اولاد کی تعلیم و تربیت وقت کی اہم ضرورت -محمد شمس عالم قاسمی

اللہ سبحانہ تعالٰی نے ہمیں،آپ کو، دنیا کے تمام انسانوں، چرندوں،پرندوں اور دیگر تمام مخلوقات کو پیدا فرماکر اپنے لامحدود انعامات و نوازشات سے سرفراز فرمایا۔ جن میں سے کسی ایک نعمت کا بھی مکمل احاطہ پوری دنیا کے انسان اور جنات ملکر نہیں بھی نہیں کر سکتے ارشاد خداوندی ہے "اگر تم اللہ تعالٰی کے انعام شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے” (ابراہیم) انہیں بیش بہا نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت آل و اولاد بھی ہے۔
جس نعمت کے حصول کی دعا اللہ تعالٰی کے پیارے نبی حضرت ابراھیم خلیل اللہ اورحضرت زکریا علیہما السلام بھی ساری زندگی کرتے رہے، جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچے تو اللہ رب العزت نے انہیں بھی اولاد جیسی عظیم الشان نعمت سے نوازا۔
یہی وہ انعام ہے جس کے ذریعے سارا عالم آباد و شاداب ہے، نسل انسانی کے پھلنے،پھولنے، ساری دنیا کو حسن و جمال بخشنے،تاقیامت اولاد آدم کے اضافے اور بقا کا سبب ہے، جو ہماری آن، بان اور شان ہے، جو ہمارے لئے صدقہ جاریہ، ہمارا مستقبل اور ہماری آخرت کا سامان ہے۔
بچے دین فطرت پر پیدا ہوتے ہیں یعنی ہر بچہ پیدائشی طور پر مسلمان ہوتا ہے اور حق کو قبول کرنے کی صلاحیت بڑوں کے بالمقابل بچوں میں زیادہ ہوتی ہے،بچے نرم مٹی کے مانند ہوتے ہیں، ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم بچپن ہی سے اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں، کیونکہ جیسی تربیت ہم بچپن میں دیں گے اسی کا نتیجہ ہم مستقبل میں پائیں گے،جو پودا ہم بچپن میں لگائیں گے اسی کا پھل بڑھاپے میں کھائیں گے۔ نظام قدرت یہی ہے کہ جو چیز زیادہ اعلی و ارفع ہوتی،
اس کے متعلق خداوند قدوس کے احکامات بھی بہت زیادہ اور بڑی تاکید کے ساتھ بیان کئے جاتے ہیں، لہذا دین اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت، فلاح دنیا و آخرت، عمدہ صفات، صلاح و تقوی، تزکیہ نفس، اچھے اخلاق اور بہترین پرورش پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالٰی کا ارشاد ہے: "اے لوگوں! بچاؤ اپنے آپ کو اور اھل و عیال کو ایسی آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے جو انکار کرنے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ سورةالتحریم”۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت شریفہ کی توضیح اس طرح فرمائی ہے کہ "ان کو (اپنی اولاد) کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ”.
فقہائے کرام نے کہا ہے ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال و حرام کے احکام کی تعلیم سکھا ئے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کرے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس حدیث شریف سے بھی لگایا جاسکتا ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صاحب کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیا،اولاد کے کیا حقوق ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کا اچھا سا نام رکھو اور اس کی اچھی تربیت کرو۔ (سنن بیہقی) ایک دوسری حدیث شریف میں نبی علیہ السلام کا ارشاد ہےکہ "کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس اچھے آداب سکھلائے”۔ (بخاری) یعنی اچھی تربیت کرنا اچھے آداب سکھانا اولاد کیلئے سب سے بہترین عطیہ ہے۔
بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر ان کو صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کیلئے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی ہے،بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے؛ اس لیئے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش علی الحجر کی طرح ہوتی ہے، بچپن میں اگر بچے کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے تو بڑے ہونے کے بعد بھی ان عمل پیرا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر درست طریقے سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی، نیز بڑے ہونے کے جن برے اخلاق و اعمال کا وہ مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتداء ان صحیح راہنمائی نہیں کی، اولاد کی اچھی اور دینی تربیت کرنا دنیا میں والدین کےلیے  نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ نا فرمان و بے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کیلئے وبال جان ہوگی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ: ” اپنی اولاد کو ادب سکھلاو، قیامت کے دن تم سے تمہاری اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا ادب سکھایا؟ اور کیسی تعلیم دی؟(شعب الایمان للبیہقی)
لفظ "تربیت” ایک وسیع مفہوم والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں کی بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں، ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد و غرض، عمدہ، پاکیزہ، با اخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے، تربیت اولاد بھی انہیں اقسام میں سے ایک بڑی اہم قسم ہے۔ بالفاظ دیگر "تربیت” کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ برے اخلاق و عادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق و عادات اور ایک صالح، پاکیزہ ماحول میں تبدیل کرنے کا نام تربیت ہے”۔

بچوں کی تعلیم و تربیت، پرورش و پرداخت، کردار سازی میں سب سے اہم اور مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے، بچوں کیلئے سب سے پہلا مدرسہ(تربیت گاہ) ماں کی گود ہے، بچے کی ذات و صافت میں غیر محسوس طریقے پر ماں کے اقوال و افعال اور اچھے برے اعمال کا مکمل اثر پڑتا ہے؛ چنانچہ ماں اگر دیندار، پرہیز گار، امانت دار، وفا شعار، ضرورت مندوں کی خدمت گار، ضعیفوں کی غمگسار، غریبوں، مفلسوں کی غمخوار، تعلیمی اعتبار لحاظ سے باوقار اور تربیت یافتہ ہو تو بچوں کے اندر بھی وہ تمام عمدہ صفات، اعلی اخلاق، اچھے اطوار بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کر جاتے ہیں اور بچہ ایک باکمال، عالی صفات، اور مکارم اخلاق کا نمونہ بن کر معاشرے اور سماج میں آفتاب و ماہتاب کے مانند چمکتا ،دمکتا ہے، اور اپنی پر نور شعاؤں سے بے شمار انسانوں کی راہنمائی و دستگیری کرتا ہے۔
اسی مقصد کے پیش نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کہ جب تم نکاح کرو تو مال و دولت، جاہ و جلال اور عزت شہرت کو نہیں بلکہ دین دار اور پرہیز گار گھرانے کی لڑکی کو ترجیح دوں تاکہ تمہاری نسلیں بھی دیانت دا اور اخلاق حمیدہ اور صفات عالیہ سے شرسار ہوں۔
ماضی میں بھی جتنی عبقری، انقلابی، عالمی، اور روحانی شخصیات گزریں ہیں، ان میں اکثر حضرات کی ذات و صفات اور تربیت سازی میں ماں کا بہت اہم کردار رہاہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ دنیا جنہیں غوث اعظم کے نام سے بھی جانتی ہے۔ بہت بڑے بزرگ اور ولی کامل تھے، آپ کی ساری زندگی تبلیغ و اشاعت اسلام میں گزری، بے شمار لوگوں نے آپ سے روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی بہت زیادہ اللہ تعالٰی سے ڈرنے والی، خلوص و وفا کی پیکر، نیک سیرت، خاتون تھیں۔ جب آپ رحمہ الله شکم مادر میں تھے تو وہ بہت کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتیں تھیں
اور صوم و صلوات کی بہت زیادہ پابند تھیں۔
ماں کی نیک صفات ہی کے نتیجے اور اللہ تعالٰی کے خاص فضل و کرم سے آپ کو قرآن کریم کے اٹھارہ پارے ماں کے پیٹ ہی میں یاد ہوگئے اور آپ جب پیدا ہوئے تو آپ کو قرآن مجید کے اٹھارہ پارے حفظ یاد تھے۔ یہ سب ماں کی نیک نیتی، اور تعلیم و تربیت سے آراستہ ہونے کا ہی نتیجہ تھا۔ حضرت شیخ سیّدنا عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں کہ بچپن میں ایک دفعہ مجھے جنگل جانے کا اتفاق ہوا اور میں ایک بیل کے پیچھے کھڑا ہو کر عام کسانوں کی طرح ہل چلانے لگا میری حیرانگی کی اِنتہا نہ رہی جب اُس بیل نے مجھ سے کلام کیاکہ تم کاشتکاری کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں اِس کا حکم بھی نہیں دیا۔ آپ کو بچپن ہی سے علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم تو اپنے قصبہ جیلان میں ہی حاصل کی؛ لیکن دین کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کےلیے بغداد جانا پڑتا تھا۔ فرماتے ہیں کہ جب میری عمر ١٨ سال ہوئی تو میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ مجھے اِجازت دیجئے تاکہ میں بغداد شریف جا کر علماء کرام سے علم‘ مشائخ طریقت سے طریقت کا فیض حاصل کروں۔
ایک ماں کے لئے ایسے ہونہار‘ اِطاعت شعار اور پیدائشی ولی بیٹے کو اپنے سے جدائی کی اجازت دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مگر والدہ نے اپنے بیٹے کے اشتیاق کو دیکھتے ہوئے بغداد شریف جانے کی اِجازت مرحمت فرمادی۔ اس زمانے میں گاڑیاں اور موٹر کاریں نہ تھیں اس لیئے لوگ قافلوں کی صورت میں پیدل سفر کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کی والدہ نے آپ کو بھی بغداد جانے والے ایک قافلے کے ہمراہ روانہ کردیا، سفر پر روانہ ہونے سے پہلے والدہ نے خوراک اور چالیس اشرفیاں خرچہ کےلیے عنایت فرمائیں، والدہ نے یہ اشرفیاں آپ کی قمیص کی تہ میں سی دیا تاکہ محفوظ رہیں۔

چلتے وقت خاص طور پر آپ کو یہ نصیحت کی کہ بیٹا! "ھمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ کے قریب بھی نہ جانا۔ آپ نے ماں کی اس نصیحت کو غور سے سنا اور سفر پر روانہ ہوگئے، قافلہ ڈرتے ڈرتے سفر کیلئے روانہ ہوا، لوگوں کو اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ کہیں راستے میں ڈاکو قافلے پر حملہ نہ کردیں کیوں کہ ان دنوں راستے غیر محفوظ تھے اور ڈاکو اکثر قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا قافلے نے ابھی سفر کی دو منزلیں ہی طے کی تھیں کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے رات کی تاریکی میں اس پر حملہ کر دیا، تمام قافلے میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی اور ڈاکوؤں نے اہل قافلہ کو خوب لوٹا، ایک ڈاکو شیخ عبدالقادر جیلانی کے پاس آیا اور کہنے لگا: ” لڑکے تیرے پاس کیا ہے؟” آپ نے جواب دیا "میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں جو میری قمیص کی تہ میں سلی ہوئی ہیں”۔ ڈاکوؤں نے آپ کی اس بات کو مذاق سمجھا اور ہنستا ہوا آگے چلاگیا، اس کے بعد ایک اور ڈاکو آپ کے پاس آیا اور وہی سوال کیا، پھر آپ نے وہی جواب دیا، وہ ڈاکو یہ جواب سن کر حیران ہوا اور آپ کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا، ڈاکو کے سردار نے تعجب سے آپ کو دیکھا اور پو چھا "لڑکے سچ مچ بتا تیرے پاس کیا ہے”؟
آپ نے وہی بات دہرائی، آپ کی یہ بات سن کر سردار کے حیرت کی انتہا نہ رہی، آپ نے اپنی قمیص کی تہ کو کھولا تو پوری چالیس اشرفیاں زمین پر گر پڑیں، اشرفیاں دیکھ کر ڈاکو کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں، اس نے آپ سے مخاطب ہوکر کہا "لڑکے! تونے سچ بول کر اپنا راز کیوں فاش کر دیا حالانکہ تو آسانیاں سے اپنی اشرفیاں بچا سکتاتھا؟‘‘ آپ نے جواب دیا "میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ بیٹا! ہمیشہ سچ بولنا، میں نے اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کیا”۔ آپ کا یہ جواب سن کر سردار اس قدر متاثر ہوا کہ بے ساختہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ سوچنے لگا کہ ایک طرف یہ لڑکا ہے جسے اپنی ماں کی نصیحت کا اس قدر خیال ہے، اور دوسری طرف میں ہوں کہ اپنے مالک حقیقی کے احکام سے غافل ہو کر بے گناہ لوگوں کو لوٹتا ہوں۔
اس کے دل سے غفلت کا پردہ اٹھ گیا، اس نے فورا توبہ کرلی اور قافلے کا لوٹا ہوا مال واپس کر دیا، اس طرح آپ کی سچائی اور اور والدہ کی صحیح تعلیم و تربیت کے بدولت ڈاکوؤں کی اصلاح ہو گئی، وہ لوگ نیک، متقی اور پرہیز بن کر اچھی طرح زندگی گزارنے لگے۔
دوستو! یہ ہے حقیقی تعلیم و تربیت کا نتیجہ جس نے ڈاکوؤں کو بھی نور ہدایت سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا آپ کے تعلیمات سے فیض یاب ہو رہی ہے،مشرق و مغرب، شمال و جنوب، ہر جانب آپ کے نام کا ڈنکا بج رہاہے۔
تربیت کی دو قسمیں ہیں: 1۔ ظاہری تربیت 2۔ باطنی تربیت
اولاد کی تربیت میں ظاہری اعتبار سے، وضع قطع، لباس، کھانا، پینا، نشست و برخاست، میل جول، اس کے دوست و احباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا، اس کے تعلیمی حالات کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ امور اس میں شامل ہیں ، آج کل جو بازاروں میں کھانے کی اشیاء جیسے چائنیز فوڈ، فاسٹ فوڈ، جھنگ فوڈ یعنی میگی، نوڈلز، پیزا، چپس وغیرہ اور پینے کی اشیاء جیسے سوفٹ ڈرنک، کول ڈرنکس یعنی پیپسی، کوکاکولا،سیون اپ، اسپرائٹ اور اس طرح کے تمام ماکولات و مشروبات صحت کے لیے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہیں لہذا ان سب چیزوں کے کھانے اور پینے سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
باطنی تربیت سے مراد ان کے عقیدہ، اخلاق کی اصلاح و درستگی، نماز، روزے، سچ بولنے،چھوٹ سے بچنے، اور ایک دوسرے کی عزت و احترام کرنے کی عادات و اطوار اس میں شامل ہیں۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت کے ذمہ فرض ہیں
ماں باپ کے دل اپنی اولاد کےلیے بے حد رحمت و شفقت کا فطری جذبہ اور پایا جاتا ہے وہی فطری جذبات و احساسات ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور ان کی ضروریات کی کفالت پر انہیں ابھارتے ہیں، ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقے سے اخلاص کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔
ارشاد نبوی ہے "اپنی اولاد کو جب وہ سات سال کی ہو جائیں تو نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کی ہو جائیں، تو نماز چھوڑنے پر سرزنش وتادیب کرو اور خواب گاہ کو علیحدہ کرو.” (ابوداود)
ایک اور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے "جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں”۔
بچے نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں، ہم ان سے جس طرح پیش آئیں گے ان کی شکل ویسی ہی بن جائے گی، بچے اگر کوئی اچھا کام کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کےلیے تعریف سے دریغ نہ کرنا چاہیے، اس موقع پر انہیں شاباشی اور کوئی ایسا تحفہ وغیرہ ضرور دینا چاہیے جس سے بچیں خوش ہو جائیں اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے-
بچوں سے خطا ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، غلطی تو بڑوں سے بھی ہو جاتی ہے، ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچوں سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچوں سے غلطی کسی وجہ سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے انہیں سمجھایا جائے، تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت ان کےلیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟
تو جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے، بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ پیار و محبت سے بچوں کی تربیت و اصلاح کا ایک واقعہ: حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے کہ ، میں بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت اور زیر کفالت تھا، میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اے بچے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ”۔ تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہئے، غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے: ١ سمجھانا ٢ ڈانٹ ڈپٹ کرنا ٣ مارکے علاوہ کوئی سزا دینا، ۴ مارنا، ٥ قطع تعلق کرنا۔
بچوں کی تربیت کے لیے ماں، باپ یا استاذ کا انہیں ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے؛ بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتاہے، اس معاملے میں افراط و تفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے، غصہ میں بے قابو ہوجانا اور حد سے زیادہ مارنا یا بچوں کے مارنے ہی کو غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں، پہلی صورت میں افراط اور دوسری میں تفریط ہے، اعتدال کا راستہ وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا (جو پہلے بھی ذکر کی جاچکی ہے) کہ "بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو جب وہ دس سال کے ہو جائیں” ۔ اس حدیث شریف سے مناسب موقع پر حسب ضرورت مارنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ مارنے میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس حد تک نہ مارا جائے کہ جسم پر مار کا نشان پڑجائے۔ نیز جس وقت غصہ آرہا ہو اس وقت بھی نہ مارا جائے؛ بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو اس وقت مصنوعی غصہ ظاہر کرکے مارا جائے؛ کیونکہ طبعی غصہ کے وقت مارنے میں حد سے تجاوز کر جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور مصنوعی غصہ میں یہ خطرہ نہیں ہوتا، مقصد بھی حاصل ہوجاتاہے اور تجاوز بھی نہیں ہوتا۔

تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کےلیے جو سب سے اہم اور ضروری چیز ہے وہ تعلیم ہے، تعلیم ہی کے ذریعہ انسان کو دنیا میں آنے کا صحیح مقصد معلوم ہوتا ہے، خدا اور اس کے رسول کی پہچان، آخرت، جنت ،جہنم، ملائکہ، بعث بعد الموت کا علم، نیز صحیح اور غلط کی تمیز، حرام و حلال کا تصور، حقوق اللہ اور حقوق العبادکی معرفت، آداب معاشرت کی اہمیت اسی علم دین کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، علم دین ہی ایک ایسا نور جس کی روشنی سے انسان دنیا کی فلاح، آخرت کی دائمی کامیابی اور اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی حاصل کرسکتا ہے، اسی لیے خالق کائنات نے اپنے پیارے حبیب نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جبرئیل امین کی معرفت انسانوں کو جو سب سے پہلا پیغام دیا وہ علم ہی کا ہی پیغام تھا، قرآن کریم کی سب سے پہلی آیت میں ارشاد باری تعالٰی ہے: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھرے سے پیدا کیا، تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے(علم) سکھایا، جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا”۔اقرا

اللہ تبارک و تعالٰی نے توحید و رسالت، عبادت و ریاضت، اخلاق حسنہ اور نیک صفات کا ذکر کرنے کے بجائے، محض علم کی برتری اور عظمت کے اظہار کےلیے اپنی مقدس کتاب کی سب سے پہلی آیت میں علم کا تذکرہ فرمایا تاکہ لوگ علم کی رفعت اور اہمیت و افادیت کو جان لیں اور اس نعمت عظمی کو سب سے پہلے حاصل کریں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” علم و حکمت عزت دار آدمی کو اور زیادہ عزت بخشتا ہے اور غلام کو بلند کرتے کرتے بادشاہوں کے تخت پر بٹھا دیتاہے۔ کسی نے خوب کہا ہے: ” دلوں کےلیے علم اسی طرح زندگی ہے جس طرح مینہ سے زمین زندہ ہوجاتی ہے، علم جہالت کو دل سے اسی طرح زائل کر دیتا ہے جس طرح چاند گھنے اندھیرے کو-

علم ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے انسانوں کو ملائکہ (فرشتوں)جیسی عظیم الشان مخلوق پر فوقیت حاصل ہوئی
علم ہی وہ جوہر ہے جو انسانوں کی عزت و سر بلندی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالٰی نے علم ہی کی بدولت انسانوں کو تمام کائنات میں افضل و اشرف بنایا اور زمین میں اپنی خلافت کا تاج پہنایا۔ علم کے بدولت ہی انسان کو اشرف المخلوقات(مخلوقات میں سب سے افضل)کا درجہ ملا ورنہ دیگر اوصاف میں تو حیوان بھی انسان کے شریک ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمةاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حقیقت میں انسان علم ہی کی وجہ سے دوسرے حیوانات پر شرف رکھتا ہے نہ کہ طاقت و قوت کی وجہ سے کیوں کہ طاقت میں دوسرے جانور انسان سے بڑھے ہوئے ہیں، نہ موٹاپے کی وجہ سے کہ ہاتھی موٹاپے میں زیادہ ہے، نہ بہادری کے وجہ سے کہ درندہ انسان سے زیادہ بہادر ہوتا ہے، نہ کھانے کی وجہ سے کہ کھانے میں بیل انسان سے بڑھ کر ہے، اور نہ صحبت کی خواہش کی وجہ سے کہ چڑیا اس میں انسان سے آگے ہے، معلوم ہوا کہ صرف علم کی وجہ سے انسان یہ شرف رکھتا ہے، اور یہ علم صرف انسان ہی کو بخشا گیا ہے۔ دنیا میں چار ذی شعور مخلوقات ہیں، انسان، ملائکہ، جنات، اور حیوانات ان میں انسان کے علاوہ کسی کو یہ علم عطا نہیں کیا گیا، کسی کو قدر نصیب ہوا بھی تو انسان ہی کے طفیل اور اس کے واسطے سے ہوا۔
حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر علما نہ ہوتے تو لوگ جانوروں کے مانند ہوتے کیونکہ تعلیم اور علم ہی کے ذریعہ انسان حد بہیمیت سے نکل کر حد انسانیت میں کی طرف آتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشہور خطبے میں ارشاد فرمایا آدمی اپنے علم و ہنر سے ہی آدمی ہے، آدمی کا رتبہ اتنا ہی ہے جتنا کہ اس کا علم، لہٰذا علم میں گفتگو کرو تاکہ تمہارے رتبے ظاہر ہوں۔

انہیں کے یہ اشعار بھی ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: صورت کے لحاظ سے تمام آدمی یکساں ہیں، باپ آدم اور ماں حوا ہیں، سب میں ایک ہی قسم کی جان ہے، روحیں بھی مشابہ ہیں، سب میں ہڈیاں اور اعضا ہیں۔ ہاں! فضیلت ہے تو صرف علم کو ہے وہ طالبان ہدایت کیلئے راہنما ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا "آپ فرما دیجیے ! کیا اہل علم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ یقینا عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں”۔(زمر) یعنی علم والے اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔
نبی اکرم، شفیع اعظم، رحمت دو عالم، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے”۔
لہذا تمام والدین کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں اور ان کے تمام حرکات و سکنات پر گہری نگاہ رکھیں اور انتہائی حکمت و دانائی کے ساتھ بچوں کی ذہن سازی بھی کی جائے تاکہ ایک اچھی نسل تیار ہو جو والدین کے ساتھ ساتھ پوری قوم اور ملک و ملت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو، اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*