن تھا، وہ ٹھاکر جی کے بھوگ اور پوجا کے لیے کیسے جائیداد دے سکتا ہے؟‘‘
سپرو صاحب نے منشی کو آوازدے کر کہا ’’ منشی جی، ذرا بنارس کے جنگم باڑی شیو مندر کی اپیل کی مثل تو لاؤ۔‘‘
منشی جی مثل لے کر آئے توڈاکٹر سپرو نے دکھایا کہ اس میں اورنگ زیب کے چار فرمان تھے جن میں جنگموں کو معافی کی زمین عطا کی گئی تھی۔
ڈاکٹر سپرو ہندوستانی کلچر سوسائٹی کے صدر تھے، جس کے عہدے داروں میں ڈاکٹر بھگوان داس ، سید سلیمان ندوی،پنڈت سندر لال اور ڈاکٹر تارا چند تھے۔ میں بھی اس کا ایک ممبر تھا۔ ڈاکٹر سپرو کی صلاح سے میں نے ہندوستان کے خاص خاص مندروں کی فہرست مہیا کی، اور ان سب کے نام یہ خط لکھا کہ اگر آپ کے مندروں کو اورنگزیب یا مغل بادشاہوں نے کوئی جاگیر عطا فرمائی ہو(خصوصاً اورنگزیب)تو ان کی فوٹو کاپیاں مہربانی کرکے بھیجیں۔ دوتین مہینے کے انتظار کے بعدہمیں مہاکال مندراجین،بالا جی مندرچترکوٹ، کاماکھیہ مندر گوہاٹی، جین مندر گرنار، دلواڑا مندر آبواورگرودواررام رائے دہرہ دون وغیرہ سے اطلاع ملی کہ ان کو جاگیریں اورنگ زیب نے عطا کی تھیں۔ مورخوں کی تاریخ کے مطابق ایک نیا اورنگ زیب ہماری آنکھوں کے سامنے ابھر آیا۔‘‘(’ہندوستان میں قومی یکجہتی کی روایات‘ازبی این پانڈے، صفحہ17 اور 18،ناشرخدابخش اورینٹل لائبریری، پٹنہ، 1988)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)