عصر حاضر میں قربانی کی معنویت-مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

قربانی اللہ کے جلیل القدر نبی حضرت ابراہیم علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی سنت ہے، یہی وہ ذات گرامی ہے جس نے ہم سب کو مسلمان کا نام دیا، انہوں نے دین کی تبلیغ واشاعت کے لیے اپنا گھر درچھوڑا، علاقہ چھوڑا، آگ میں ڈالے گئے، بڑھاپے میں بڑی دعاؤں کے بعد اللہ نے اولادد ی تو اسے اللہ کے حکم سے وادی غیر ذی ذرع(بنجرزمین) میں اللہ کے با عظمت گھر کعبہ کے پاس چھوڑ آئے، جہاں اس وقت کھانے پینے تک کی سہولت نہیں تھی، جب نامور صاحب زادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سن شعور کو پہونچے تو ان کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے کا حکم ہوا، حضرت ابراہیم علیہ السلام تمام احکام کی بجا آوری کرتے رہے اور اللہ کے حکم کے آگے سرجھکاتے رہے، بیٹا بھی اللہ نے حلیم، بردبار اور برداشت کرنے والا دیا تھا، اس لیے اس نے بھی صبر کا ایسا مظاہرہ کیا کہ جس کی دوسری مثال معلوم تاریخ میں نہیں ملتی، نہ صرف صبر؛ بلکہ قربانی کرتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیا کیا کرنا چاہئے، اس کے لیے ضروری مشورے بھی دیے؛ تاکہ شفقت پدری حکم رب کی ادائیگی میں مانع نہ ہو، عام طور سے ہم لوگوں کو حضرت اسماعیل کو قربانی کے لیے پیش کرنے کا واقعہ یاد ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری قربانیوں کا ذکر ذرا کم آتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی قربانی کے اعتبار سے مثالی نمونہ ہے، اسی خصوصیت کی و جہ سے درود شریف جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں، اس میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان پر بھی درود بھیجنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔”اللّٰھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید……الخ“جانور کی قربانی اصلاً اس واقعہ کی یاد گار ہے جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں اللہ نے دوسرا جانور جنت سے بھیج کر ذبح کروادیا تھا اوراس کو بعد میں آنے والی امت کے لیے اسوہ بنادیاتھا، اسی لیے قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قربانی کا جو حکم اس امت کو دیا گیا ہے یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے، بلکہ گذشتہ تمام امتوں کے ذمہ قربانی کی عبادت تھی،اللہ رب العزت نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے یہاں قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہونچتا، صرف تقویٰ پہونچتا ہے۔ قربانی اس لیے کی جاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک قربانی کے ایام میں اس عمل سے زیادہ کچھ محبوب نہیں اور اللہ تعالیٰ نے قربانی کی صورتیں بتادی ہیں،ا س لیے قربانی کے لیے وہی صورت ضروری ہے، ان ایام میں قربانی کے علاوہ دوسرے طریقہ سے روپے خرچ کرنے سے قربانی کی ادائیگی نہیں ہوگی، کیوں کہ شریعت میں مقصد کے حصول کے لیے وہ طریقہ بھی مطلوب ہے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ عصر حاضر کی شناخت اور پہچان مادیت سے ہے، ہر آدمی اپنی ذات، خاندان اور بال بچوں تک محدود ہو کر رہ گیا، اس کی دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے، حالاں کہ انسان صرف اس لیے مکرم نہیں ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے، یہ کام تو جانور بھی کر لیا کرتے ہیں، انسان کی ساری عظمت اس لیے ہے کہ وہ روئے زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے، ساری کائنات اس کے لیے پیدا کی گئی ہے اور وہ اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، عبادت کے دائرہ میں اللہ کے نام اور دین کو بلند کرنے کی ذمہ داری بھی آتی ہے، اسے مخلوق خدا کی ضرورتوں کی تکمیل کے بارے میں بھی سوچنا ہے، وقت آجانے پر ان کاموں کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح جان ومال، خاندان، بال بچے تک کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار رہنا ہے، یہ مزاج جانوروں کی قربانی سے بنتا ہے، اس کے گوشت سے غریب ونادار کی غذائی ضرورت کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور قربانی کے دنوں میں جو بندہ اللہ کا مہمان ہوتا ہے اس کی ضیافت کی سبیل اور شکلیں بھی پیدا ہوتی ہیں، آدمی جانور کو محبت سے پالتاہے، اس کے دل میں جانور کی الفت گھر کر جاتی ہے، پھر اسے ذبح کر دیتا ہے، ذبح یا تو خود کرتا ہے یا کم از کم اسے قربان ہوتا ہوا دیکھتا ہے، وہ اعلان کرتا ہے کہ میری نمازیں، میری قربانی، میری حیات وموت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، وہ جس طرح چاہے اسے استعمال میں لے آئے، یہ جذبہ بڑا قیمتی ہے اور اس قیمتی جذبے سے دین وایمان اور شریعت کی سر بلندی کے لیے بڑا سے بڑا کام لیا جاسکتا ہے، اس لیے قربانی ضروری ہے، یہ قربانی صرف جانور کی نہیں، اپنے احساسات وخیالات جو شریعت کے خلاف ہیں ان کی بھی قربانی ہے، ان تمام خواہشات نفسانی کی قربانی ہے جو اللہ ورسول کے احکام وہدایات کے خلاف ہیں، اسی لیے جب جانور ذبح ہوجاتا ہے، تو اس کی کھلی ہوئی آنکھیں ہم سے پوچھتی ہیں کہ ہم نے تو اپنے جان کی قربانی دے دی، لیکن کیا تم نے بھی اللہ کے حکم کے خلاف کر رہے اپنے اعمال کو چھوڑنے اور نفس امارہ کی قربانی کا ارادہ کیا ہے، ذرا سوچئے! ہمارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟قربانی موٹے اور صحیح سالم جانور کی کرنے کا حکم دیا گیا، کیوں کہ خون بہا کر اور گوشت استعمال کرکے ہمارا رشتہ قربانی کے اس جانور سے ختم نہیں ہوجاتا؛ بلکہ وہ قیامت کے دن پل صراط پر ہماری سواری کے کام آئیں گے، اس کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہمیں ملے گی،اس لیے اچھے جانور کی قربانی کا اہتمام کرنا چاہئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نمود ونمائش کے طور پر جانور کی قربانی کی جائے اور اخبار میں چھپوایا جائے کہ اتنے لاکھ کا جانور ہم نے قربان کیا، یہ نمود ونمائش عبادت کے اثرات اور مقاصد دونوں کو فوت کر دے گا، اسی لیے ہر حال میں اس سے گریز کرنا چاہئے۔ حدیث میں ہے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے، نیت صرف گوشت کھانے اور لوگوں میں فخر وغرور کی ہوگی،تو بات وہیں پر ختم ہوجائے گی، قربانی کی ادائیگی صورتاً ہوجائے گی، واجب اتر بھی جائے گا، لیکن قربانی کے مقصد کے حصول،”تقویٰ“سے انسان دور رہ جائے گا۔فخر وغرور، نمود ونمائش انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے، کہیں نہ کہیں ذہن ودماغ کے کسی گوشے میں کئی کئی جانور کی قربانی اور بہت قیمتی جانور کی قربانی سے تھوڑی برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے تکبیر تشریق جو عید الاضحی میں نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک کہلوائی جاتی ہے، اس کی بہت ساری حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جانور کی وجہ سے جو کبر پیدا ہوا ہے، وہ نکل جائے اور چوں کہ قربانی کا جانور گھر میں پہلے آتا ہے اس لیے نویں ذی الحجہ سے ہی اس کام کو شروع کروا دیا جاتا ہے کہ کہو ”اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر ولِلّٰہ الحمد“یعنی اللہ سے سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ان جملوں میں بندہ اللہ کی بڑائی اور اس کے معبود ہونے کا اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ! ساری تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، مطلب واضح ہے کہ لوگ جو ہماری قربانی کے جانور کی تعریفیں کر رہے ہیں، یا میرے دل میں جو اس کی وجہ سے احساس برتری پیدا ہو رہاہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیوں کہ قابل تعریف صرف اللہ کی ذات ہے، تکبیر تشریق کا اہتمام انسانی نفس کو کبر جیسے رذیل صفت سے بچا دیتا ہے، قربانی کے ایام کا یہ بھی ایک بڑا فائدہ ہے۔موجودہ حالات میں لوگ یہ بھی پوچھتے رہتے ہیں کہ اگر قربانی کے بجائے ا س لاک ڈاؤن کے موقع سے غریبوں کی دوسری ضروریات کی تکمیل اسی روپئے سے کر دی جائے تو کیسا رہے گا؟ اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قربانی کی ادائیگی کسی دوسرے طریقے سے نہیں ہو سکتی، اپنے گاؤں، علاقے میں رکاوٹ ہو تو دوسری جگہ قربانی کروا دی جائے، یہ تو ہو سکتا ہے، لیکن قربانی نہ کر کے اس کا روپیہ دوسرے کام میں خرچ کر دیا جائے؛ جائز نہیں۔ البتہ جو لوگ واجب قربانی کی ادائیگی کے بعد نفل قربانی کا اہتمام کرتے ہیں، وہ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بعد نفلی قربانی والی رقم کو غریبوں کی دوسری ضرورتوں کی تکمیل کے لیے خرچ کر دیں تو اس کی گنجائش ہے۔ان دنوں ایک اور کوتاہی یہ ہو رہی ہے کہ شریعت نے قربانی کے جانور میں تین حصوں میں ایک حصہ غرباء و مساکین کے لیے مختص کیا ہے، فرج کے اس دور میں غریبوں کا حصہ بھی اسٹور (محفوظ) کر لیا جا تا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا عمل بھی شریعت کے مطابق ہونا چاہئے۔ایک مسئلہ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ قربانی کے گوشت کا بیچنا درست نہیں ہے، اور نہ ہی اسے قصائی کو اجرت میں دیا جا سکتا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*