عصر حاضر کا ہندوستان اور ادیبوں کی ذمے داریاں

 

محمد انظر حسین

ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے، ادیب کے قلم سے صفحہ قرطاس پر وہی تخلیقات ابھر کر سامنے آتی ہیں جو زمانے کی روح میں پنہاں ہوتی ہیں۔ ادیب فن اور زندگی کا امین ہوتا ہے،ملک اور قوم کا ضمیر ہوتا ہے ادیب کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ ہر دور کو سنوارتا اور سجاتا ہے۔

تاریخ کے ہر موڑ پر نئی حیات نئے رجحانات اخلاقی نیز روحانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ جب بھی سماج یا کسی فرقے یا حکومت کے کسی انتظامیہ میں ظلم و جبر یا غریب عوام کے لئے بے اعتنائی دیکھا پورے شد ومد کے ساتھ علم احتجاج بلند کرتا اور بے خوف آزادی کا نعرہ دیتا ہے۔

تاریخ نظروں کے سامنے ہے کہ جب ہمارے بڑے بڑے رہنما کے پیر ڈگمگائے ادیبوں نے سامراجیت کے خلاف اپنی تحریری قوت سے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان میں جہاں جنگ آزادی کے وقت پنڈت نہرو گاندھی جی اور مولانا آزاد جیسے رہنما پیش پیش تھے ملک کے ادیبوں نے ان کسی طرح کم محنت نہیں کی اور ظلم اور نا انصافی کے خلاف دفتر بھر دئیے۔

اس کی سب سے اچھی مثال اس عہد کی ترقی پسند تحریک ہے جن سے وابستہ ادیبوں نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اور بلا خوف و خطر لکھتے رہے تھے۔

آج ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک میں رہتے ہیں،اس میں ادبا کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا جمہوری نظام دنیا کا سب سے اچھا جمہوری نظام نا سہی دنیا کا سب سے بڑا جمہوری نظام ضرور ہے۔ اور جمہوریت تو انسانی فلاح و بہبود کا سب سے عظیم اور نا قابل تسخیر سرچشمہ ہوتی ہے جمہوریت میں جہاں ہر شخص آزاد ہوتا ہے وہیں سب کو برابر کے حقوق بھی ملتے ہیں ۔ جسے ہماری آئین نے تمام ہندوستانیوں کو دیا ہے۔ اس جمہوری نظام میں ایک جھونپڑے میں رہنے والی ماں بھی اپنے بچوں کے لئے وہی سپنے دیکھ سکتی ہے جو محلوں میں رہنے والی رانی۔اسے بھی اپنے آئین کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے اور نا برابری کے خلاف لڑنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی آزادی ہے۔

اس جمہوریت کے تئیں لوگوں میں بیداری اور ان کے حقوق سے ان کی آگہی کا ذمہ سب سے زیادہ ادیبوں پر ہے، اس لئے کہ ادیب قوم کا آرٹسٹ معلم اور مفتی ہوتا ہے اس لئے ادیب کے فرائض حکومت میں بیٹھے لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سارے مسائل جن کو حکومت نہیں سلجھا سکتی وہ ادیب اپنی ایک چھوٹی سی تخلیق یا تحریر سے سلجھا دیتا ہے۔ ادیب عوام کے لئے خواب بناتے بھی ہیں اور بانٹتے بھی ہیں۔ ادیب جہاں مسکراہٹیں بانٹتا ہے وہیں وہ عوام کو رنج و غم سے بھی آشنا کرتا ہے، وہ لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ انسانی زندگی میں فرحت و مسرت کا جتنا حصہ ہے رنج وغم بھی اتنا ہی اہم ہے ، درد نہ ہو تو انسانی زندگی میں خوشی کے لمحات کی کوئی قدر نہیں ، درد کے گیت یوں ہی مر جائیں گے۔اور قوم بے حس ہو جائے گی۔

ادیب کی اہمیت ہر زمانے میں یکساں رہی ہے ، دنیا کے بڑے سے بڑے مہذب سماج کی کہانی ہم تک ادیب ہی پہنچاتا ہے ۔ پوری دنیا میں حکمراں طبقہ یکساں ہوتا ہے ان کو صرف اور صرف طاقت کی بھوک ہوتی ہے ، اور وہ اپنی طاقت کے ذریعے غریبوں اور لاچاروں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں گنتے۔ ادیب ہر زمانے میں انسانیت پرست رہا ہے جو عوام اور حکومت کو اپنی تخلیقات اور تحریرورں کے ذریعے بتاتا ہے کہ بحیثیت انسان ہر شخص برابر ہے اور سماج میں ایک درزی کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنا ایک بادشاہ اہم ہے۔

ادیب کبھی بھی تعصب کی راہ نہیں اپناتا وہ ہمیشہ غریبوں کا ترجمان ہوتا ہے ان کی زندگی دربار میں گزرنے کے بعد بھی انسانیت نواز ہوتی ہے۔

دنیا کے تمام لوگوں کو موت آسکتی ہے اور کوئی بڑا سے بڑا جابر یا رحم دل بادشاہ سو دو سو برس بعد مر جاتا ہے لیکن ادیب امر ہوتا ہے وہ کبھی نہیں مرتا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*