آسمانِ علم کا نیرِ تاباں-مفتی محمد عفان منصورپوری

مشفق استاذ محترم ، مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز شیخ الحدیث و صدر المدرسین ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالن پوری نور اللہ مرقدہ دنیائے فانی کو الوداع کہہ کر اپنے مزاج کے مطابق شانِ بے نیازی کے ساتھ جوار رحمت الٰہی میں پہنچ چکے ہیں ، تاریخ تھی 25 / رمضان المبارک 1441ھ بوقت چاشت بروز منگل ، یہ اتفاق نہیں بلکہ نظام قدرت ہے کہ سعید روح کے پرواز ہونے کے لئے مالک دو جہاں نےاس ماہ مبارک ” رمضان ” کے آخری عشرے کے لمحات کا انتخاب کیا ہوا تھا، جس میں آخری سانس لینا اہل ایمان کے لئے اعلی درجہ کی سعادت و خوش بختی اور علامت قبولیت ہے ، طبیعت تو پہلے بھی متعدد مرتبہ تشویشناک حد تک آپ کی خراب ہوئی لیکن اللہ پاک کے خصوصی فضل و کرم اور بے شمار چاھنے والوں کی دعاؤں کی برکت سے پھر ایسے صحت یاب ہوئے کہ معمول کے مطابق درس و تدریس وعظ و نصیحت اور فیض رسانی کا سلسلہ جاری فرمادیا ، اس مرتبہ بھی حضرت الاستاذ کی طبیعت کی ناسازی کا علم ھوا تو مجھ جیسے نہ جانے کتنے شاگردوں نے دعاؤں کا سلسلہ شروع کیا اور یہ امید کرتے رہے کہ ان شاء اللہ چند روز میں حضرت رو بصحت ہوجائیں گے اور پھر علوم ومعارف کے موتی بکھیرنے شروع کریں گے لیکن تقدیر تدبیر پر غالب آئی اور اس مرتبہ ایسا نہ ہوا چند روز کی شدید علالت کے بعد آپ غریب الوطنی کی حالت میں ( جو بجائے خود مقام سعادت و شھادت ہے ) عروس البلاد ممبئی کے ایک شفاخانے میں واصل بحق ہوگئے اور پھر وصیت کے مطابق مقامی قبرستان ہی میں آسودۂ خواب ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت الاستاذ کے انتقال پر ملال کو دو دن گزر چکے ہیں لیکن طبیعت ایسی مغموم اور بجھی ہوئی ہے کہ نہ کچھ کہا جارہا ہے نہ لکھا جارہا ہے ، یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا ، آپ کا مخصوص لب و لہجہ ، خوبصورت و منفرد اور دلنشیں انداز بیان ، جاذب نظر خط اور تحریر ، ہر چیز کو بہت اہتمام اور اہمیت کے ساتھ ذکر کرنا ، قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی عام فہم تشریح ، اردو و عربی قواعد و محاورات کی بہترین وضاحت اور اس طرح کی بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جو ذہن ودماغ میں ایسی نقش ہوچکی ہیں کہ مٹائے نہیں مٹ سکتیں ۔
بلاشبہ آپ ایک قابل فخر ، صاحب طرز ، کہنہ مشق ، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے والےایک کامل استاذ تھے ، خوش نصیب ہیں وہ تمام حضرات جن کو حضرت کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا موقع میسر ہواـ
آپ صرف استاذ نہیں بلکہ استاذ گر تھے ، آپ سے پڑھنے والا پڑھانا سیکھ جاتا تھا نہ جانے کتنے شاگردوں نے آپ کے اسلوب کو اخذ کرکے اپنی تدریس کے انداز میں نکھار پیدا کیا ہوگا ، بھر پور توجہ کے ساتھ تمام طلبہ پر نگاہ رکھتے ہوئے ایسی سبک رفتاری سے کلام فرماتے کہ لکھنے والا بآسانی آپ کی تقریر کو قلمبند کرلیتا اور ھر طالب علم گوش بر آواز ہوتا ، امثلہ و نظائر کے ذریعے مسئلہ کو سمجھاتے اور درمیان میں ایسے لطائف بھی سناتے یا ایسے جملے بولتے جس سے مجلس درس زعفران زار ہوجاتی اور نئی تازگی محسوس ہوتی ، سبق میں شروع سے اخیر تک دلچسپی ایسی برقرار رہتی کہ مجال ہے کہ کوئی طالب علم غافل ہوجائے یا بے توجہی کا مظاہرہ کرنے لگے ۔
ہم نے بھی سنن ترمذی کے تقریبا تمام دروس بالاستیعاب ضبط کئے پھر تکرار کے موقع پر اور بعد میں تدریس کے وقت کاپی پر ایک نگاہ ڈالنے سے غیر معمولی فائدہ محسوس ہوا ۔
تفہیم کے تو آپ بادشاہ تھے ، پیچیدہ سے پیچیدہ مباحث کو دلنشیں پیرایہ میں اس طرح پیش کرنا کہ غبی سے غبی طالب علم بھی مطمئن ہوجائے خدا کی طرف سے عطا کردہ آپ کا وہ امتیاز تھا جس کا ہر شخص قائل اور معترف ہے ۔
ہمیں حضرت الاستاذ سے سنن ترمذی اور شرح معانی الآثار پڑھنے کا موقع ملا ، صبح کے تیسرے گھنٹے میں اور مغرب کے بعد آپ کا درس ہوتا تھا ، محلہ بیرون کوٹلہ میں جو دارالعلوم سے خاصے فاصلے پر واقع ہے آپ کا مکان تھا وہاں سے پیدل بڑی پابندی کے ساتھ بروقت درس میں تشریف لایا کرتے تھے اور شروع ہی میں طلبہ کو یہ ہدایت فرمادی تھی کہ میرے آنے کے بعد کسی طالب علم کا درسگاہ میں آنا جرم ھوگا ، چنانچہ طلبہ اس کا بھرپور خیال بھی کرتے اور آپ کے آنے سے پہلے درسگاہ کھچاکھچ بھر جاتی ، اگر کبھی اتفاق سے آپ تشریف لائے اور طلبہ کی تعداد کم محسوس ہوئی تو ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے واپس تشریف لے جاتے اور خاص طور سے ترجمان سے جواب طلب فرماتے ، یہ مرحلہ طلبہ کے لئے بڑی تشویش اور فکر کا باعث بن جاتا تھا ، عصر کی نماز کے بعد طلبہ ڈرتے ڈرتے آپ کے گھر مجلس میں حاضر ہوتے غلطی پر نادم ہوتے ، معافی طلب کرتے ، آئندہ پابندی کے ساتھ حاضری کا عہد کرتے تو دوچار تنبیہی جملے کہہ کر معاف فرما دیتے اور اگلے وقت تشریف لے آتے ، آپ کے اس عمل کا یہ اثر ہوتا کہ پھر طلبہ وقت سے پہلے درسگاہ میں موجود دکھائی دیتے ۔
ہمارے سال بھی ایک مرتبہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہم لوگ عصر کے بعد حاضر خدمت ہوئے ، معافی مانگی فرمانے لگے کہ تم لوگ کیوں آئے ، تمہاری وجہ سے میں واپس تھوڑا ہی آیا تھا ، جاؤ انہی طلبہ کو بھیجو جو درس گاہ میں موجود نہیں تھے ، احساس تو ان کو ھونا چاہئے ، چنانچہ پھر طلبہ کی ایک بڑی جماعت حاضر ہوئی حضرت اولا ناراض ہوئے فرمایا:میں اتنی دور سے تیاری کرکے محنت کرکے سبق پڑھانے جاتا ہوں اور تم لوگ غائب رہتے ہو پھر اسباق میں پابندی سے حاضری کی تاکید فرمائی ،اس کے فوائد و برکات بتائے اور پھر شفقت فرماتے ہوئے معاف فرمایا اور اگلے دن سلسلہ درس کا آغاز فرمادیا ۔
ابتدائے سال میں مبادیات حدیث ، علوم حدیث ، مقام سنن ترمذی اور امام ترمذی کی مخصوص اصطلاحات پر سیر حاصل گفتگو فرماتے جو کئی کئی روز تک مسلسل جاری رہتی ۔
آپ کے سبق میں عبارت خوانی کا مرحلہ بھی بڑا اہم ہوتا تھا ، ہر طالب علم اس کی ہمت نہیں کرپاتا تھا ، آپ باقاعدہ گھر بلاکر عبارت خوانی کے خواہشمند طلبہ کا امتحان لیتے اور پھر چند طلبہ کو سال بھر عبارت خوانی کے لئے متعین فرمادیتے ، اطمینان کے ساتھ صاف صاف ، متوسط آواز میں ، صحیح عبارت پڑھنے کی تاکید فرماتے ، آواز تھوڑی بھی تیز ہوتی تو حضرت کو ناگوار گزرتی ، ٹوکتے اور فرماتے مائک دور کرکے پڑھو ، اعراب کی غلطیاں اگر آنے لگتیں تو عبارت خواں تبدیل فرمادیتے یا خود پڑھنا شروع فرمادیتے اس لئے عبارت خواں طلبہ بھرپور تیاری کرکے ہی سامنے آتے تھے ۔
ہمیں بھی الحمدللہ کتاب کے معتد بہ حصہ کی عبارت پڑھنے کا موقع ملا ایک دفعہ پڑھتے ہوئے بار بار گلا صاف کرنے کے لئے کھنکھارنے کی نوبت آئی تو مجھے مخاطب کرکے فرمانے لگے : سنو ! سب طلبہ متوجہ ہو گئے تو ارشاد فرمایا کل سے چمچہ لیکر آیا کرو اور جہاں آواز پھنسے، گلے میں چلا لیا کرو ، سب ھنسنے لگے حضرت بھی متبسم ھوئے اور فرمایا چلو آ گے پڑھو ۔
مغرب کے بعد تشریف لاتے تو باضابطہ سبق کا آغاز کرنے سے پہلے حفظ احادیث کی غرض سے ایک مختصر حدیث لکھواتے اور تین مرتبہ اس کو اجتماعی طور پرکہلواتے ۔
شروع سال سے اخیر تک آپ کا انداز تدریس بالکل یکساں رہتا اواخر سال میں بھی اسی بسط و تفصیل کے ساتھ اطمینان سے پڑھاتے رہتے جس انداز سے شروع میں پڑھاتے ، سب کے اسباق بند ہوجاتے اور آپ کے اسباق کا سلسلہ امتحان کے قریب تک جاری رہتا ، کتاب کی تکمیل کے موقع پر آپ کی الوداعی نصیحت بھی بہت اہم ہوتی تھی جس کا طلبہ کو اشتیاق رھتا تھا اور جب آپ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تھے تو طلبہ کی روتے روتے یہ سوچ ہچکیاں بندھ جاتی تھیں کہ اب حضرت کی مجلس درس میں حاضری کا سلسلہ منقطع ہوجائےگا ۔
طلبہ کے درمیان مقبول ترین اساتذہ میں آپ کا شمار تھا ، آپ کے شخصی رعب ، علمی مقام اور وجاہت کی وجہ سے طلبہ اگرچہ آپ سے بے تکلفانہ گفتگو نہیں کرپاتے تھے لیکن دل سے محبت اور قدر بہت کرتے تھے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت الاستاذ نے یہ علمی تفوق ، رفعت مقام ، اور لوگوں کے دلوں پر دھاک کسی بیساکھی کے ذریعے حاصل نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے صرف اور صرف اللہ کا فضل وکرم اور حضرت کی مقصد کے تئیں جفاکشی ، وقت کا صحیح استعمال اور بے پناہ محنت و جدوجہد ہے ، جاننے والے جانتے ہیں کہ دور طالب علمی سے لیکر زمانۂ تدریس تک کیسے کٹھن اور صبر آزما حالات کا آپ نے خندہ پیشانی اور جذبۂ شکر کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن اپنی علمی سرگرمیوں پر آنچ نہ آنے دی،یہ رتبۂ بلند اور علمی دنیا میں آپ کا سکہ اسی جہدِ مسلسل اور قربانی کا نتیجہ ہے ۔
حضرت الاستاذ سے پڑھنے کا موقع تو ہمیں دورۂ حدیث میں ملا لیکن شعور کی آنکھیں کھولنے کے بعد ہی سے ہم نے حضرت الاستاذ کا نام سنا کیونکہ محلہ بیرون کوٹلہ میں جہاں آپ کی رہائش تھی اسی کے پڑوس میں حضرت والد محترم دامت برکاتہم کے ساتھ ہم لوگوں کی بھی سکونت تھی ، کچھ بڑے ہوئے تو بعد عصر آپ کی مجلس میں حاضری کا بھی موقع ملنے لگا ، پھر تو قرب وتعلق اور عقیدت بڑھتی ہی چلی گئی۔
کتابیں اور علمی اشتغال آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا ، مزاج میں یکسوئی اور زندگی میں انتھائی سادگی تھی ، شہر میں زیادہ لوگوں سے آپ کی راہ و رسم نہیں تھی اور علمی اشتغال کی وجہ سے آپ کے پاس اس کا موقع بھی نہیں تھا ، جب بھی خدمت میں حاضری ہوتی کچھ پڑھتے ہوئے ، پڑھاتے ہوئے ، لکھتے ہوئے ، سنتے ہوئے یا نصیحت کرتے ہوئے ملتے ، عصر کے بعد عمومی مجلس ہوتی،اس میں طلبہ آپ کے سر پر تیل رکھتے ، کچھ پوچھتے تو آپ تسلی سے جواب مرحمت فرماتے ، دیر تک خاموشی رہتی تو خود فرماتے کچھ سوال کرو خاموش کیوں بیٹھے ہو؟ یہاں آیا کرو تو سوال سوچ کے آیا کرو ۔
فرق باطلہ کا تعاقب ، مسلک حق کی ترجمانی ، منکرات پر برملا نکیر اپنے موقف پر خلوص نیت کے ساتھ جماؤ یہ چیزیں آپ کے مزاج کا حصہ تھیں ۔
دیوبند جانا ہوتا تو حضرت الاستاذ سے ملاقات کے لئے حاضری ہوتی ، بڑی محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے ، اسباق کی تفصیلات معلوم کرتے دعائیں دیتے ، مدرسہ کے احوال دریافت فرماتے ،کوئی نئی کتاب چھپ کر آتی تو عنایت فرماتے، مزید دونسخے دیتے اور فرماتے کہ یہ مفتی سلمان کو دینا وہ اس پر ندائے شاھی میں تبصرہ لکھ دیں گے ، ندائے شاہی کا بھی پابندی سے مطالعہ فرماتے رسالہ اکثر آپ کی تپائی پر دکھائی دیتا ، بارھا فرمایا کہ تمھارا مضمون پڑھا، اچھا تھا، لکھتے رہو ایک مرتبہ فرمایا کہ تمہارا اور مفتی سلمان کا مضمون ضرور پڑھتا ہوں ۔

مدرسہ عربیہ اعزاز العلوم ویٹ کے جلسہ سالانہ میں اکثر و بیشتر حضرت کی شرکت ہوتی تھی ، چند سال قبل ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت اسٹیج پر تشریف فرما تھے اور آخری خطاب آپ کا ہونا تھا ، حضرت مولانا قاری شوکت علی صاحب زید مجدہ کا حکم تھا کہ تجھے بھی کچھ کہنا ہے اس کے بعد حضرت بیان فرمائیں گے ، میری ہمت بالکل نہیں ہورہی تھی ، میں نے عرض کیا حضرت آپ بیان فرمادیں ، آپ کی موجودگی میں ہم کچھ نہیں بول سکتے ، حکما فرمایا کہ بیان کرو میں بیٹھا ہوں جب تک ایسے نہیں بولوگے تو بیان کرنا کیسے آئےگا ۔
مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ سے آپ کا تعلق بہت گہرا اور پرانا تھا ، آپ مدرسہ کی مجلسِ شوریٰ کے ممبر بھی تھے اور پچھلے چند سالوں تک مسلسل ختم بخاری کے لئے تشریف بھی لاتے ، مدرسہ کے سابق مہتمم حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ سے آپ کی دیرینہ رفاقت تھی جس کو آپنے اخیر تک بخوبی نبھایا ۔
چند ماہ پیشتر آپ کے صاحبزادہ گرامی کا انتقال ہوا تو مدرسہ کے ذمے داران کے ہمراہ آپ کی خدمت میں حاضری ہوئی ، جاتے ہوئے پوچھا کیوں آئے ہو؟ ہم نے مرحوم صاحبزادے کا تذکرہ شروع ہی کیا تھا تو فرمانے لگے ” جو گیا وہ سپنا اور جو رہا وہ اپنا ” اللہ کو جو منظور تھا وہ ہوگیا ، بس جانے والوں کے لئے دعا کرتے رہو ، پھر تعزیت کے مروجہ طریقے کے عدم ثبوت پر گفتگو فرماتے رہے ، کچھ دیر کے بعد ہم نے عرض کیا کہ حضرت کئی سال سے آپ کی تشریف آوری مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں نہیں ہوسکی ہے اس سال تشریف لے آئیں ، مسکراتے ہوئے فرمانے لگے ” اب اس نے موضوع بدل لیاحالانکہ آیا تھا یہ تعزیت ہی کے لئے ” پھر فرمایا کہ جلسہ کی تاریخ کے لئے رجب کے شروع میں ملنا ، پھر ملاقات ہوئی تو کمزوری اور طبیعت کی ناسازگی کی وجہ سے معذرت فرمالی ۔
حضرت الاستاذ کی شخصیت پر لکھنے کے بہت سے پہلو ہیں جن پر لکھنے والے ان شاء اللہ خوب اور بہت خوب لکھیں گے یہ تو بروقت بے ترتیب کچھ تاثراتی سطور ایک ادنی شاگرد کی طرف سے حضرت الاستاذ کے لئے خراج عقیدت کے طور پر قلمبند کردی گئی ہیں ۔

اس موقعہ پر ھم استاذ مکرم کے اہل خانہ بالخصوص آپ کے برادر گرامی استاذنا حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب پالن پوری مد ظلہ اور آپ کے جملہ صاحبزادگان واولاد واحفاد کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ھیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ پاک ہمارے حضرت کی مغفرت تامہ فرمائیں ، جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائیں ، آپ کی زریں و سنہری دینی خدمات کا اپنی شایانِ شان بدلہ مرحمت فرمائیں اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*