آصف زہری کا ناول زباں بریدہ-عبدالباری قاسمی

ناشر : ایم آر پبلی کیشنز دہلی 

صفحات :305

قیمت :400

ظلم و ستم،جبر و تشدد اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی روایت ادب میں بہت پرانی ہے ،ترقی پسند تحریک نے اسے ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کیا اور نئے انداز سے ادب تخلیق کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اور فکشن کے ذریعے سماجی مسائل اور غیر مساویانہ رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جانے لگا۔اسی سلسلے کی ایک کڑی آصف زہری کا ’زباں بریدہ‘ ناول بھی ہے ،آصف زہری ایک تجربہ کار ادیب ،شاعر اور قلم کار ہیں ،ہندوستانی زبانوں کے مرکز جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں ،زباں بریدہ ان کاپہلا ناول ہے اس سے قبل’اردو کے چند نمائندہ نظم نگار شعرا،اخترالایمان کی دس نظمیں اور اردو نظم میں ذکر ترکی کے نام سے تنقیدی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
زیر تبصرہ ناول زباں بریدہ میں بنیادی طور پر مشرقی یوپی کے کسانوں کی معاشرتی،سماجی ،تعلیمی اور معاشی مسائل کو پیش کیا گیا ہے ،پورے ناول میں اعظم گڑھ اور اس کے اطراف کے مسائل کو چلتا پھرتا دیکھا جاسکتا ہے ۔جس کا تعلق اس خطہ سے ہو یا وہاں جا چکا ہو اس ناول کے پڑھتے ہوئے اسے احساس ہوگا کہ وہ اعظم گڑھ کے دیہات میں ہے ۔
اس ناول میں اعظم گڑھ کے اطراف میں بولی جانے والی زبان ،رسوم و رواج اوور بودو باش کو بہت اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔
ناول نگار نے اس علاقہ میں بکی جانے والی گالیوں کو بھی بہت صفائی کے ساتھ استعمال کیا ہے تاکہ حقیقت آشکارا ہو جائے اور سچائی سامنے آئے کہ مہذب سماج کے شرفا بھی کس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں،سماج کے دوہرے رویے کو سمجھنے کے لیے زباں بریدہ بہترین ناول ہے۔ اگر ناول کے تکنیک کی بات کریں تو مصنف نے قصہ در قصہ داستانوی تکنیک کا استعمال کیا ہے ،جہاں تک موضوع کا مسئلہ ہے تو اس کا موضوع بھی رایتی ہے ،یہاں بھی کسانوں ،مزدوروں ،مظلوموں ،بے کسوں اوار غریبوں کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے ،آج کا کسان آندولن ،ہجومی تشدد ،فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی منافرت سب کچھ اس ناول میں علامتی انداز میں موجود ہے ،اس ناول میں گودی میڈیا کی شرارتوں کو بھی مصنف نے طشت از بام کرنے کی کوشش کی ہے ۔
اودھی اور بھوجپوری کی آمیزش نے اس کے اسلوب کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے کہیںبھی درمیان میں بھوجپوری شروع ہو جاتی ہے ۔کردار کی بات کریں تو فسانہ آزاد کی طرح اس ناول میں بھی بڑی تعداد میں کردار موجود ہیں مگر چند مرکزی کردار ہیں جن کے ارد گرد ساری کہانیاںچلتی ہیں۔اچیئت پتاون ایسا کردار ہے اس کے ضمن میں تمام طرح کے ظلم و جبر کو دیکھ سکتے ہیں اس کے ظلم سے بلاتفریق مذہب وملت ہر طبقہ پریشان ہے اس کردار کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اب دنیا مکمل طور پر ظالم کے شکنجہ میں آچکی ہے اور اس سے مقابلہ بہت مشکل ہے ۔ اس کے علاوہ حاجی بیپت ،دھرمو،ماما گھسراون،رائے صاحب ،دانی وغیرہ اہم کردار ہیں ۔ ناول میں مصنف نے عربی و فارسی آمیز فصیح و بلیغ زبان کے مقابلہ میں عوامی اور دیہاتی زبان کے الفاظ و مترادفات کو ترجیح دی گئی ہے ۔جیسے گھام ،گمچھا ،کھپسا،نرکٹ ،بھور ،جھاڑا اور سبیرا وغیرہ ۔محاورے بھی جابجا دیہاتوں میں ہی رائج استعمال کیا ہے جیسے ستر چٹکی بہتر تال پھر دیکھ کھینی کا کمال،اسی طرح تشبیہات کا بھی خوب استعمال کیا ہے جیسے نیم عریاں اوپر کا بدن جیسے بارش کے موسم میں پتوں کی آڑ سے جھانکتے ہوئے لذیذ میٹھے میٹھے امرود ،جسم کشادہ پانی جیسے کھلیانوں کے پس منظر میں شفق ۔
ایک اچھی چیز یہ ہے کہ ہرصفحہ پر حاشیہ میں فرہنگ موجود ہے اس کی وجہ سے قاری کو معنی و مفہوم کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی فورا سمجھ لیتا ہے ۔ ناول پیش لفظ سترہ حصے اور ایک اختتامیہ پر مشتمل ہے اسی سے طوالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔کہانی اس کہانی کے عنوان سے پیش لفظ ہے پھر غدار کے عنوان سے عااطف توقیر جرمنی کی نظم شامل ہے اور اختتامیہ کا عنوان ایک غیر ضروری متن ہے ۔اکڑ بکڑ بمبے بو اسی نوے پورے سو اسی سے ناول کی شروعات بھی ہوئی ہے اوراسی پر اختتام بھی ۔ غرض ناول حقیقت نگاری اور معاشرتی مسائل کے عکاسی کی عمدہ مثال ہے ،اسے غیر مساواتی مسائل اور رویوں کے خلاف بغاوت بھی کہ سکتے ہیں ۔امید ہے کہ قارئین پسند کریں گے۔