اور جنوں نے بازی مار لی ـ احمد سعید قادری بدایونی

آپ مالک اشتر کو جانتے ہیں؟ ارے وہی جو "جنوں میں کیا کیا کچھ” کے نام پر اچّھے اچّھے خرد مندوں کے ہوش اڑا گئے۔

ارے ہاں میاں! ہم سچ بول رہے ہیں پچھلے برس اُن کی وہ ایک کتاب آئی تھی نا "مسلمان: حالات وجوہات اور سوالات” اُس نے کئی بڑے بڑے لوگوں کے کان کھڑے کردیے تھے۔
اچّھا! اب جب محترم کی جنوں پاشی نے دیکھا کہ میرے دوست کے سوالات نے اتنا ہنگامہ پربا کر رکھا ہے تو بے ساختہ خرد کو آواز لگائی:
دشت میں قیس اکیلا ہے مُجھے جانے دو

صدا اتنی بلند و مستانہ انداز میں لگائی گئی تھی کہ جیسے ہی محترمہ خرد کے کانوں میں یہ صدائے مستانہ پڑی وہ کچھ گھبرا کر گویا ہوئی کہ اس جنوں کی وجہ سے پہلے ہی بہت بدنامی جھیل چکی ہوں اب اس کمبخت کو دشت میں دفع کر ہی دیتی ہوں کیا خبر کل کو دشت کا حکیم مطلق بن جائے تو کم سے کم احسان شناسی کے پیشِ نظر ہی سہی، پر اتنا تو کہے گا:
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
تو صاحب خرد سے اجازت ملتے ہی جنوں نے وہ حشر پربا کیا کہ لوگوں کو اُس کی ایک ایک بات سن/پڑھ کر ایسا لگنے لگا کہ یہ جنوں تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے اور اُدھر جنوں نے بھی اپنی قیامت خیز کارکردگی کا مظاہرہ کر کے جب خرد کے ہوش ٹھکانے لگا دیے تو اپنی مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ محترمہ آپ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ آپ نے ہمیں راہیِ دشت کرکے ہم پر کوئی احسان کیا ہے بلکہ:
نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہے
جنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہے

جیسے ہی جنوں اور خرد کے بیچ برپا اس جنگ اور اُس کی پاداش میں ہونے والی چے مے گوئیوں کی خبر ہم آشفتہ سروں تک پہنچی ہم نے ترنت محترم اشتر صاحب سے رابطہ کرکے اس جنگ کا عینی شاہد بننے کی خواہش ظاہر کی اور اگلے دس دنوں میں ہم "جنوں میں کیا کیا کچھ” سے "جنوں میں یہ سب کچھ؟” تک کا مرحلہ طے کرچکے تھے اور یقین جانیں محترم اشتر صاحب کی جنوں پاشی کا پیچھا کرتے کرتے ہم نے "جامعہ، دلّی اور یادوں کی پالکی” میں بیٹھ کر "اجنبی کیمپس” کی زیارت کی اُس کے بعد "قلم کا عتاب” دیکھا، "ایک بزرگ دو رویے” والے شخص سے متعارف ہوئے اور سب سے مزیدار بات یہ کہ جامعہ میں چچا غالب کے مجسمے کے آگے واقع کینٹین کے مالک سے اُس کے تپتے تندور کے سامنے تن بدن میں آگ لئے نوکر کی اپنے مالک سے انتقام کی داستان بھی سنی۔
یہ داستان سننے کے بعد اول وہلہ میں ہم بھی نان لینے جانے ہی والے تھے پھر خیال آیا کہ ابھی ذرا رکتے ہیں کیوںکہ ابھی تو پالکی سے اتر کر آگے بھی دیکھنا ہے اِس لئے ابھی کے لئے جنوں کی پیروی کرتے ہوئے بس چچا غالب کا یہ شعر گنگناتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں:
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اوہ، خدایا! کمبخت اِس سے تو اچّھا تھا کہ پالکی میں ہی بیٹھا رہتا اور وہی سے بیٹھے بیٹھے کینٹین میں جماوڑا کرکے ہونے ولی "صحافتی محفلوں” میں شرکت کرکے "ماس کمونیکیشن ریسرچ سینٹر” اور "جامعہ کمیونیٹی سینٹر” گھوم آتا لیکن:
ہمیں کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
پالکی سے کیا اُترا کہ کورونا نے آن دبوچا ہے، کبھی تو یہ کمبخت انسانوں کو جُھک جُھک کر سلام کرتا ہے تو کبھی اِس کے خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ہم خود ہی سے یہ سوال کررہے ہوتے ہیں کہ "کورونا وائرس: ہم اللہ کو کیوں آزمانا چاہتے ہیں؟”۔

واللہ! اشترمیاں! کیا غضب کے عنوان باندھے ہیں:

بیوی کی پٹائی کی مذہبی گائیڈ لائن
بندہ خدا بننا چاہتا ہے؟
مدارس میں تاحیات عہدہ کیوں ہوتا ہے؟
مذہبی قیادت سوال سے کیوں چڑتی ہے؟
عبادت گزار مشرق فحش مغرب سے کیا سیکھے؟
عزاداری کرکے کام پورا ہوگیا؟

ایسے وسپوٹک عنوانات رکھنے پر بھی محترم اشتر صاحب کا نشتر نما قلم بس نہیں کرتا بلکہ اُن کا ہر کالم سماج کے اُن پہلوؤں پر مسلسل خنجر آزمائی کرتا نظر آتا ہے جس کا محض خیال آنے سے ہی بہت سے اہلِ صفا حضرات کو نہ صرف یہ کے چکر آنے لگیں بلکہ اُن کے گمان کے تئیں وہ خود کو مردودانِ حرم کی فہرست میں شامل سمجھنے لگیں جس کا صدمہ اُن پر ایسی بے ہوشی طاری کردے کہ افاقہ کا ہوتے ہی سب سے پہلے آں حضرات علم و فضل، اپنے پند و نصائح کا مکمل دفتر کھول کر کالم نگار کو سمجھانے لگیں لیکن اس سیال قلمکار پر ناصحین کی نصیحتوں کی قید و بند کا کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ وہ اور شدت سے سماج کے بد نما داغوں کو "طوائفوں سے میری وہ ایک مُلاقات” کے عنوان کے تحت یہ کہہ کر مزید دکھانے لگتا ہے:
گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا

روانی وسلاست کا عالم یہ ہے کہ جب تحریر پڑھتے پڑھتے اچانک اختمام پر پہونچو تو تشنگی ہونٹوں پر پتھر کی طرح کچھ اس طرح جم جاتی ہے کہ تحریر ختم ہونے کے باوجود "ھل من مزید؟” کا ورد زباں پر جاری ہو جاتا ہے اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب آہ دل سے نکلتی ہے کیونکہ لفظوں کی بازیگری اپنی جگہ:
مگر یہ شرط ہے ہر لفظ روح سے نکلے
دعائے نیم شبی میں اثر ضروری ہے

اب کیا سب مجھ ہی سے جان لیں گے؟ بس اب آگے میں کچھ نہیں بتا رہا۔ آپ خود پڑھ کے جانیئے گا میں چلتا ہوں اور آپ کہاں جا رہے؟ میرے ساتھ آئیں اور ہم لوگ ساتھ مل کر:
آؤ ڈھونڈیں تو سہی اہلِ وفا کی بستی
کیا خبر پھر کوئی گم گشتہ ٹھکانہ نکلے