اسیران وطن سے ملاقات کی دل سوز روداد ـ مہدی حسن عینی

 

پانچ دنوں سے ممبئی اور دہلی میں مقیم ملت کے قائدین،سماجی کارکنان،وکلا و سربرآوردہ حضرات سے ملاقاتوں اور میٹنگز کا سلسلہ ختم کرنے بعد دیوبند کی جانب رخت سفر کا ارادہ کیا،لیکن جمعرات کی رات 3بجے جب اپنی قیام گاہ پر پیکنگ کے لیے واپس ہورہا تھا تو راستے میں انقلابی دوست آصف اقبال تنہا نے بتایا کہ کل کورٹ کی تاریخ ہے،اور شہریت تحریک کے بعد پس زنداں بھیجے گئے سبھی نوجوان لیڈران و کارکنان بھی کل کورٹ میں ہونگے،بس اتنا سنتے ہی دل سے آواز آئی کہ اب دیوبند جانا کینسل کیا جائے،پہلے راہ حق کے اسیروں سے ملاقات کی سبیل نکالی جائے،پوری رات ایک منٹ بھی نیند نہیں آئی،علی الصباح تیار ہوگیا،اور 9 بجے ہم لوگ کڑکڑڈوما کورٹ کے لئے روانہ ہوگئے،راستہ میں انقلابی بہن صفورا زرگر بھی ہماری گاڑی پر سوار ہوئیں،آصف اور صفورہ نے جیل میں بتائے ہوئے لمحات کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کب ہم کورٹ پہونچ گئے پتہ ہی نہیں چلا، ایڈیشنل جج امیتابھ راوت کی عدالت کے باہر پہونچے تو سب سے پہلے اطہر عامر کے بوڑھے والدین سے ملاقات ہوئی،ان کے والد نے دوران گفتگو کہا کہ یہ قربانی کا آغاز ہے،ابھی تو ہمیں بہت کچھ گنوانا ہوگا تب انقلاب آئے گا،دس منٹ کے بعد ہی ضمانت پر رہا ہوئیں انقلابی بہنیں دیوانگنا کلتا،نتاشا نروال اور عشرت جہاں آپا بھی پیشی کے لئے آگئیں، ان سے ملاقات اور گفتگو کا سلسلہ دراز ہوگیا،تبھی منا سلیم کی اہلیہ اپنی چھوٹی بیٹی اریبہ کے ساتھ آئیں ـ

 

قصہ مختصر ان حضرات سے گفتگو کا سلسلہ بڑھتا جارہا تھا جج صاحب کسی میٹنگ میں مصروف تھے،خالد سیفی بھائی کے بچوں سے ملنے کے لیے دل بیتاب تھا،کئی بار بھابھی کو فون کروایا،11.30 پر نرگس بھابھی یسار،طہ اور مریم کے ساتھ آگئیں، بچوں کو گلے لگایا سب چاچو چاچو کہہ کر لپٹ پڑے،کافی دیر تک بچوں کو پیار کرتا رہا،بھابھی کے آنکھوں میں آنسو تھے،پورا ایک گھنٹہ بھابھی اور بچوں کے ساتھ گزر گیا،12.30 بج گئے لیکن جج صاحب نہیں آئے تبھی ٹاٹا انسٹیٹیوٹ ممبئی کے سابق صدر فہد خان بھی عمر خالد سے ملاقات کی خواہش کے ساتھ آئے،ادھر دہلی کی فعال سماجی کارکن نجم الدین بھائی بھی آگئے،طاہر حسین کے بھائی اور بیٹے بھی پہونچ چکے تھے،ہم سب نے کورٹ کے کینٹین سے چائے وغیرہ پی، اب ہم سب کو بڑی بے صبری سے اپنے انقلابی ہیروز کا انتظار تھا، 1 بجے جج صاحب اپنے چیمبر میں آئے، میری ٹرین 1.30 بجے نظام الدین سے تھی میں نے طے کرلیا کہ اب ان انقلابیوں سے ملاقات کروں گا چاہے آج اور دہلی میں رکنا پڑے،دس منٹ میں خالد سیفی کیس کا اعلان ہوا،ہم سب زینہ کی طرف بھاگے، کافی انتظار کے بعد سب سے پہلے پولیس بہن گلفشاں،اطہر عامر،منا سلیم اور شاداب احمد کو لے کر آئی،میں نے آگے بڑھ کر سب کو فرداً فرداً سلام کیا، کوشش کرکے زبردستی مصافحہ بھی کیا،سب دعا کے لیے کہنے لگے،بہن گلفشاں اور دوسروں کو دیکھ کر میرے پاس آج الفاظ نہیں تھے بس آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائی ہوئی تھیں ـ

 

میں ٹوٹے الفاظ میں سب کو تسلی دینے کی کوشش کررہا تھا، تبھی دہلی کے سابق کونسلر طاہر حسین بھائی کو پولیس لے آئی،طاہر بھائی کو میں نے سلام کیا انہوں نے قریب سے گزرتے ہوئے کہا حضرت دعا کیجئے گا،میری ان سے شناسائی نا تھی، میں ان سے بات کرنے کی کوشش کررہا تھا، اچانک سامنے سے "مہدی بھائی سلام”کی آواز آئی اور مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا،سامنے میرے انقلابی دوست بھائی اور جان سے پیارے عمر خالد تھے،جو پکار پکار کر دو مرتبہ "مہدی بھائی سلام” کہہ چکے تھے،لیکن میں فرط جذبات میں بے حال ہوچکا تھا،میری زبان گنگ ہوگئی تھی،عمر خالد کا چہرہ خوشی اور سکون کے جذبات سے لبریز تھا،ایک جھٹکے کے بعد میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پولیس والوں کو تقریباً چیرتے ہوئے عمر کی طرف جا لپکا،ہاتھ پکڑ کر میں نے گلے ملنے کی کوشش ہی کی تھی دو پولیس والے خان صاحب خان صاحب کہتے ہوئے مجھے کھینچنے لگے،بالآخر عمر کورٹ روم میں چلے گئے، میں خود کو سنبھال نہیں پارہا تھا تبھی دور سے شرجیل امام کو پولیس اپنے گھیرے میں لے کر آتی ہوئی دکھائی دی، دوسروں کے بہ نسبت شرجیل کے ساتھ دو گنی پولیس تھی، میں نے شرجیل کو سلام کیا،شرجیل امام نے کہا واپسی میں ملتے ہیں، پھر میران حیدر کو پولیس لے کر آئی،میران تو مجھے دیکھ چلا پڑے،میں نے دوڑ کر میران کا ہاتھ پکڑ لیا،میران نے کہا کہ سب کو دعا کے لیے کہئے اور کبھی کبھی آتے رہا کرئیے بہت حوصلہ ملتا ہے،میران نے سفید کرتا پائجامَہ اور ٹوپی پہن رکھی تھی،میں نے کہاتم تو پورے مولوی ہوگئے ہو ماشاءاللہ،جلدی سے باہر آؤ تمہارا داخلہ دیوبند میں کرائیں گے،وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئے،کہنے لگے جامعہ ملیہ کا فرزند ہوں کبھی ہار نہیں مانوں گا،آخری دم تک لڑتا رہوں گا،میں نے زور سے کہا ان شاء اللہ ـ پیچھے جامعہ الومنائی ایسوسی ایشن کے صدر شفاء الرحمن بھائی کو بھی پولیس لے آئی،شفاء بھائی کی سفید داڑھی دیکھ کر میں پہچان نہیں سکا،انہوں نے میری اور میران کی گفتگو سن لی تھی،سلام کیا تو شفاء بھائی نے جواب دیتے ہوئے کہا مولانا ہم شیخ الہند اور محمد علی جوہر کی اولاد ہیں جھکیں گے نہیں،یہ زنجیریں جلد ٹوٹیں گی، اتنے میں پولیس نے انہیں زبردستی آگے بڑھادیا، اب سارے لوگ کورٹ روم میں جاچکے تھے، ہمیں خالد سیفی بھائی کا بے چینی سے انتظار تھا،میری داہنی طرف خالد بھائی کا بڑا لڑکا یسار اور بائیں طرف چھوٹا بیٹا طہ تھا،میں نے دونوں کے مونڈھوں کو پکڑ رکھا تھا،مریم کو بھابھی نے سنبھالا ہوا تھا، دس منٹ کے بعد خالد بھائی آگئے،خالد بھائی کو دیکھتے ہی یسار رونے لگا اور طہ و مریم ابو ابو کہتے ہوئے ان کی جانب لپک پڑے،میں نے چلاتے ہوئے خالد بھائی کو متوجہ کیاـ

 

خالد بھائی مجھے دیکھتے ہی مسکرانے لگے،پولیس والے جلدی جلدی کہہ کر انہیں لے جانے لگے، بچے و بھابھی پیچھے بھاگ پڑے،میں اپنی جگہ جامد رہ گیا، پانچ منٹ تک میں اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا کہ عمر خالد کورٹ روم سے باہر آگئے اب میں خود کو چاہ کر بھی نہیں روک سکا اور دوڑ کر عمر کے سینہ سے جالگا،ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کو محسوس کررہے تھے،عمر سمجھ گئے کہ میں رو رہا ہوں،

ادھر پولیس انہیں مجھ سے دور کرنے لگی،پیچھے فہد بھائی ان سے ملنے کو بیتاب تھے،عمر خالد نے جدا ہوتے ہوئے کہا مہدی بھائی "جیت ہماری ہی ہوگی” بس یہاں سے نکل کر دیوبند آؤں گا آپ امی کےہاتھوں کی بریانی کھلائیے گا،فہد احمد عمر خالد کے لیے ان کی مطلوبہ کتب لے کر آئے تھے، میرے چھوڑتے ہی فہد احمد نے عمر کو گلے لگالیا اور پولیس عمر خالد کو لے کر چلی گئی،اب مجھ میں جان نا تھی،میں اپنے حواس کو مجتمع کرتے ہوئے کورٹ روم کی طرف بڑھا،شرجیل امام بھائی سامنے سے آرہے تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھ اٹھا کر سلام کیا،ان کے چہرے پر ایسا ٹھہراؤ اور اطمینان تھا کہ گویا وہ ہر چیز سے بے نیاز ہوں، میں نے آگے لپک کر ان کا پاتھ پکڑا اور چوم لیا،گلے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن پولیس والوں نے ملنے ہی نہیں دیا،میں دوڑتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑ ان کے ساتھ چلنے لگا،وہ کہنے لگے حضرت سب کو سلام کہئے،ظلم کے خلاف تحریک رکنی نہیں چاہئے،اور آپ میرے لیے دعا کیجئے میں نے کہا شرجیل بھائی آپ ہماری مغفرت کی دعا کیجئے کیونکہ آپ کامیاب ہوچکے ہیں،رب کریم نے آپ کو سنت یوسفی کی ادائیگی کے لئے قبول کرلیا ہے،شرجیل مسکراکر کہنے لگے ہم قید میں ہیں آپ تو آزاد ہیں اپنا فرض ادا کرتے رہئے،

شرجیل کا پر اطمینان چہرہ اور ان کا عزم و حوصلہ آج بھی چٹان کی طرح بلند تھا،ان کے ساتھ بتائے گئے ان دو منٹ نے مجھے دو سال پیچھے شاہین باغ میں پہونچا دیا تھا جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اور وہ شاہین باغ تحریک کا بگل بجا چکے تھے،میں سوچ میں غلطاں تھا پتہ نہیں کب پولیس نے انہیں مجھ سے دور کردیا میں تنہا کھڑا رہ گیا،

ہوش آنے کے بعد میں دوبارہ اوپری منزل میں واقع کورٹ روم کی طرف بھاگا دیکھا سب لوگ جاچکے تھے،صرف خالد بھائی کورٹ روم میں تھے،تھوڑی دیر میں وہ نکلے،بھابھی نے چونکہ لاک اپ میں جاکر ملاقات کی اجازت لے رکھی تھی اس لیے یہاں انہوں نے مجھے موقع دیا، میں اور یسار خالد بھائی سے بغل گیر ہونے کی کوشش کرنے لگے،کسی پولیس والے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا،بس خالد بھائی اپنے پرانے انداز میں اس پر برس پڑے،اور اسے قانون کی شقیں بتاتے ہوئے کہا دوبارہ جج کے پاس جاکر تمہاری شکایت کروں گا اتنے میں دہلی پولیس کے اعلی افسران آگئے اور انہوں نے سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کیا،خالد بھائی نے باہر کے احوال پوچھتے ہوئے کہا کہ میں فائٹر ہوں کوئی مجرم تھوڑی، میں نے ہنستے ہوئے کہا خالد بھائی آپ بالکل نہیں بدلےـ خیر بات کرتے کرتے زینہ آگیا،میں نے ان کا ہاتھ لپک کر چوم لیا اور میں نے کہا خالد بھائی ملت بڑے اضطراب میں ہے آپ کی دعاؤں کی سخت ضرورت ہے،وہ کہنے لگے رات دن دعا ہی کرتا ہوں،آپ سب کا خیال رکھئے،آپ لوگ اسی لیے باہر ہیں،مایوسی سے نکالئے سب کو، اتنے میں پولیس والے پھر سے چلانے لگے اور ہم بات کرتے کرتے دوڑتے بھاگتے دو منزل نیچے آگئے، پھر پولیس انہیں لے کر لاک اپ کی طرف بڑھ گئی،ہم نم آنکھوں سے واپس بھابھی اور بچوں کے پاس آئے،بچوں کے آنکھوں میں آنسو تھے،سب کو تسلی دی،لیکن آج میں خود تسلی کا محتاج تھا،دل ہولے ہولے کانپ رہا تھا،یہ وہ لوگ تھے جن کے ساتھ 2015 سے لگاتار ہم نے سڑکوں کو آباد کیا تھا،ہر مدعے پر احتجاج کئے،تحریکیں چلائی گئیں،آج انہیں رسم اسیری ادا کرتے ہوئے دیکھ اپنا آپ پر قابو نہیں تھا،میں نے بھابھی بچوں اور دوسرے حضرات سے نا چاہتے ہوئے بھی اجازت طلب کی،کورٹ نے ان سب کو اگلی تاریخ دے دی تھی،بڑی مشکل سے ہم آصف اقبال تنہا اور بہن صفورہ زرگر کورٹ سے باہر آئےـ

گاڑی میں بیٹھ کر کافی دیر تک خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا، وقت دیکھا تو 2.30 بج چکے تھے،آصف اقبال نے بتایا کہ اللہ کی مدد سے آپ کی ٹرین دو گھنٹے لیٹ ہوچکی ہے،ہم اپنے اسیر دوستوں کو یاد کرتے ہوئے،ان کی بہادری اور حوصلے کا تذکرہ کرتے ہوئے نظام الدین اسٹیشن پہنچ گئے،3.20 پر اتکل ایکسپریس آگئی، دہلی سے دیوبند کے سفر کے دوران میں یہ روداد قلم بند کررہا ہوں،میری آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی ہیں،دل بہت مضطرب ہےـ مستقل ان جانبازوں کی رہائی کے لیے دعا گو ہوں اور آپ سب سے بھی دعا کی درخواست کرتا ہوں اور یہ اپیل کرتا ہوں کہ ان جانبازوں کی عدیم المثیل قربانیوں کو فراموش نا ہونے دیا جائے اور آزادی کے بعد سے پہلی مرتبہ شہریت تحریک کے ذریعہ ان نوجوانوں نے ملت مرحومہ کے اندر جو انقلابی روح پھونکی تھی اور ہمیں بحیثیت ملت اسلامیہ ہند اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے جو چراغ ان سب نے جلایا تھا اسے بجھنے یا مدھم پڑنے نا دیا جائے بلکہ دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے دستوری حقوق کے حصول اور تحفظ کے لئے سڑک سے عدالت تک ہر پلیٹ فارم پر جد و جہد اور مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے یہی آج کی ملاقات کا پیغام ہے، کیونکہ شرجیل امام نے سیماب اکبرآبادی کا شعر ایک مرتبہ کہا تھا:

لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر

وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر