عاشقوں کا مرشد ہوں ـ احمد حماد

داس ہوں حسینوں کا
عاشقوں کا مُرشد ہوں

غم کا معتقد ہوں بس
رند ہوں نہ زاہد ہوں

راس ہو جو بزدل کو
ایسے دیں کا مُرتد ہوں

تم مُرید ہو جس کے
میں اسی کا مُرشد ہوں

خواہشات کا دریا
حسرتوں کا مرقد ہوں

حرفِ کُن کا سامع ہوں
فَیَکُوں کا شاہد ہوں

میں کہ ایک حد تک تھا
تجھ سے مل کے بےحد ہوں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*