آسام سیلاب پرمودی کوبولنے کی ہمت نہیں:پرینکاگاندھی

جوراہاٹ:کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پرسخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایاہے کہ انہیں 22 سالہ خاتون کے ایک ٹویٹ سے دکھ ہوا ہے ، لیکن ان لوگوں کے لیے جو سیلاب سے تباہ ہوئے ،انھوںنے کچھ نہیں کہا۔ایک انتخابی ریلی میں مودی نے ٹول کٹ اور کانگریس کی مبینہ سازش کا معاملہ اٹھائے جانے کے ایک دن بعد سابق وزیر اعظم مرحوم راجیو گاندھی کی صاحبزادی نے کہاہے کہ مودی سیلاب کے دوران لوگوں کی مشکلات کے بارے میں خاموش ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران برہما پترا میں گذشتہ سال کے سیلاب سے تقریباََ 28 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔پرینکاگاندھی نے کہاہے کہ میں کل وزیر اعظم کی تقریر سن رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ آسام کی ترقی یا بی جے پی کے آسام میں کام کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ وزیر اعظم 22 سالہ خاتون (دشا راوی) کے ٹویٹ کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے کہاہے کہ کانگریس نے آسام کی چائے کی صنعت کوختم کرنے کی سازش کی۔کانگریس قائد نے مودی سے سوال کیا ہے کہ جب لوگ ڈوب رہے تھے تو آپ آسام کیوں نہیں آئے؟جب بی جے پی کے تمام بڑے وعدے پورے نہیں ہوئے تو آپ غمگین کیوں نہیں ہوئے؟ کیا آپ چائے کے باغ میں گئے اور کارکنوں سے ان کی پریشانیوں کے بارے میں بات کی؟ پرینکاگاندھی نے آسام میں وزیر اعظم کے ’ڈبل انجن‘ حکومت کے مشہور بیان پر مذاق اڑایا اور کہاہے کہ ابھی ریاست میں دو وزرائے اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے یہ بات بجلی کے معاملے پر وزیر بجلی ہیمنت بِسواشرما اور وزیراعلیٰ سربانند سونووال کے مابین جاری تنازعہ کاذکر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آپ کی ڈبل انجن حکومت ہے ، لیکن آسام کے دو وزرائے اعلیٰ ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ کون سا ایندھن چلائے گا۔ آسام میں آسام کی حکومت نہیں چل رہی ہے۔ خداآپ کو بچائے۔