اولاد کی تربیت اور حضرت لقمان کی نصیحت-محمد شمس عالم قاسمی

یوں تو حضرت انسان پر ہمہ وقت اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کی نوازشات و عطیات کا سلسلہ جاری و ساری ہے، جس کا احاطہ ہمارے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے جیسا کہ سورہ ابراہیم میں حق تعالٰی کا ارشاد ہے” اگر تم اللہ نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے”۔
لیکن باری تعالی کے کچھ انعامات ایسے بھی ہیں جو بہت ہی زیادہ اہمیت کے حامل اور توجہ کے قابل ہیں انہیں میں سے ایک اولاد کی نعمت عظمی بھی ہے۔ جو اپنے آپ میں بے مثال اور باکمال ہے، جو انسانیت کی بقا کی ضامن اور اس کائنات کے وجود کا سبب بھی ہے۔ لہٰذا اللہ سبحانہ تعالٰی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انسانوں کو اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا خاص طور پر اہتمام کرنے کا حکم فرمایا اور سنجیدگی کے ساتھ اس اہم فریضہ کو پورا کرنے کےلیے متعدد مقامات پر خصوصیت کے ساتھ اس کی تلقین فرمائی ہے۔
چناچہ خداوند قدوس نےاولاد کی بہترین تعلیم و تربیت اور انتہائی عمدہ ذہن سازی کا نمونہ اپنے مقدس کلام یعنی قرآن مجید میں سورہ لقمان کے اندر حکیم حضرت لقمان رحمة اللہ علیہ کے قصے میں کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے، ارشاد ربانی ہے” اور ہم نے یقینا لقمان کو حکمت عطا کی کہ تو اللہ تعالٰی کا شکر کر، ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کےلیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالٰی بے نیاز اور لائق تعریف ہے”.(لقمان آیت 12)
حضرت لقمان رحمة الله عليه، اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالٰی نے حکمت یعنی عقل و فہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا، ان سے کسی نے پوچھا، تمہیں یہ فہم و شعور کس طرح حاصل ہوا ؟ انہوں نے فرمایا ” سچ بولنے، امانت کی حفاظت کرنے، بے فائدہ باتوں سے بچنے اور خاموش رہنے کی وجہ سے۔
دلچسپ واقعہ
ان کی حمکت و دانش پر مبنی ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ وہ غلام تھے، ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے سب سے بہترین دو حصے لاؤ!، چنانچہ وہ زبان اور دل نکال کر لے گئے۔ دوسری مرتبہ آقا نے ان سے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے سب سے بدترین دو حصے لاؤ، وہ پھر وہی زبان اور دل لے کر چلے گئے، آقا نے ان سے پوچھا کہ اس دفعہ بھی وہی کیوں لے کر آگئے ؟
انہوں نے جواب دیا کہ زبان اور دل اگر صحیح ہو تو یہ سب سے بہتر ہیں اور اگر یہ بگڑ جائیں تو اس سے بدتر کوئی چیز نہیں۔
پہلی نصیحت
حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت جو انہوں نے اپنے لخت جگر کو فرمائی؛”اور جب لقمان نے بطور نصیحت اپنے بیٹے سے فرمایا کہ ائے میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا بھاری ظلم”۔(13)
یعنی سب سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے باز رہنے کی نصیحت کی،
جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کےلیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں کیونکہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے اور دنیا و آخرت میں ناکامی سبب بھی ہے۔

دوسری نصیحت
” پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو، پھر وہ بھی کسی چٹان میں، یا آسمانوں میں، یازمین میں ہو
اللہ تعالٰی ضرور اسے لائے گا، اللہ تعالٰی بڑا باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے”۔ (16)
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اچھا یا برا کام کتنا بھی چھپ کر کرے، اللہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا، قیامت کے دن اللہ تعالٰی اسے حاضر کر لے گا، یعنی اس کا بدلہ دے گا، اچھے عمل کے عوض انعام سے نوازے گا اور برے عمل کے عوض عذاب دے گا،
یہ مضمون حدیث شریف میں بھی بیان کیا گیا ہے فرمایا
"اگر تم میں سے کوئی شخص بے سوارخ کے پتھر میں بھی عمل کرے گا، جس کا کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی، اللہ تعالٰی اسے بھی لوگوں پر ظاہر فرما دےگا، چاہے وہ کیسا ہی عمل ہو ۔
تیسری نصیحت
"پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا، اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا، یقین مان کہ یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے”۔(17)
یہ تینوں باتیں اہم ترین عبادات اور امور خیر کی بنیاد ہیں، یہ وہ اعمال ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالٰی نے بہت تاکید فرمائی ہے اور بندوں پر انہیں فرض قرار دیا ہے۔
چوتھی نصیحت
"لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اتراکر مت چل، بیشک اللہ تعالٰی کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے”۔(18)
یعنی جب لوگوں سے بات کرے یا وہ تجھ سے بات کریں تو تکبر اور تحقیر سے منہ نہ موڑ بلکہ نرمی سے ان کی طرف متوجہ ہو کر بات سن، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب تو مسلمان بھائی سے ملے تو کشادہ پیشانی سے اس کی طرف متوجہ ہو۔
یعنی ایسی چال یا رویہ، جس سے مال و دولت،جاہ و منصب اور قوت و طاقت کی وجہ سے فخر و غرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ تعالٰی کو نا پسند ہے، اس لیے کہ انسان ایک بندہ عاجز و حقیر ہے، اللہ تعالٰی کو یہی پسند ہے کہ بندہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی و انکساری ہی اختیار کرے، اس سے تجاوز کرکے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف اللہ ہی کےلیے زیبا ہے جو تمام اختیارات کا مالک اور تمام خوبیوں کا منبع ہے، اسی لیے حدیث شریف کے اندر فرمایا گیا ہے کہ "وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔(مسند احمد) البتہ تکبر کا اظہار کئے بغیر اللہ تعالٰی کے انعامات کا ذکر، اچھا لباس اور عمدہ خوراک وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔
پانچویں نصیحت
"اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقینا آوازوں میں سب سے بدتر گدھوں کی آواز ہے”۔(19)
یعنی چال اتنی سست نہ ہو جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف و وقار کے خلاف ہو۔ اسی کو سورة الفرقان میں اس طرح بیان کیا گیا: اللہ کے بندے زمین پر وقار اور سکون کے ساتھ چلتے ہیں”۔
یعنی چیخ یا چلا کر بات نہ کر، اس لیے کہ زیادہ اونچی آواز سے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ: "جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو”(بخاری)
لہذا ہر صاحب ایمان کےلیے  اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کی فکر کرنا ضروری ہے اور موجودہ وقت میں خاص طور پر دینی امور کی جانب بہت زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مقصد حیات سے آشنا ہو سکیں، والدین کی خدمت و راحت کا سبب بنیں اور اپنے ایمان و یقین پر تا دم حیات قائم و دائم رہیں نیز یہ کہ آخرت میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہو اور دنیا میں بھی نیک نامی کا ذریعہ بنیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*