آصف اقبال کے قبول نامے کو لیک کرنے کا معاملہ:ہائی کورٹ نے پولیس کی سرزنش کی،ویجیلنس رپورٹ کو بتایا کاغد کا بیکار ٹکڑا

نئی دہلی:دہلی فسادات سے متعلق دہلی پولیس کی ویجیلنس رپورٹ کو دہلی ہائی کورٹ نے کاغذ کا بیکار ٹکڑا قرار دیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے میڈیا میں خبر لیک ہونے پر دہلی پولیس کی سرزنش کی ہے۔ دہلی پولیس کی ویجیلنس رپورٹ کو کاغذ کا بیکار ٹکڑا بتایا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر (ویجیلنس ) کو 5 مارچ کو پیش ہوکرصفائی دینے کا حکم دیا ہے۔در اصل جامعہ کے طالب علم آصف اقبال جو دہلی فسادات میں یو اے پی اے کی دفعات کے تحت جیل میں ہے ، انہوںنے میڈیا ٹرائل سے متعلق عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے میڈیا میں ان کے پولیس کے سامنے کیے گئے قبول نامے کولیک کیا ۔ جبکہ پولیس کے سامنے کیا گیا قبول نامہ عدالت میں تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ جس کے بعد بہت سے نیوز چینلز اور نیوز ویب سائٹ نے اسے غلط طریقے سے چلایا۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک نیوز چینل اور دہلی پولیس سے جواب طلب کیا تھا۔ دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس کو لے کر ویجیلنس کی تفتیش کی تھی اور انہوں نے اس معاملے کو صرف دہلی حکومت اور وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجا تھا۔واضح رہے کہ 24 سالہ آصف اقبال تنہا کودہلی پولیس نے دہلی فسادات کی سازش والی ایف آئی آر 59 میں یو اے پی اے سیکشن کے تحت مئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔