اورنگزیب:ایک شخص اور فرضی قصے

تبصرہ:شکیل رشید

مغل فرمانروا اورنگزیب نہ ولی تھے نہ صوفی ۔ اورنگزیب متعصب یا کٹّر مسلمان بھی نہیں تھے ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر مورخین نے اورنگزیب کی ذات، صفات اور خدمات کا مطالعہ ان ہی دو متضاد انتہاؤں سے کیا ہے ۔ یا اگر کچھ ہٹ کر کرنا چاہا تو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کی جگہ نکالی کہ اورنگزیب کو نہ قطعی متعصب قرار دیا اور نہ ہی ان کے صوفی ہونے سےکُلّی طور پر انکار کیا ۔ یہ ایک طرح سے اورنگزیب کا دفاع کرنے کی سعی ہے ۔ مگر کیا ان بنیادوں پر اورنگزیب کا درست اور صحیح مطالعہ ممکن ہے؟ امریکی خاتون مورخ آڈری ٹروشکی نے اپنی نئی انگریزی کتاب
Aurangzeb the man the and the myth
میں ، جس کا ’’اورنگزیب : ایک شخص اور فرضی قصے‘‘ کے نام سے اردو زبان میں ، آزاد ریسرچر اقبال حسین اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر فہد ہاشمی نے خوبصورت ترجمہ کیا ہے، اورنگزیب کے مطالعے کا ایک جدید پیمانہ پیش کیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ماضی کے تئیں ایماندار رہتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ بحیثیت ایک شہزادہ اور بحیثیت ایک بادشاہ، ان کی مکمل تصویر پیش کریں‘‘۔ ایک جگہ وہ لکھتی ہیں کہ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ’’اورنگزیب کی زندگی اور دورِ حکومت کا ایک تاریخی خاکہ تیار کیا جائے، اور اس طرح غلط بیانیوں کے انبار تلے سے اورنگزیب بحیثیت ایک بادشاہ اور ایک انسان، کی بازیابی کو ممکن بنایا جا سکے جن کے بارے میں صدیوں سے ہم نے افواہوں کو من و عن قبول کرنے میں تجاہل عارفانہ سے کام لیا ہے۔‘‘
وہ کون سی غلط بیانیاں ہیں جن کے انبار تلے اورنگزیب دبے ہوئے ہیں؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے ۔ آڈری نے آٹھ ابواب میں ، جو محض 128 صفحات پر مشتمل ہیں، اورنگزیب کی ایک انسان اور شہزادے و شہنشاہ کی حیثیت سے وہ تصویر پیش کر دی ہے جو ان کی خوبیوں اور خامیوں کو پوری طرح سے عیاں کردیتی ہے، اور یہ بھی صاف کر دیتی ہے کہ ان کے تعلق سے فرضی قصوں کا ایک ایسا جال بنا گیا ہے کہ لوگ اس میں پھنسے تو پھنستے ہی چلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بقول آڈری ’’ اکیسویں صدی کے جنوبی ایشیا میں اورنگزیب کی شبیہ غلط بیانی اور تردید کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے، اور اورنگزیب کی خود کی ذات ایک پہیلی بن گئی ہے ۔ اورنگزیب نے 49 سال تک 15 کروڑ انسانوں پر حکومت کی، ان کے دور میں مغلیہ سلطنت کی آبادی پورے یورپ کی آبادی سے زیادہ تھی اور وہ خود غالباً اپنے وقت کے سب سے امیرترین انسان تھے، جب 1707ء میں انہوں نے دنیا سے کوچ کیا تب ہندوستان جغرافیائی اور معاشی بنیاد پر دنیا کی سب سے بڑی حکومت بن چکا تھا، مگر اورنگزیب دنیا سے جاتے ہوئے خوش نہیں تھے، انہیں یہ لگ رہا تھا کہ ان کی زندگی ناکام رہی ہے ۔ بستر مرگ سے تحریر اپنے ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں ایک اجنبی کی حیثیت سے آیا ہوں، اور ایک اجنبی ہی کی طرح چلا جاؤں گا۔‘‘انہیں یہ احساس تھا کہ ایک بادشاہ کے طور پر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتی ہے ۔ ایک خط میں انہوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ حکمرانی کی ذمے داریوں اور عوام کے تحفظ کے لائق نہیں تھے ۔ دنیا اورنگزیب کو سخت مذہبی اور دیندار سمجھتی ہے، بلکہ اسے ان کا سب سے بڑا جرم قرار دیتی ہے، لیکن انہوں نے ایک خط میں اپنی مذہبی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس کی پاداش میں جلد ہی خدا کے عتاب کا سامنا کریں گے ۔ اپنے آخری خط میں دنیا سے کوچ کا جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے تین بار خدا حافظ، خدا حافظ، خدا حافظ لکھا ہے ۔ مذکورہ خطوط سے اورنگزیب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس تصویر سے بالکل الگ ہے جو ہم سب کو دکھائی جاتی ہے ۔ اورنگزیب کو یہ قلق تھا کہ وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکے، ان سے حکمرانی کے فرائض ادا نہیں ہو سکے، اور یہ کہ وہ ساری زندگی خدا کو ایسے بھولے رہے کہ مذہبی تعلیمات پر عمل نہیں کرسکے ۔ لیکن انہیں آج کٹّر مذہبی، ظالم، متعصب اور جبراً ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرنے والے کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے ۔ آڈری ٹروشکی نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ان کی درست تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں بہت کچھ ایسی باتیں بتاتی ہے، جو ملک کی بھگوا سیاست اور بھگوا تاریخ و صحافت ہم سے چھپاتی ہے ۔ مثلاً یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ہولی پر روک لگائی تھی مگر یہ چھپایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے عید اور بقرعید پر بھی روک لگائی تھی ۔ آڈری ٹروشکی لکھتی ہیں ’’اورنگزیب نے نوروز پر بھاری بھرکم تقریبات کے انعقاد کو محدود کیا، اور مسلمانوں کے بڑے تہواروں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقعوں سے بڑے پیمانے پر جشن منا نے کو بھی منسوخ کر دیا تھا ۔ تقریباً اسی وقت انہوں نے ہندوؤں کے تہواروں ہولی اور دیوالی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے محرم کے یادگاری جلوس سے متعلق ہنگامہ خیزی پر لگام کسنے کی کوشش کی تھی ۔‘‘یہ احکامات ایک تو اس لیے تھے کہ انہیں رنگ رلیاں کرنے والوں کے جوش و خروش سے کسی قدر بیزاری تھی، اور دوسرا مقصد عوام کی حفاظت تھی کہ ایسے مواقع پر اکثر پرتشدد ہنگامے ہو جاتے تھے ۔ آڈری یہ بھی بتاتی ہیں کہ احکامات تو دیے گیے مگر ان پر کبھی عمل نہیں ہوا، یہاں تک کہ درباری اور شاہی خاندان کے افراد بھی دھوم دھام سے تہوار مناتے رہے ۔ پروپیگنڈہ مواد یہ تو بتاتا ہے کہ اورنگزیب نے بہت سارے لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا تھا مگر یہ نہیں بتاتا کہ کچھ لوگوں نے مغلیہ سلسلہ مراتب میں ترقی کے لیے اسلام قبول کیا تو کچھ لوگوں نے دوسرے محرکات کی وجہ سے، اس میں بھی مقصود ترقی حاصل کرنا ہی تھا ۔ آڈری کے مطابق تبدیلی مذہب کرنے والے اورنگزیب کی تنقیدی نگاہ میں آجاتے تھے، اپنے ایک خط میں ایسے ہی دو لوگوں کی، جنہوں نے اپنے قبول اسلام کی فخریہ تشہیر کی تھی، اورنگزیب نے مذمت کی تھی اور انہیں قید کرنے کا حگم دیا تھا ۔ آڈری لکھتی ہیں ’’ مجموعی طور پر اورنگزیب کے ہندوستان میں نسبتاً ہندوؤں کی قلیل تعداد نے اسلام قبول کیا تھا ۔ ‘‘ یہ بات بھی سامنے نہیں لائی جاتی کہ اورنگزیب اپنی مسلمان رعایا کے تئیں اقدامی کارروائی میں پہل کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے احمد سرہندی نقشبندیؒ کی کچھ تحریروں پر پابندی عائد کر دی تھی، مہدویہ فرقے کے چند درجن افراد قتل کر دیے تھے، اپنی شہزادگی میں شیعہ اور اسماعیلی بوہرہ فرقے کو نشانہ بنایا تھا، بلکہ اسماعیلی بوہرہ فرقہ کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنی مساجد میں سنّی طریقہ سے نماز پڑھیں ۔ لیکن یہی اورنگزیب ہندو مذہبی برادری کے نگراں تھے ۔ آڈری ٹروشکی بتاتی ہیں کہ اورنگزیب کا یہ ماننا تھا کہ اسلامی تعلیمات اور مغلیہ روایات نے انہیں ہندو مندروں، زیارت گاہوں، اور مقدس شخصیتوں کی حفاظت کے لیے پابند کیا تھا ۔ ان پر ہندو مندروں کی مسماری کا الزام لگتا ہے لیکن آڈری لکھتی ہیں
’’ اورنگزیب کی سلطنت میں زمین کا پورا خطہ ہندو اور جین مندروں سے مزین تھا ۔ یہ مذہبی ادارے مغل حکومت سے محافظت کا استحقاق رکھتے تھے، اور اورنگزیب عموماً ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔ علیٰ ہذا القیاس، جب کبھی کوئی خاص مندر یا اس سے منسلک لوگ شاہی سلطنت کے مفاد کے خلاف کسی عمل میں شامل ہوتے، تب مغل نقطہ نظر کے تحت خیر سگالی کا یہ عمل منسوخ بھی کر دیا جاتا تھا ۔اسی اسکیم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شہنشاہ اورنگزیب نے کچھ مخصوص مندروں کے انہدام اور تقدس کی پامالی کا حکم صادر کیا تھا ۔‘‘
بنارس کے وشوناتھ مندر اور متھرا کے کیشو دیوا مندر کے انہدام کا الزام اورنگزیب پر لگتا ہے، مگر یہ بات سامنے نہیں لائی جاتی کہ یہ سیاسی فیصلے تھے، اور مقصد کچھ لوگوں کو ان کی سیاسی غلطیوں کی سزا دینا تھا ۔ ورنہ اورنگزیب کے دور میں کثیر پیمانے پر مندر بنے، جاگیریں دی گئیں اور ان کی حفاظت کی گئی ۔ بنارس کے پنڈتوں کی حفاظت کا فرمان تک جاری کیا گیا ۔
شہنشاہ کے امراء میں 50 فیصد ہندو تھے جن میں مراٹھے سب سے زیادہ تھے ۔ مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج، جو مراٹھا تھے، آخر دم تک ان کے لیے سر درد بنے رہے ۔ اس کتاب میں اورنگزیب اور شیواجی کی ملاقات کا دلچسپ احوال شامل ہے، نیز شیواجی مہاراج کے تعلق سے دیگر اہم باتیں بھی ہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب جزیہ لیتے تھے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ برہمن پروہتوں، راجپوت اور مراٹھا درباریوں، اور ہندو منصب داروں سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا، جین، سکھ، اور دیگر غیر مسلم عوام پر جزیہ کی ادائیگی فرض تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں کچھ مخصوص حقوقِ فراہم کیے گئے تھے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تھا ۔ آڈری بتاتی ہیں کہ علماء کی ایک بڑی تعداد کو بادشاہ کی مذہبی سنجیدگی پر شبہہ تھا، ان ہی علماء کو، اور جو مذہب تبدیل کرکے مسلمان بنے تھے انہیں، جزیہ کی وصولی میں لگایا گیا تھا ، اس طرح علماء کے حلقہ میں اورنگزیب کی ساکھ کچھ بحال ہوئی تھی، مگر بہت سے مسلم امراء اور شاہی خاندان کے افراد جیسے اورنگزیب کی بہن جہاں آراء جزیہ کے ناقص انتظامی فیصلے کا مذاق اڑاتے تھے ۔ یہی نہیں جزیہ وصولی کے بعد بڑا حصہ محصلین ہڑپ لیتےتھے ، بادشاہ اس چوری کو روکنے میں بے بس تھے ۔ اورنگزیب نے ہندو مذہبی کتابوں کے تراجم پر بھی روک نہیں لگائی،بلکہ رامائن کے فارسی تراجم تحفتاً قبول کیے ۔ اورنگزیب کے دربار میں اخبار بھی تھا، جی ہاں انہیں اپنی حکومت کے ہر کونے کی خبر پڑھ کر سنائی جاتی تھی ۔
اورنگزیب کے ذریعے اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کے واقعات پر آج سخت ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن بقول آڈری مغلوں میں سیاسی طاقت کے حصول پر خاندان کے تمام مردوں کا دعویٰ ہوتا تھا ، اکبر بادشاہ نے قانونی حق داروں کو کم کر کے اسے صرف بیٹوں تک محدود کر دیا تھا لہٰذا حکومت کے حصول کے لیے اورنگزیب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہی کارروائیاں ان کے بھائی بھی موقع پاتے تو اورنگزیب کے ساتھ کرتے ۔ لیکن اورنگزیب کے ذریعے والد شہنشاہ شاہجہاں کو بے دخل اور قید کرنا ایک قابل نفرت عمل سمجھا جاتا تھا اور مغل سلطنت کے قاضی القضاۃ نے اس پر برہمی جتائی تھی یہاں تک کہ انہیں برخاست کر دیا گیا تھا ۔ یہی نہیں بیرون ملک بھی ان کا یہ عمل ناپسندیدہ قرار پایا تھا اور شریف مکہ نے تو اورنگزیب کو ہندوستان کا جائز بادشاہ ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ اورنگزیب شریف مکہ کی رائے تبدیل کرانے کی اپنی خواہش سے کبھی باز نہیں آئے ۔ صفوی حکمراں شاہ سلیمان نے اس کی مذمت کی تھی ۔ اور سچ یہی ہے کہ اپنے والد سے برتاؤ میں غیر مصنفانہ رویے سے اورنگزیب کو کبھی بھی چھٹکارہ نہیں ملا ۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی، لیکن سچ یہ ہے کہ انہوں نے کچھ مخصوص قسم کی موسیقی پر، وہ بھی صرف اپنے ایوان ہی میںپابندی لگائی تھی ۔ اورنگزیب کے سب سے چھوٹے بیٹے کام بخش کی والدہ اودیپوری ایک مغنیہ تھیں جو علالت کے دنوں میں ان کے ساتھ رہیں ۔ ایک دلچسپ قصہ یہ بھی ہے کہ جوانی میں اورنگزیب کو ایک موسیقار اور رقاصہ ہیرا بائی سے عشق ہو گیا تھا، افوہ مشہور ہے کہ اس کے کہنے پر وہ شراب سے زندگی بھر اجتناب کے اپنے عہد کو توڑنے پر راضی ہو گیے تھے ۔
ایک دلچسپ بات آڈری بتاتی ہیں کہ اورنگزیب کو جب بھی لگا کہ ریاستی مفاد میں اسلامی اصولوں سے سمجھوتہ کیا جانا چاہیے، انہوں نے سمجھوتہ کیا، اسی لیے علماء دین بالخصوص قاضی سے ان کی پورے عہد حکومت میں نبھی نہیں، حالانکہ یہ بھی ایک رخ ہے کہ انہوں نے ’’ فتاویٰ عالمگیری‘‘ کو ترتیب دینے کے لیے بہت سارے قابل علمائے کرام کو معاوضہ بھی دیا ۔ اورنگزیب کی یہ تصویر، جو آڈری ٹروشکی نے دکھائی ہے ایک متشدد شہنشاہ کی نہیں ہے، لیکن قوم پرست ہندو نظریہ کی رو سے بابر اور اورنگزیب ظالم ہیں، سیکولر ذہن دانشوروں اور مورخین کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اورنگزیب کو متشدد مسلمان قرار دیتی ہے ۔ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا ‘‘ میں اورنگزیب کو ایک متعصب اور متشدد حد تک کٹّر مذہبی کہا اور مذمت کی ہے ۔ مورخ جادو ناتھ سرکار نے متعصب قرار دیا ہے ۔پاکستان میں تو ڈرامہ نگار شاہد ندیم نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اورنگزیب نے جب اپنے بھائی داراشکوہ پر فتح حاصل کی تو تقسیم کے بیج بودیے گیے تھے ۔ آڈری لکھتی ہیں کہ اورنگزیب بحیثیت ایک شر اور متعصب ہونے کے فرضی قصے کو بہت ہی کم تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر پھیلایا گیا ۔ آج نتیجہ سامنے ہے، بی جے پی اور دیگر قوم پرست جماعتوں سے متفق نہ ہونے والے افراد بھی اورنگزیب کو شر قرار دیتے اور متعصب کہتے ہیں ۔ افسوس کہ اپنی وصیت کے مطابق خلد آباد میں کھلے آسمان تلے ایک معمولی سی قبر میں دفنائے گیے اورنگزیب تاریخ کا ایک ایسا زندہ تار بن گیے ہیں جس میں مسلسل برقی رو دوڑتی رہتی اور آگ کی چنگاریاں نکلتی رہتی ہیں ۔ ملک کی حالیہ سیاست ان کے نام کو مکمل مٹانے کے درپہ ہے، دہلی میں اسی لیے ان کے نام کی سڑک کو دوسرا نام دے دیا گیا ہے ۔ لیکن بقول آڈری اس طرح کی باتوں سے اورنگزیب کا نام مٹنے کی بجائے لوگوں کے ذہن پر مزید نقش ہو گیا ہے ۔ مسلمانوں کو اورنگزیب کی اولاد کہا جانے لگا ہے ، آڈری لکھتی ہیں کہ غالباً اورنگزیب اس بات سے مطمئن ہوتے کہ انہیں فراموش کر دیا گیا ہے لیکن لوگ انہیں بھولنے کو تیار نہیں ہیں ۔ قصوروار بی جے پی اور سنگھ پریوار ہے جو بار بار ان کا نام لیتے رہتی ہے ۔
کتاب شاندار ہے، اس کا مطالعہ ضروری ہے ۔ مترجمین نے عمدہ ترجمہ اور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نے شاندار طباعت کی ہے ۔