اولاد کی تعلیم وتربیت میں والدین کا کردار مولانا شاداب تقی قاسمی

 

اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے ذمہ اولاد کی تعلیم وتربیت کی اہم ذمہ داری رکھی ہے ،جو والدین اس ذمہ داری کو سمجھ کر اچھی تربیت کرتے ہیں ان کے بچے دنیا کی زندگی میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور اچھی تربیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور رسول اللہ ﷺ کے اطاعت گزار ہونے کی بناء پرآخرت میں ان کے لئے اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں،بچوں کو اچھے کھانے کھلانےاور اچھے کپڑے پہنانے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ ان کو پہلے مسلما ن بنایا جائے،ان کی اس انداز سے تربیت کی جائے کہ وہ مرجانا پسند کریں لیکن دامنِ اسلام کو ہاتھ سے چھوڑنا ان کے لئے گوراہ نہ ہو،جس طرح اولاد کی دنیاوی تعلیم اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کی آخرت کی فکر کی جائے ،کسی طرح ان کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے بچاکر جنت کا وارث بنانے کی کوشش کی جائے،اولاد کی تعلیم تربیت میں کوتاہی یہ اللہ تعالیٰ کےنزدیک پکڑ کا سبب بن سکتی ہے،اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے کلام کو اس کو یوں بیان فرمادیا:قوا انفسکم واھلیکم ناراوقودھاالناس والحجارۃ.(التحریم:۶)اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی متنبہ فرمادیا کہ تم میں سے ہرشخص راعی(نگہبان) ہے اور ہر شخص سے قیامت کے دن اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(ابودائود:۲۹۲۸)

 

ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ:

ماں کی ہستی کو اللہ رب العزت نے بڑی فضیلت اور فوقیت عطا فرمائی ہے ،رسول اللہﷺ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کو بہت اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے،چناں چہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس آدمی نے عرض کیا پھر کس کا؟ (حق ہے) آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے پھر عرض کیا پھر کس کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے عرض کیا پھر کس کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تیرے باپ کا۔(مسلم :۶۵۰۰)ماں کی گود اولاد کے لئے سب سے پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے،اسی تربیت پر بچوں کے مستقبل کا انحصار ہوتاہے،اسی میں ان کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ ہوتاہے،ماں اگر دیندار ہے اور خدا اور رسول کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والی ہے تو یقینی طور پر اس کی اولاد بھی خدا اور رسول کی فرمانبردار ہوں گی،اس کے بر عکس اگر ماں ہی دینی مزاج ومذاق کی حامل نہیں ہے اور اسلامی تعلیمات سے واقف کار نہیں ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس کی اولاد بھی دین سے کوسو ں دور اور اسلامی احکام سے نابلدہوں گی،تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ تمام عظیم شخصیات کی دینی ودنیوی کامیابی کے پیچھے ان کی مائوں کا بہت اہم رول رہا ہے،حضرت اسماعیلؑ کی والدہ حضرت ہاجرہ سے لے کر سرور دو عالم ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ ؓ تک اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی والدہ سےلے کر مفکراسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی والدہ تک ہر ایک کی تعلیم،تربیت اور اخلاق میں ان کی مائوں کا غیر معمولی کرداررہا،اب والدین میں سے خصوصا مائوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کی دینی تربیت کی فکر کریں ،ان کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرانے کے لئے تگ ودو کریں،ساتھ ہی ہر طرح سے ان پر نظر رکھیں ،تربیت میںکوئی کمی نہ آنے دیں۔

 

انبیاء کرامؑ کا اسوہ:

اولاد کی درست تربیت کے لئے حضرات انبیاء کرام بے چین رہا کرتے تھے،ہر دم ان کی تعلیم وتربیت کا خیال فرمایا کرتے تھے،ان کی اولین فکر یہ ہوتی تھی کہ بچہ اسلامی تعلیمات کا ایسا خوگر ہوجائے کہ رگ رگ میں دین اسلام سماجائے اورتوحید کی حقیقت ان کے دل میں راسخ ہوجائے ،چناں چہ ایک جلیل القدر نبی ہیں جن کا نام حضرت یعقوب ؑ ہیں ان کے واقعہ کو قرآن کریم میںاہمیت کےساتھ بیان کیا گیا ہے ،واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت یعقوب انتقال فرمانے لگے،تو اپنی اولاد کو بلاکر پوچھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کیا تم اس وقت خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا ،جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ان سب نے کہا کہ ہم اسی ایک خداکی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے با پ دادوں ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کا معبودہے ،اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں۔(البقرہ:۱۳۳)جب انبیا ء ؑ کے اس طرز خاص میں عام انسانوں کیلئے یہ بھی ہدایت ہے کہ وہ جس طرح ان کی دنیوی پرورش اور ان کے دنیوی آرام و راحت کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ا ن پر لازم ہے کہ اولاد کی نظری ،فکری ، عملی ، اور اخلاقی تربیت کریں ،برے راستوں اور دیگر برے اعمال و اخلاق سے ان کو بچانے میں سعی بلیغ کریں کہ اولاد کی سچی محبت اور اصلی خیر خواہی یہی ہے ۔( معارف القرآن :1/350)

 

توحید وقرآن کی تعلیم کی فکر کریں:

والدین کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اولاد کو سب سے پہلے توحید کی تعلیم دیں،ان کےقلوب میں رب کے ایک ہونےاور اسی سے ہر کام کے ہونے کے عقیدہ کو دل وجان میں پیوست کردیں،بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ آخری دم تک موحد رہیں،زندگی کے کسی موڈ پر ان کا عقیدہ توحید نہ لڑکھڑائے ،ہر وقت ثابت قدم رہیں،حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اولادکی زبان سب سے پہلے لا الہ الا اللہ .سے کھلواؤ،(حاکم)اس حدیث مبارکہ میں دیکھئے کہ رسول اللہ ﷺ فرمارہے ہیں کہ اپنی اولاد کو سب سے پہلے جب وہ بولنا شروع کریں تو اس اسی وقت سے توحید کا کلمہ سکھلادیا جائے تاکہ یہ زندگی بھر اس کے ذہن ودل میں نقش علی الحجر کی طرح محفوظ ہو۔حضرت مولانا ابولحسن علی میاں ندویؒ کی والدہ محترمہ خواتین کو نصیحت فرماتی ہیں:بچوں کی تعلیم کی ابتداءاللہ کے نام سے کرو ،کوئی اور لفظ نہ کہنے پائیں ، ایسی باتیں نہ سکھاؤ جو آج کل رائج ہیں کہ بچے کو انگریزی ، ہندی الفاظ سکھائے جاتے ہیں ، ایسے الفاظ زبان سے نہ نکالو ، بچہ جلد سیکھ لیتا ہے ، ان باتوں سے خوش نہ ہو ، بلکہ افسوس کرو ، ان کی زبان پر الله کا نام اور رسول اللہﷺ کا نام رواں کرو ، جو چیز مانگے کہو اللہ سے مانگو اور جو چیز دو کہو اللہ نے دی ہے ، ان کے دل میں ایمان کی قوت پیدا کرتی رہو ، ان کے ہر کام کی ابتداء بسم اللہ سے کرو ، ان کو کلمہ سکھائو کہ اللہ اور رسولﷺ کو پہچانیں ، جب ان کو سمجھ آجائے تو ان کو کلام مجید کی چھوٹی چھوٹی سورتیں،سورہ اخلاص ،سورہ کوثر وغیرہ کا ایک ایک لفظ سکھاتی رہو،ساتھ میں ترجمہ میں سکھاتی رہو،رفتہ رفتہ بڑی سورتیں یونہی آگے چل کر سیکھ جائیں گے۔(حسن معاشرت:۵۸)اولاد کو توحید کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی بھی تعلیم دیں ،قرآن اللہ کی کتاب ہے ،یہ صبح قیامت تک باقی رہنے والی ہے،اس کا ایک ایک حرف سچا اور صادق ہے،یہ ہدایت کا ذریعہ ہے ،اس کی تعلیمات ساری انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کی ہے ،ابتداءََاس طرح بچوں میں قرآن سے شغف پیدا کیا جائے ،پھر باضابطہ اس کا ناظرہ اور حفظ پڑھایا جائے۔حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ، اپنے نبی کی محبت اور ان کے اہل بیت سے محبت اور قرآن مجید کی تلاوت، اس لیے کہ قرآن کریم یاد کرنے والے الله کے عرش کے سایہ میں انبیاء کے ساتھ اس دن میں ہوں گے جس دن اس کے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (طبرانی)

 

نماز کی تاکید کریں:

والدین سب سے پہلے نماز کا اہتمام کریں اور اپنی اولاد کو بھی نماز کا حکم دیتے رہیں،اس لیے کہ اگر آپ نماز کے پابند ہوں گے تو اس کے لئے آپ کو اپنی اولاد پر زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں وہ خود اگر لڑکا ہے تو والد کو دیکھ کر وہ مسجد کو آیا جایا کرے گا اور لڑکی گھر میں ماں کو نماز پڑھتا دیکھ کر وہ خود بھی نماز کا اہتمام کرنے والی بنے گی۔سبرہ بن معبد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہوجائیں تو اس (کے ترک) پر انہیں مارو ۔ (ابودائود:۴۹۴) خود رسول اکرم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ: اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کیجیےاور خود بھی اس کے پابند رہیے۔(طہ:۱۳۲)قرآن کریم میں ایک مقام پر حضرت اسماعیلؑ کے خصوصی اوصاف میں ایک یہ بھی بیان کیا گیا کہ وہ اپنے اہل وعیال کو نماز کاوزکوۃ کا حکم دیتے تھے۔(مریم:۵۵) قرآن مجید میں جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی دعائوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہیں آپ ؑ کی اس دعا کو بھی جو کہ آپؑنے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے نماز کی پابندی پر قائم رہنے کے دعا مانگی تھی اس کو بھی باضابطہ بیان کیا گیا ہے،چناں چہ فرمایا: یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمایے جو نماز قائم کریں) اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمالیجیے ۔(ابراہیم:۴۰)ان ساری آیات وحادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم خود بھی نماز کی پابندی کرنے والے بنیں اور اپنی اولاد کو بھی اس کا عادی بنائیں اور رب کے حضور اس پر مداومت کی دعا بھی مانگتے رہیں۔

 

خلاصہ:

اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا اور اسلامی نہج پر ان کی تربیت کرنا یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے،اس میں ذرہ برابر بھی کوتاہی بہت بڑے نقصان کا باعث ہوسکتی ہے،والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کریں،بچوں کے مستقبل کوتباہ ہونے سے بچالیں،ہر آن ،ہر لمحہ اپنی اولاد کی جانب تربیت کی نگاہ رکھیں،لایعنی مشاغل میں پڑھ کر عمر کو ضائع کرنے سےروکیں،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کو جہنم سے بچانے کی ہروقت کوشش کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*