اسرار جامعی:زندگی، موت سے بھی تلخ ملی ـ مالک اشتر

اسرار جامعی کو گذرے ایک برس بیت گیا۔ اردو طنز و مزاح کا یہ البیلا شاعر جب تک بن پڑا لوگوں کو ہنساتا رہا لیکن المیہ کہیے کہ خود اس کے آخری دن اس صورت میں بسر ہوئے کہ سننے والے رو دیئے۔ ایسے ہی سختیاں جھیلتے جھیلتے 4 اپریل 2020 کو جب شہر کے باسی وبا کے خوف سے گھروں کے دروازے بھیڑے بیٹھے تھے، اسرار جامعی کے در پر موت نے دستک دے ہی دی۔ وہ اٹھے اور خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لیے۔ دھیرے دھیرے انتقال کی خبر پھیلی تو چند ایک لوگ ان کی بوسیدہ سی کرائے کی کوٹھری میں پہنچے۔ جسم پر موجود ملگجے لباس کو اتار کر انہیں نہلایا دھلایا، نئے سفید کپڑے پہنائے اور کندھوں پر اٹھا کر قبرستان تک چھوڑ آئے۔
یہ سب دلی کے اس جامعہ نگر علاقہ میں ہوا جہاں ہر دو چار گلی چھوڑ کر اردو کا کوئی ‘سرپرست’ رہتا ہے۔ اس بستی میں غیر سرکاری تنظیموں اور ادبی اداروں کے بورڈ کسی نہ کسی گوشے سے ہاتھ ہلاتے نظر آ جاتے ہیں لیکن یہ سب انہیں گلیوں میں دن بھر بھٹکنے والے اسرار جامعی کے کچھ کام نہ آیا۔ جس شہر میں فروری مارچ میں سرکاری فنڈ نمٹانے کے نام پر ادبی جمگھٹ میں قورمے اور زردے کی رکابیاں چھلکائی جاتی ہوں وہاں ایک کافی جانا پہچانا ادبی فرد بھوکوں مر جائے اور کسی کو حیرت نہ ہو تو مجھے اس پر حیرت ہے۔ بھوکوں مرنے والی بات میں نے جوش تحریر میں نہیں لکھ دی بلکہ یہ حقیقت ہے۔ اسرار جامعی کے زندہ رہتے یہ خبر چھپ چکی تھی کہ اردو کا ایک سرکردہ مزاحیہ شاعر فاقے کرنے کو مجبور ہے۔
اسرار جامعی کا آبائی تعلق بہار کے گیا ضلع سے تھا۔انہوں نے 1937 میں اسرار الحق کے طور پر جس گھر میں آنکھیں کھولیں وہاں علم و ادب کی روایت چلی آ رہی تھی۔ باپ دادا جاگیردار ہونے کے باوجود تعلیم کے فروغ میں حصہ لیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں بھی ان بزرگوں نے حسب توفیق تعاون کیا تھا۔ اسرار جامعی کے والد علی گڑھ اور جامعہ میں پڑھ چکے تھے اور اکابرین جامعہ کے ہم جماعت بھی رہے تھے اس لئے اپنے بیٹے کو ابتدائی تعلیم کے لئے جامعہ بھجوا دیا۔ جامعہ کے لئے وہ بڑا عجیب دور تھا۔ ایک طرف وسائل کی تنگی تھی تو دوسری طرف علمی دنیا کے کتنے ہی روشن ستارے طلبہ کی تربیت میں اپنا سب کچھ کھپا رہے تھے۔ اسرار جامعی کو ذاکر صاحب، عابد صاحب اور مجیب صاحب جیسی شخصیات کی شاگردی نصیب ہوئی۔ جب ایسے اساتذہ ہوں تو کسی بھی زرخیز زمین میں علم و ادب کے ذوق کا پودھا پھوٹ ہی نکلے گا، ویسا ہی اسرار جامعی کے ساتھ ہوا۔ ایک دن جامعہ کی کسی دیوار پر اسرار جامعی پینسل سے اپنا نام (اسرار الحق) لکھ رہے تھے کہ ذاکر حسین صاحب نے دیکھ لیا۔ بچے کو قریب بلا کر پیار سے بولے ‘آپ کا نام ایسا ہونا چاہئے جسے دوسرے لوگ کتابوں اور اخباروں میں لکھیں نہ کہ خود آپ اسے فرش اور دیواروں پر لکھتے پھریں’۔ استاد کی یہ نصیحت شاگرد کے دل کو ایسی لگی کہ پوری عمر لکھنے لکھانے میں گزار دی۔
پٹنہ اور گیا میں ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسرار جامعی نے رانچی یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا۔ برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں انجینئرنگ کے لئے داخلہ لیا لیکن والد کی اچانک موت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر آنا پڑا اور پھر زمین جائیداد کی ذمہ داریوں نے گھیرے رکھا۔ شعر و ادب سے پرانا تعلق تھا لیکن پہلے پہل سنجیدہ شاعری ہی کیا کرتے تھے اور تب تک شاہ محمد اسرار الحق ہی تھے، بعد میں انہوں نے اپنا قلمی نام اسرار جامعی اختیار کیا اور مزاحیہ شاعری کا رخ کیا۔ اپنے انداز کے سبب وہ بہت جلد مشہور بھی ہو گئے۔ بہار میں بہت سی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے بعد وہ مستقل طور پر دلی کے جامعہ نگر میں آکر رہنے لگے۔
میں نے اسرار جامعی کو پہلی بار آج سے تیرہ سال پہلے جامعہ میں دیکھا اور سنا۔ اس رات پورے مشاعرے کی دو تہائی داد اکیلے انہوں نے وصول کی تھی۔ سامعین میں کثرت طلبہ کی تھی اور وہ اسرار جامعی کو سن کر لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے۔

بیگم نے ایک دن کہا نوکر کو بدتمیز
اس نے دیا جواب کہ کمتر نہیں ہوں میں
میڈم ذرا تمیز سے باتیں کیا کریں
نوکر ہوں آپ کا کوئی شوہر نہیں ہوں میں

بچہ ہوا جو شادی کے بس چار ماہ بعد
پوچھا کہ قبلِ وقت؟ تو بولے یہ جامعی
بچہ تو ٹھیک وقت پہ پیدا ہوا مگر
شادی میں پانچ ماہ کی تاخیر ہو گئی

اس کے بعد وہ اوکھلا میں جہاں کہیں ملتے میں ان سے ملاقات ضرور کیا کرتا۔ انہوں نے اپنے قطعات کی چھوٹی چھوٹی پرچیاں چھپوا رکھی تھیں جنہیں وہ ہر ایک ملاقاتی کو پکڑا دیا کرتے تھے۔ اسرار جامعی کی شاعری میں مزاح کے ساتھ ساتھ فکر انگیز پہلو بھی خوب ہوا کرتے۔ وہ اپنے آس پاس کے واقعات کو موضوع بنانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ مشاعروں میں گلے بازی کے دم پر چلنے والے کمزور شاعروں کو انہوں نے یوں پکڑا:

میں نے جب غزلیں سنائیں بزم میں
ایک صاحب نے کہا سن لیجئے
بحر سے خارج ہیں مصرعے آپ کے
گا کے ان کو بحر میں کر لیجئے

ادبی سمیناروں میں سننے والوں سے زیادہ کھانے والوں کی بھیڑ پر ان کا یہ تبصرہ تھا:

سنتا نہیں ہے کوئی مقالہ کسی کا اب
چھوٹی سی بات کو ہیں فسانہ کئے ہوئے
کیا جانتے نہیں کہ یہ کھانے کا وقت ہے
بیٹھے ہیں سب تصور کھانا کئے ہوئے

تنقید لکھنے کو چھپائی کا آسان نسخہ سمجھنے والے اسرار جامعی کے نشانے پر اس صورت میں آئے:

اک روز کہا میں نے کسی اہل نظر سے
تنقید تو کرتے ہی ہیں تخلیق بھی کرتے
وہ آئے قریب اور میرے کان میں بولے
تخلیق میں کرتا نہیں تنقید کے ڈر سے

مسلمانوں کی ردعمل کی نفسیات اور عمل سے دوری کو انہوں نے طنز کا موضوع یوں بنایا:

سیرت پہ اک کتاب بھی پڑھتا نہیں کبھی
مشغول اس قدر ہوں کہ فرصت نہیں مجھے
سیرت کے گر خلاف کوئی چھپ گئی کتاب
پڑھتا ہوں بار بار وہ لے کر بلیک سے

ان کی طنزیہ شاعری کی خوبی تھی کہ پہلے آپ مسکرا دیں لیکن پھر سوچنے پر بھی مجبور ہو جائیں:

دلی میں آکے رہنے کی خواہش کریں نہ اب
رنگون میں پڑے رہیں اپنے مزار میں
عزت مآب آپ کی دلی میں آج کل
دو گز زمین ملتی ہے ستر ہزار میں

ان کے علاوہ جب وہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح پر آتے تب بھی قاری یا سامع کو مایوس نہیں کرتے تھے:

بولیں یہ ڈاکٹر سے کسی دن شریمتی
بکتے بہت ہیں خواب میں اکثر میرے پتی
فرمایا ڈاکٹر نے یہی ان کا ہے علاج
دن میں میاں کو بولنے دیجے کبھی کبھی

اسرار جامعی نے علامہ اقبال کی نظموں کی زمین میں کئی نظمیں کہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے ساقی نامہ کی زمین میں باقی نامہ، بچے کی دعا کی زمین میں چمچے کی دعا، مسلم کی دعا کی زمین میں لیڈر کی دعا اور فرمان خدا کی زمین میں شیطان کا فرمان نظمیں لکھیں جن میں اپنے دور کے المیوں اور تضادات کو بڑے سلیقے سے رکھا۔ اقبال کی نظم مرد مسلمان کی زمین میں اسرار جامعی نے مرد مسلماں جدید نظم لکھی۔ اس کے اشعار میں مزاح تو شائد اتنا نہ تھا لیکن طنز جھنجھوڑ دینے والا تھا:

بے کاری، ریاکاری، جہاں داری و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
سب قعرِ مذلت میں گرے جاتے ہیں دھڑ دھڑ
وہ شیخ ہوں، سید ہوں کہ مرزا ہوں کہ افغان

اسرار جامعی نے شادی نہیں کی تھی۔ ان کی اچھی خاصی جائیداد تھی لیکن لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے اپنوں نے ہی انہیں اس سے بے دخل کر دیا۔ وہ خاموشی سے دلی کی اس بستی میں رہتے رہے جس کے بغل میں ان کی پہلی درسگاہ جامعہ آباد ہے۔ دھیرے دھیرے وہ گوشہ نشین ہوتے چلے گئے۔ کبھی کبھار کوئی خبر لینے چلا جاتا تھا۔ ایک بار کوئی گیا تو پتہ چلا کہ وہ فاقوں پر مجبور ہیں۔ ان کو بڑھانے کی جو معمولی سی پینشن ملتی تھی وہ یہ مان کر بند کر دی گئی تھی کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اسرار جامعی گھسٹتے بھاگتے دفتروں میں یہ ثابت کرتے رہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ جیسے تیسے پینشن بحال ہوئی لیکن بڑھاپے کے دوا علاج کا خرچ اس سے پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک بار کوئی گاڑی ٹکر مار کر نکل گئی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ہاتھ میں سرجری کرنی پڑے گی۔ چونکہ پیسہ نہ تھا سو اسی شکستہ ہاتھ کو لئے اپنی کرائے کی کوٹھری میں لوٹ آئے۔
انہوں نے شکوہ کرنا نہیں سیکھا تھا اس لیےاپنی بدحالی کا تذکرہ نہیں کرتے تھے لیکن ان کے آس پاس رہنے والے ان کی زندگی کی سختیوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ ایک بار روزنامہ سیاست نے کسی کے حوالے سے ان کی فاقہ کشی اور بے سر و سامانی پر ایک رپورٹ بھی شائع کی تھی۔ ان کا اسپتال آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت مجبوری میں ہی ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے۔ اس دفعہ طبیعت زیادہ خراب تھی اس لئے جیسے تیسے اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے۔ کچھ دن بعد اسپتال والوں نے رخصت کر دیا تو دوبارہ اسی کوٹھری میں آ پڑے۔ شائد یہ روز کا آنا جانا، بے سر و سامانی اور محتاجی دیکھ کر اس بار موت کا دل پسیج گیا۔ دو چار دن ہی گذرے ہوں گے کہ چار اپریل کی صبح صبح ان کا انتقال ہو گیا۔ جس بٹلہ ہاؤس میں انہوں نے دہائیوں تک ادب کی خدمت کی، لوگوں کو ہنسایا، ہر ایک سے بڑھ بڑھ کر ملتے رہے۔۔انہیں اسی بٹلہ ہاؤس کے قبرستان کی زمین کے سپرد کر دیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ دفن سے لوٹتے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور آیا ہوگا کہ اس شخص نے اردو ادب کو جو کچھ دیا کیا ہم اردو والے اس کے بدلے میں اسے وہ دے سکے جو اس کا کم از کم حق بنتا تھا؟۔