اور میں نے سافٹ ڈرنکس پینی بند کردی! ـ شکیل رشید

کوکا کولا اور پیپسی جیسی تمام سافٹ ڈرنکس لینا میں نے بند کردیا ہے۔ اس عمل کےلیے ذہن تو بہت پہلے سے تیار تھا لیکن کبھی یہ کہہ کر چلو آج ’سیون اَپ‘ پی لیتے ہیں یا ’اسپرائٹ‘ لے لے لیتے ہیں یا ’کوک‘ یا ’پیپسی‘ سے منہ کا مزہ بدل لیتے ہیں، کل سے چھوڑ دیں گے، رہ جاتا تھا اور ’کل‘ نہیں آتا تھا،لیکن اس روز جب یہ دیکھا کہ دنیائے فٹ بال اور پرتگال کے ایک بہت ہی عظیم کھلاڑی کرسٹیانورونالڈو نے کوکا کولا کی دو بھری ہوئی بوتلیں (جی ہاں بھری ہوئی، میں نے گزشتہ کالم میں بغیر ویڈیو دیکھے ایک عالمی خبر کی بنیاد پر ’خالی بوتلیں‘ لکھ دیاتھا) اپنے سامنے سے ہٹا دی ہیں تو مجھے بھی ہمت ہوئی کہ یہ کون سی بڑی بات ہے، کیوں نہ اب تمام ہی قسم کے سافٹ ڈرنک ترک کرکے صرف پانی پیاجائے۔ اور اس روز سے صرف پانی کو ہی ڈرنک بنالیا ہے۔ عمر کا ایک لمبا عرصہ بیت جانے کے بعد ہمیں یہ اندازہ ہو پاتا ہے کہ ہمارے جسم میں پانی کی جو مقدار ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔پھر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صحت کےلیے پانی کس قدر ضروری ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں (نام نہیں لے رہا کیوں کہ ان سے اجازت نہیں لی ہے) آج وہ جسم میں پانی کی انتہائی کم مقدار کی وجہ سے کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں، گردے کی بیماری نے تو انہیں بہت پریشانی میں ڈال رکھا ہے۔ ایک روز وہ مجھ سے کہنے لگے کہ پانی میں نے بہت کم پیا اسی کا یہ نتیجہ ہے۔ اللہ کی تمام ہی نعمتوں کی طرح پانی بھی ہمارے لیے نعمت عظیم ہے۔ بات سافٹ ڈرنک کی ہورہی تھی، جو میں نے پینی بند کردی ہے۔ ایک صاحب پوچھنے لگے کہ کیا وجہ ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جناب سافٹ ڈرنک سے صحت متاثر ہوتی ہے۔۔۔۔ابھی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ کہنے لگے ’کون کہتا ہے! اس سے تو کھانے پینے کی چیزیں ا ٓسانی سے ہضم ہوجاتی ہیں‘۔ میں بحث نہیں کرناچاہتا تھا لہذا کہہ دیاکہ میری صحت پر اس کے اثرات مضر پڑے ہیں، اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سافٹ ڈرنکس کی کمپنیاں صہیونی عناصر کو ’امداد فراہم‘ کرتی ہیں جسے وہ فلسطینی اور دیگر مظلوم عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اپنا قبضہ مضبوط کرتے ہیں۔ وہ صاحب یہ کہتے ہوئے ہنس پڑے کہ ایک اکیلا چنا کیا بھاڑ پھوڑے گا! ان کی بات سچ تو ہے مگر میں ایک اکیلا چنا ہی سہی او ربھلے بھاڑ نہ جھونک سکوں مجھے ایک سکون رہے گاکہ ایک نیک اور بہتر کام میں حصہ لیا ہے۔ اب یہ دیکھیں کہ میں یومیہ اگر ۲۰ روپیہ ایک ’کوکاکولا‘ پر لگاتا ہوں تو مہینے میں یہ رقم بڑھ کر ۶۰۰ روپئے اور سال میں یہ رقم ۷۲۰۰ ہوجاتی ہے۔ کم از کم اتنی رقم کا تو ان کمپنیوں کو نقصان ہوتا ہوگا۔ اب غور کریں اگر مجھ اکیلے چنے کی جگہ سو، دو سو، ہزار، دو ہزار، لاکھ ، دولاکھ چنے میدان میں اتر جائیں ، ساری قوم نہ بھی اترے، تب بھی ان کمپنیوں کا کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ نقصان کروڑوں روپئے کا ہوگا۔ کم از کم یہ روپئے تو جو ہماری جیب سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خزانے میں اور وہاں سے مظلومین پر جبر ڈھانے والوں کے خزانے میں گئے ہیں، استیصال اور جبروظلم کے کام میں استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ اور جب کسی انسان کو یہ احساس ہوجائے کہ وہ جبر کا حصہ نہیں ہے تو اسے جو سکون ملتا ہے وہی سکون اب اپنے فیصلے کے بعد مجھے مل رہا ہے۔