آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی سازش:اویسی

نئی دہلی:آسام کے این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز) کی حتمی فہرست سے ہزاروں مبینہ ’نااہل افراد‘کونکالنے کے حکم پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکز میں مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ اب وہاں کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے کچھ بنگالی مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ اویسی نے ایک ٹویٹ کیا کہ بی جے پی آسام میں این آر سی کی بڑی حمایتی تھی۔ آسام کے لوگوں کو اپنے نام درج کروانے کے لیے بھی بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا ، اب بی جے پی مایوس ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس فہرست میں شامل کیاگیاہے۔ اس کی لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کی خوفناک کہانی غلط نکلی۔اب یہ لوگ حتمی فہرست کومستردکرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاکہ بنگالی مسلمانوں کی کافی تعداد کو اس فہرست سے خارج کیا جاسکے۔انہوں نے کہاہے کہ یہ لوگ انتظامی چالاکی دکھا کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ حتمی این آر سی کی فہرست شائع نہیں کی گئی ہے تاکہ اسے تبدیل کیا جاسکے۔ لیکن یہ فہرست شائع کی جاچکی ہے ۔ اویسی نے نئے حکم پرکہاہے کہ DRCRs سے نااہل افرادکوخارج کرنے کے لیے کہاجارہا ہے۔ کیا ڈی آر سی آر سماعت کے بغیر کسی کو نکال سکتا ہے؟ جب سے این آر سی جاری ہوا ہے ، اپیل کاکوئی عمل نہیں ہواہے۔ کسی بھی مزید عمل کے بغیر لوگوں کو فہرست سے خارج کردیا جائے گا ، تب ان کے پاس کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔