آصف اقبال کی گرفتاری:ایسی کارروائیاں تحریک کو اور بھی مضبوط کریں گی-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

تاریخ نے اپنے صفحات میں محفوظ کیا ہے کہ آج سے 3 ہزار برس قبل مصر میں ایک بادشاہ گزرا تھا ، جسے ‘فرعون’ کہا جاتا تھاـ یہ اس کا نام نہیں ، بلکہ لقب تھاـ اس کا ظلم و ستم اس قدر عام تھا کہ اس کا یہ لقب جبر وتشدّد اور ظلم و ستم کا استعارہ بن گیاـ اس نے اسرائیلی قوم کے لوگوں کو غلام بنا لیا تھاـ انھیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا تھاـ ان سے بیگار کے کام لیے جاتے تھے اور ہر طرح کا ظلم روا رکھا جاتا تھاـ کسی نجومی نے اسے بتادیا کہ تمھاری مملکت میں بسنے والے ان اسرائیلیوں میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تمھاری حکومت کے زوال اور تمھاری سلطنت کے خاتمے کا سبب بنے گاـ بس اس نے حکم جاری کردیا کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائےـ فرعون کے مظالم کا سلسلہ جاری رہاـ اسے اپنے ظالمانہ رویّے پر نظر ثانی اور اس کی اصلاح کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ، بلکہ اس نے مزید ظلم کرکے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی کوشش کی ـ لیکن اس کی تمام تدبیریں ناکام ہوگئیں ـ جب اس کے ظلم و ستم کا پیمانہ لب ریز ہوگیا تو اسے بحر قلزم میں غرق کردیا گیاـ اس کا لاؤ لشکر اس کے کچھ کام نہ آیاـ آج قاہرہ کے میوزیم میں محفوظ اس کی حنوط شدہ لاش نشانِ عبرت بنی ہوئی ہےـ

ہمارے ملکِ عزیز کے حکم راں آج کل اسی فرعونی روش پر گام زن ہیں ـ وہ ملک کے ایک بڑے طبقے کو محض مسلمان ہونے کی سزا دینے کے لیے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دینا چاہتے ہیں _ طاقت اور اقتدار کے نشے میں چور وہ برابر ایسے قوانین وضع کر رہے ہیں جن کی زد مسلمانوں پر پڑے اور ان کی بے وقعتی میں اضافہ ہوـ ان میں سے ایک شہریت ترمیمی قانون (CAA) ہے، جسے چند ماہ قبل منظور کیا گیا ہے _ اسی وقت سے اس کے خلاف ملک گیر سطح پر زبردست احتجاج چل رہا تھا ، جس میں ملک کے دیگر مذاہب کو ماننے والے انصاف پسند شہری بھی مسلمانوں کی حمایت کررہے تھےـ اس ظالمانہ قانون کی مخالفت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے طلبہ نے سرگرم حصہ لیا تو ملک کی وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی دہلی پولیس نے ان کے احتجاج کو کچلنے کے لیے جامعہ کیمپس میں گھس کر لائبریری میں طلبہ کی بُری طرح پٹائی کی _ پولیس کی پُر تشدّد کارروائی کا پختہ ثبوت وہ ویڈیوز ہیں جو سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہیں اور جنہیں جامعہ انتظامیہ کی طرف سے عدالت میں پیش کیا گیا ہے _ لیکن حکومت ظلم و تشدّد برپا کرنے والی پولیس پر کارروائی کرنے کے بجائے الٹا طلبہ ہی کو ہراساں کر رہی ہے _ اِن دنوں جب کووِڈ_19 جیسی مہلک وبا پر قابو پانے کے لئے پورا ملک لاک ڈاؤن سے گزر رہا ہے ، دہلی پولیس سی اے اے مخالف احتجاجی تحریک میں سرگرم جامعہ کے اسٹوڈنٹ لیڈرس کو ایک ایک کرکے گرفتار کر رہی ہے اور بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگاکر انہیں داخلِ زنداں کر رہی ہے _ میران حیدر اور صفورہ گرزر کے بعد اب اس کا تازہ نشانہ آصف اقبال تنہا بنے ہیں ـ آصف اقبال جامعہ میں بی ، اے (فارسی آنرس) کے طالب علم ہیں اور ملک کی اسلام پسند طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) کے فعّال رکن ہیں ـ دہلی پولیس نے ان پر یہ جھوٹا الزام عائد کرکے کہ وہ جامعہ میں 15 دسمبر 2019 کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران ہونے والے تشدّد میں شریک تھے ، انہیں ساکیت کورٹ میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا ، جہاں سے انہیں 31 مئی 2020 تک کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہےـ
سی اے اے کے ظالمانہ قانون کے خلاف گزشتہ مہینوں میں پورے ملک میں بیداری آئی ہے _ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بیداری کا سہرا عصری جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان طلبہ و طالبات کے سر جاتا ہے ، جنھوں نے پوری سنجیدگی ، متانت اور بیدار مغزی کے ساتھ اس تحریک کی قیادت کی ہے اور ملک کے تمام طبقات سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ـ کووِڈ_19کی وجہ سے انہوں نے فی الحال اپنی سرگرمیاں معطّل کردی ہیں ، لیکن بہت جلد وہ پھر حسبِ سابق پوری قوت کے ساتھ اپنی احتجاجی تحریک کو ازسرِ نو برپا کریں گےـ اگر ملک کی موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ چند اسٹوڈنٹ لیڈرس کو گرفتار کرکے طلبہ برادری کو خوف زدہ کردے گی اور وہ آئندہ اپنی سرگرمیوں سے باز آجائیں گے تو اس کی خام خیالی ہےـ اس طرح کی اوچھی حرکتوں سے طلبہ نہ پہلے ڈرے ہیں اور نہ آئندہ ڈریں گے ، بلکہ یہ کارروائیاں سی اے اے مخالف تحریک کو اور بھی مضبوط کریں گی ـزنداں و سلاسل کے خوف سے نوجوانوں کا خون نہ پہلے کبھی سرد پڑا ہے اور نہ آئندہ اس کی توقع کی جانی چاہیے _ حکومت کی دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ظالمانہ قوانین کو واپس لے ، ملک کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دے اور حق و انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کی آواز کو دبانے کے لیے اس نے جن بے قصوروں کو گرفتار کیا ہے ، جلد از جلد انہیں رہا کرےـ ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ـ تین ہزار برس پہلے والے فرعون کے مظالم اسے لے ڈوبے تھےـ اسی طرح ہر فرعون کا انجام ذلت و نامرادی ، زوال اور اقتدار سے محرومی رہا ہےـ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے اور اس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوئی ہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)