افغانستان بحران: دیوبندپر یوگی حکومت کی ٹیڑھی نظر،اے ٹی ایس کمانڈو ٹریننگ سینٹر بنانے کا فیصلہ

لکھنو:ہندوستان کاعظیم دینی ادارہ دارالعلوم کا شہر دیوبند ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ یوپی کی یوگی حکومت نے دیوبند میں اے ٹی ایس کا کمانڈو ٹریننگ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے یوپی پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو زمین بھی فراہم کی گئی ہے ، حکومت کی کوشش ہے کہ اسے ایک سال کے اندر شروع کر دیا جائے۔ اے ٹی ایس کے کمانڈوز کواب تک لکھنؤ کے مرکز میں ٹریننگ دی جاتی رہی ہے۔ دیوبند میں دوسرا تربیتی مرکز قائم کرنے کے حوالے سے تنازعہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ دیوبند کے دارالعلوم کو دنیا کا بڑا اسلامی تعلیمی مرکز شمار کیا جاتا ہے۔دنیا کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جہاں کے کسی نہ کسی مسلمان نے یہاں سے تعلیم حاصل کی نہ ہو۔ اب یوگی حکومت اسی جگہ پر اے ٹی ایس کا کمانڈو ٹریننگ سینٹر شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مرکز مغربی یوپی کے مسلمانوں کو بنیاد پرست بننے سے روکنے میں مدد کرے گا۔ حالیہ دنوں میں کچھ لوگ تبدیلی مذہب کے لیے پکڑے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ کچھ ہندو تنظیمیں دارالعلوم دیوبند پر دہشت گردوں سے روابط رکھنے کا الزام بھی لگاتی رہی ہیں۔ بجرنگ دل دیوبند کا نام تبدیل کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔مقامی بی جے پی ایم ایل اے کنور برجیش سنگھ بھی اس تحریک کے ساتھ ہیں۔ ان سب کا مطالبہ ہے کہ دیوبند کا نام تبدیل کرکے دیوورند رکھا جائے۔ دیوبند ہندوستان کی تحریک آزادی سے بھی وابستہ رہا ہے۔ یہاں سے پڑھنے والے دنیا بھر کے مدارس میں مسلمانوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔