اے ٹی ایم سے 5000 سے زیادہ نکالنے پرچارج کی تیاری

نئی دہلی:کورونا بحران کے اس دور میں بینک صارفین کو ایک اور دھچکا لگ سکتا ہے۔ اب اگر آپ بینک کے اے ٹی ایم سے پانچ ہزارروپے سے زیادہ کیش نکالیں گے تو آپ کو اضافی چارج بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ابھی اس پر غور کر رہا ہے۔یعنی اب نہ بینک میں پیسے رکھنے میں راحت ہے اورنہ نکالنے میں۔بے روزگاری ،مہنگائی سرچڑھ کربول رہی ہے ۔پھربھی غریبوں اورعوام کی جیب پرمارلگے گی۔اے ٹی ایم پرنظر ثانی کے لیے آر بی آئی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسی کمیٹی نے ایک بار میں پانچ ہزار سے زیادہ رقم نکالنے کے لیے اے ٹی ایم سے فیس وصول کرنے کی سفارش کی ہے۔ اے ٹی ایم سے 5 ہزار سے زیادہ رقم نکالنے پر آنے والے دنوں میں اضافی چارجز ادا کرنا پڑسکتے ہیں۔ آر بی آئی یا ریزرو بینک آف انڈیا اس پر غور کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پانچ مفت لین دین میں شامل نہیں ہوگا۔ساتھ ہی یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اے ٹی ایم سے پانچ ہزار روپے واپس لینے پر ، بینک صارفین سے اضافی طور پر 24 روپے وصول کرسکتاہے۔ اب تک پانچ لین دین مفت میں دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ، کیے گئے لین دین پر 20 روپے اضافی فیس ادا کرنا ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہی سیاست نے اے ٹی ایم سے 5 ہزار سے زیادہ رقم نکالنے کے لیے اضافی فیس لینے پر بھی شروع کردی ہے۔ دراصل آر بی آئی کابہانہ یہ ہے کہ صارفین زیادہ سے زیادہ لین دین آن لائن کریں۔ لوگ صرف رقم نکالنے کے لیے اے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں۔ نیز بڑے شہروں میں اے ٹی ایم کی تعداد کم کرکے ، آر بی آئی 10 لاکھ سے کم آبادی والے چھوٹے شہروں میں اے ٹی ایم کے رجحان کو بڑھانا چاہتا ہے۔