آصف فرخی سے خواب میں ایک مکالمہ : سرور غزالی

 

میں کراچی کی طرف محو پرواز ہونے کی تیاری کر رہا تھا کہ عالم بالا سے آصف فرخی کی درخواست آئی، جو میرے لیے ہمیشہ ہی حکم کا درجہ رکھتی تھی کہ میں ان کی طرف رکتے ہوئے ان سے ملنے کے بعد کراچی کو نکلوں۔ میں نے شکایت کی آپ کو کسی بات کی جلدی نہیں ہوا کرتی تھی، ہر کام نہایت پرسکون انداز میں کرتے، سوچ سمجھ کر ٹھہر ٹھہر کر بولتے، بس ایک جانے ہی کی جلدی کیوں تھی۔

بولے لوگ تو میرے جانے کے بعد میرے ادھورے کام کو مکمل کرکے اپنی ادبی تجارت بڑھا رہے ہیں،خوب منافع کمائیں گے۔ میں نے حیرانی سے کہا کیا واقعی ایسا ہے۔ بولے کراچی جائیں اور خود مشاہدہ کرلیں۔ میں نے کہا ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ میں پہلے آپ سے ملنے آؤں۔بولے آجائیں مگر ایسا نہ ہو کہ تاخیر سے کراچی پہنچیں اور یہ موقع گنوا دیں۔ جب میں ‘وہاں’ پہنچا تو معلوم ہوا آصف کو کسی سیمینار والے ضد کرکے صدارت کے لیے لے گئے ہیں اور وہ معذوری کا رقعہ لکھ کر چھوڑ گئے ہیں اور میرے لیے پیغام دے گئے ہیں کہ میں ان کے پروگرام کی طرف آجاؤں۔میں پریشان ہوگیا کہ کہیں آٹھویں اردو کانفرنس والا معاملہ نہ ہوجائے اور احمد شاہ صاحب کو میں نظر ہی نہ آؤں اور پھر آصف کو اسٹیج پر جاکر ان سے مائیک لیکر کہنا پڑے بھئی آپ تمام مہمان شرکائے کانفرنس کو تو بلائیں، یہاں سرور غزالی اور فلاں اور فلاں کو بھی بلائیں۔

لوگ بلا تو لیتے ہیں پوسٹر پر نام اور تصویر بھی لگا دیتےہیں، مگر عین موقع پر کانفرنسیں اور سیمینار کینسل کردیتے ہیں ناگزیر وجوہ کی بنیاد پر۔

آصف کا حکم میں ٹال نہیں سکتا تھا، لامحالہ مجھے کراچی میں اس کانفرنس میں، جہاں وہ میرے منتظر تھے جانا تھا، میں تمام دنیا میں، نئے سے نئے شہر اور مقام پر تنہا گھوم پھر سکتا ہوں مگر کراچی جو میرا اپنا شہر ہے وہاں تنہا کہیں نہیں جاسکتا۔اس کی وجہ مجھے معلوم نہیں نا ہی میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسا کیوں ہے۔ امی ہمیشہ ہی کسی کو ساتھ کر دیتی ہیں۔ سو میں بھائی کے ساتھ چل پڑا، راستے میں عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آصف نہایت شاندار قسم کی اسپورٹس کار، پورشے کمپنی کی کار لیے ہماری گاڑی کو اوور ٹیک کرتے ہوئے نکلے اور مجھے اشارہ دیا کہ ان کے پیچھے رک جاؤں۔ اور پھر وہ بھی رک گئے اور ہم بھی رک گئے۔ ان کی بات اشاروں میں سمجھتے ہوئے میں نے بھائی سے کہا کہ تم گاڑی لیکر واپس چلے جاؤ۔مجھے آصف ڈراپ کر دیں گے۔ ابھی تو ویسے بھی مجھے ان کی شاندار گاڑی میں لمبی ڈرائیو پر جانا ہے۔ جب میں آصف کی گاڑی میں بیٹھا کیا، بلکہ دراز ہوا تو حیرانی سے پوچھنے لگا بھئی یہ نیا شوق تو زبردست ہے۔ کیا مشائیل شو ماخر کی کار ہوگی۔آپ نے تو آج میری دلی تمنا بھی پوری کردی۔آصف بولے کچھ نہیں اور پھر گاڑی دوڑانے لگے۔ اور مجھے لیکر ایک شاندار باغ میں آگئے۔ اب ہم دونوں گاڑی چھوڑ کر چہل قدمی کرنے نکلے۔ میں نے سیر کے دوران پوچھا آصف معاملہ کیا ہے؟ کہنے لگے آپ ہی کا خیال آگیا آپ کانفرنسوں سے بھاگتے ہیں، مشاعروں میں نظامت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اسی لیے آپ کو سیر سپاٹے کے لیے لے آیا۔میں نے کہا یہ ٹھیک ہے، مجھے آپ بے ادب، مگر باادب رہنے دیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*