اصل اقبال کی دریافت!

سعید ابراہیم

علامہ اقبال مسلم تاریخ کا ایک محترم نام ہیں، مگر کیا اقبال حقیقی معنوں میں ویسے ہی تھے، جیسے ہمیں میڈیا اور نصاب میں دکھائے، بتائے اور سنائے جاتے ہیں؟ آیئے آج تاریخ کے صفحات سے اصل اقبال کو دریافت کرنے کی ایک سعی کرتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ خود اقبال اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں، علامہ21 ؍مارچ 1931ء کو لاہور میں منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اجلاس میں اپنے خطبے میں کہتے ہیں:
’’میں آپ کو ایک ایسے شخص کے انتخاب پر مبارکباد نہیں دے سکتا، جس کی حقیقت ایک منصوبے باندھنے والے تخیل پسند انسان سے زیادہ نہیں، کسی ایسے مطمحِ نظر کا انکشاف کرنا، جو دنیاوی حد بندیوں سے آزاد ہو، ایک کام ہے اور یہ بتانا کہ کس طرح وہ مطمحِ نظر زندگی بخش حقائق میں تبدیل ہو سکتا ہے، بالکل دوسرا کام ہے، وہ آدمی کہ جس میں یہ جرأت ہو کہ وہ اوّل الذکر کام سے موخر الذکر کام کی طرف اپنے آپ کو منتقل کرے، اسے بار بار ان حد بندیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور بسا اوقات ان کے سامنے جھکنا پڑے گا ،جنھیں وہ اب تک نظر انداز کرنے کا عادی رہا ہے، ایسے آدمی کو بدقسمتی سے مسلسل ذہنی کشمکش میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے اور اس پر بآسانی تناقض بالذات کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے‘‘۔
اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا اقبال تناقض بالذات کا شکار تھے؟ تو اس کا جواب ہمیں ان کی شاعری اور حقیقی زندگی سے ڈھونڈنا ہوگا۔ جہاں تک اقبال کی شاعری کا تعلق ہے،تو وہ جگہ جگہ نظریاتی تناقضات کا شکار نظر آتی ہے۔ مذہبی نظریات کے اعتبار سے آپ کی شاعری کے تین ادوار ہیں، یعنی پہلے دور میں وحدت الوجود کا پرچار ملتا ہے، دوسرے دور میں آپ وحدت الشہودی نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور آخری دور میں پھر سے وحدت الوجودی بن جاتے ہیں، وہ اپنی تمام شاعری میں ایک سیلانی الطبع شخص کے طور پر نظر آتے ہیں، سیاسی نظریات کے حوالے سے بھی جگہ جگہ تضادات کا شکار نظر آتے ہیں، ان کے نزدیک مسولینی بھی قابلِ تعریف ہے اور مارکس و لینن بھی، مارکس کے بارے میں تو یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ:

نیست پیغمبر و لیکن دربغل دار د کتاب

اسی طرح کبھی جمہوریت کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی اسے برا بھلا کہتے ہیں، ایک جگہ لکھتے ہیں:

سلطانیِ جمہور کا آتاہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو!
اور دوسری جگہ فرماتے ہیں:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

اقبال نے اپنی شاعری میں اتنے متضاد خیالات پیش کیے ہیں کہ ان کا ایک سکیچ بنانا ناممکن ہے، اقبال بیک وقت آمریت پسند بھی ہیں اور جمہوریت پسند بھی، وہ سوشلسٹ بھی ہیں اور مسلمان بھی؛ لہذا اقبال پاکستان میں بننے والی ہر حکومت کے لیے گیدڑ سنگھی کا کام دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے؛ کیونکہ ان کی شاعری سے ہر طرح کے طرز حکومت کے لیے سند دستیاب ہو جاتی ہے۔
اقبال کا المیہ یہ ہے کہ نہ صرف ان کی شاعری تضادات کا شکار ہے؛ بلکہ ان کی حقیقی زندگی اور شاعری میں بھی بے حد بعد پایا جاتا ہے اور یہ شعر اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ:

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

اقبال نے واقعی درست فرمایا، وہ لفظوں کی گھن گھرج سے تو خوب واقف تھے، مگر ان کی اپنی حقیقی زندگی اس گھن گھرج سے محروم تھی ،اپنی پوری شاعری میں خودی کا سبق دینے والے اقبال جب 17؍ اکتوبر 1925ء کو گورنر پنجاب کے معاون افسر جے پی تھامسن کو مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار میں ملازمت کے لیے درخواستی خط لکھتے ہیں ،توہماری نصابی کتابوں اور میڈیا میں نظر آنے والا اقبال شرم سے منہ چھپانے لگتا ہے،اقبال لکھتے ہیں:

’’میں آپ کو یہ خط ایک ایسی ضرورت سے لکھ رہا ہوں، جس کا فوری تعلق میری اپنی ذات سے ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسے وقت میں میری مدد فرمائیں گے، جب کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے،لاہور ہائی کورٹ میں جو جگہ خالی ہوئی تھی، اس کے متعلق حکومت کے فیصلے کی خبر تو آپ کو مل چکی ہوگی، میری یہ بدقسمتی ہے کہ لوگوں نے مجھے اس سلسلے میں ملوث کیا، مسلم پریس نے یہاں جتنا احتجاج کیا ہے یا آئندہ کرے گا، اس سے مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ چیف جج کا خیال ہے کہ چند اشخاص جن میں میرا نام بھی شامل ہے، اس احتجاج کی پشت پناہی کر رہے ہیں؛ حالانکہ میرے خیال میں ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس قسم کی سازشوں میں مجھے ملوث کیا جا رہا ہے، میرا ان سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ بہرحال ان حالات میں میرے لیے یہاں پر ایک وکیل کی حیثیت سے کام کرنا بے حد مشکل ہو جائے گا، خاص کر جب کہ مجھے ماضی میں بھی کئی طریقوں سے نقصان پہنچ چکا ہے، اس کے علاوہ چند دیگر ناقابلِ اظہار اسباب کی بنا پر ،جن کا اس خط میں تذکرہ مناسب نہیں، میں اس ماحول سے قطعی بیزار ہو چکا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں، مجھے یقین ہے کہ آپ کے قلم کی ایک جنبش مجھے ان تمام مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے، اس وجہ سے اور آپ کی فیاضی اور ہمدردی پر یقین رکھتے ہوئے میں آپ کی سرپرستی کا خواہاں ہوں، کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے کشمیر کی سٹیٹ کونسل میں کوئی منصب دلوا سکیں؟ شاید آپ کو علم ہو کہ کشمیر میرا آبائی وطن ہے اور کشمیر کے لیے میرے دل میں ایک خاص لگن موجود ہے، یہ ممکن ہے کہ (کشمیرکا) نیا مہاراجہ (ہری سنگھ) اپنی حکومت میں کچھ تبدیلیاں لانے کی سوچ رہا ہو، اگر ایسا ہے، تو مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں سلسلہ جنبانی کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، اگر آپ مجھے تھوڑا سا سہارا دے سکیں، تو یہ میرے لیے روحانی اور دنیاوی طور پر ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوگی اور میں آپ کے اس لطف و کرم کا ہمیشہ ممنون رہوں گا، اگرچہ اس معاملے میں مجھے آپ کی ذات پر مکمل اعتماد ہے؛ لیکن میں یہ بات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پالن پور کے نواب صاحب ،جو ہری سنگھ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں، میرے بھی دوست ہیں‘‘۔(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد:5، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 247,248)

اس خط کو پڑھنے کے بعد لگا یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی اقبال ہیں، جنھوں نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ:

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ پیچ غریبی میں نام پیدا کر

اور مزید حیرت وہ قصیدے پڑھ کر ہوتی ہے ،جو انھوں نے انجمن حمایت اسلام کے سترہویں اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب میکورتھ ینگ اور ڈائریکٹر ایجوکیشن ولیم بل جیسے انگریزوں کی شان میں ’’خیرمقدم‘‘ کے نام سے پڑھے، نمونے کے طور پر (اختصار کے پیشِ نظر) صرف ایک شعر حاضر ہے:

دعا نکلتی ہے دل سے حضور شاد رہیں
رہیں جہان میں عظمت طراز تاج و سریر(1)

ایک شعر حضرت بل کی شان میں یوں فرمایا:

بڑھے جہان میں اقبال ان مشیروں کا
کہ ان کی ذات سراپا ہے عدل کی تصویر(2)
(1۔2 باقیات اقبال، آئینہ ادب،لاہور، 1978)

پنجاب کے بدنام ترین انگریز گورنر سر مائیکل ایڈوائر کی شان میں لکھا جانے والا قصیدہ بھی پڑھنے کے لائق ہے، یہ وہی شخص تھا، جس نے جنگِ عظیم اول کے لیے زبردستی پنجاب سے جوان بھرتی کیے، جس کے خلاف پنجاب کے کئی اضلاع میں کسانوں نے بلوے اور ہنگامے کیے، معلوم نہیں اقبال ’’پنجاب کا جواب‘‘ نامی یہ قصیدہ نما نظم لکھ کر کن مظلوموں یا کم از کم مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے:

اے تاجدارِ خطۂ جنت نشان ہند
روشن تجلیوں سے تری خاوران ہند
محکم ترے قلم سے نظامِ جہانِ ہند
تیغِ جگر شگاف تری پاسبانِ ہند
ہنگامۂ وغا میں میرا سر قبول ہو
اہلِ وفا کی نذرِ محقر قبول ہو
تلوار تیری دہر میں نقادِ خیر و شر
بہروز، جنگ توز،جگر سوز،سیز در
رایت تری سپاہ کا سرمایۂ ظفر
آزادہ، پرکشادہ،پری زادہ،یم سپر
سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے
ذرے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے
وقت آ گیا کہ گرم ہو میدانِ کارزار
پنجاب ہے مخاطبِ پیغامِ شہریار
اہلِ وفا کے جوہرِ پنہاں ہوں آشکار
معمور ہو سپاہ سے پنہائے روزگار
تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو
غالب جہاں میں سطوتِ شاہی کا زور ہو
ہندوستاں کی تیغ ہے فتاحِ ہشت باب
خونخوار، لالہ بار، جگردار ،برق تاب
بے باک، تابناک،گہرپاک،بے حجاب
دلبند، ارجمند،سحرخند،سیم ناب
یہ تیغ دل نواز اگر بے نیام ہو
دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو
اخلاص بے غرض ہے،صداقت بھی بے غرض
خدمت بھی بے غرض ہے،اطاعت بھی بے غرض
عہدِ وفا و مہر و محبت بھی بے غرض
تختِ شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض
لیکن خیالِ فطرتِ انساں ضرور ہے
ہندوستاں پہ لطفِ نمایاں ضرور ہے
جب تک چمن کے جلوۂ گل پر اساس ہے
جب تک فروغ لالۂ احمر لباس ہے
جب تک نسیمِ صبح عنا دل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرۂ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومتِ آئیں اسی طرح
دیتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح
(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 244,242)

اقبال نے یہ نظم نواب ذوالفقار علی خان کی وساطت سے گورنر کی فرمائش پر تحریر کی تھی اور یہ وہی نواب ذوالفقار ہیں ،جن سے تعلقِ خاطر کی بنا پر اقبال کو سر کا خطاب ملا تھا۔
تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے ،اسے لاکھ چھپایا جائے ؛لیکن ایک نہ ایک دن وہ خود کو بے نقاب کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے، اب ہم ایک ایسی بات کا تذکرہ کرنے جا رہے ہیں ،جو شاید بہت سے لوگوں کو (جن کاا قبال کے متعلق علم اور تصور صرف میڈیا اور نصاب کی حد تک محدود ہے) چونکا کر رکھ دے؛ بلکہ شاید دکھ میں مبتلا کر دے ،مگر کیا کیا جائے ،تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے اور حقائق بہت کڑوے اور تلخ، محض جھوٹ سننے کی خواہش سے سچ بدل نہیں جائے گا، تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت علامہ اقبال تقریباً 1930ء تک احمدیت سے خاصے متاثر رہے ؛بلکہ یہاں تک کہ آپ نے مرزا غلام احمد کی بیعت بھی کی اور ان کے بڑے بیٹے آفتاب نے کئی سال تک قادیان میں تعلیم حاصل کی۔
’’خواجہ نذیر احمد اور مرزا بشیر الدین محمود کے بیان کے مطابق اقبال کے والد شیخ نور محمد نے فرقۂ قادیانی کے بانی مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی، خواجہ نذیر احمد کا مزید بیان یہ ہے کہ خود علامہ اقبال نے بھی 1897ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کرنے کے بعد مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی اور وہ 1930ء تک مرزا کو مذہبی مجدد سمجھتے رہے تھے‘‘۔ (مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء، پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد نمبر5، زاہد چودھری)
1901ء میں انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر میں یوں اظہار خیال کیا:
’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ،جسے فرقۂ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
لیکن 1930ء کے بعد علامہ کے خیالات میں تبدیلی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی، گویہ تبدیلی مذہبی سے زیادہ سیاسی تھی اور اس کے پس منظر میں ایک تو احرار کی طرف سے اٹھنے والا مخالفت کا طوفان تھا اور دوسری طرف سر ظفر اللہ خان (قادیانی) سے سیاسی مفاد کا ٹکراؤ؛ حالانکہ مرزا صاحب نے تو 1901ء میں ہی اپنے ظنی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا تھا، تو اقبال کو اپنے خیالات بدلنے میں تیس برس کا عرصہ کیوں لگا؟ اس کا ایک جواب خواجہ نذیر احمد دیتے ہیں ’’1931ء میں مرزابشیرالدین محمود سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد جب ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کے خلاف کتاب لکھی ،تو میرے والد خواجہ کمال الدین نے اس سے پوچھا کہ ’’اویار تیری بیعت دا کی ہویا؟‘‘۔ اس پر علامہ کا جواب یہ تھا کہ ’’اوہ ویلا ہور سی ایہہ ویلا ہور اے‘‘۔
علامہ اقبال نے مرزا صاحب کے دعواے نبوت کے تقریباً 33 ؍سال بعد ایک طویل مضمون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا، یہ جولائی 1934ء کا ذکر ہے ،جب وزیر ہند لارڈ زئلینڈ نے سر ظفر اللہ خان (پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ) کی کارکردگی سے متاثر ہو کر انھیں سر فضل حسین کی جگہ وائسراے کی ایگزیکٹو کونسل کی مستقل رکنیت کی پیشکش کی تھی، چونکہ اقبال خود اس نشست کے امیدوار تھے؛ لہذا معترضین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اس موقع پر قادیانیوں کی مخالفت مذہبی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ سیاسی مفاد کی وجہ سے تھی اور اس مضمون کا مطلب یہی نکلتا تھا کہ ظفر اللہ خان مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ (مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء، ص 272۔73)
میڈیا سے ایک بات کا تواتر سے (پروپیگنڈے کی حد تک) ذکر کیا جاتا ہے کہ علامہ تصورِ پاکستان کے خالق تھے،اس بات کا جواب ہمیں علامہ کے اس خط سے بآسانی مل جاتا ہے ،جو انھوں نے 4؍ مارچ 1934ء کو ای جے تھامپسن کے نام لکھا ،جس میں انہوں نے شدت سے چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان سکیم‘‘ سے لاتعلقی بلکہ برات کا اظہار کیا، لکھتے ہیں:
’’مائی ڈیر مسٹر تھامپسن
مجھے اپنی کتاب پر آپ کا ریویو ابھی ابھی موصول ہوا ہے،یہ بہت عمدہ ہے اور میں ان باتوں کے لیے آپ کا بہت ممنون ہوں ،جو آپ نے اس میں میرے متعلق بیان کی ہیں؛ لیکن آپ نے ایک غلطی کی ہے، جس کی میں فوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں؛ کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے، آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس سکیم کا حامی ہوں ،جسے ’’پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میری سکیم نہیں ہے،میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی ،وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی ،جو شمالی مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا، میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کاحصہ ہوگا، پاکستان سکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے ،جو ایک علیحدہ ڈومینین کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہِ راست تعلق رکھے گی، اس سکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے، اس سکیم کے مصنفین کا خیال ہے کہ ہم جو گول میز کانفرنس کے مندوبین ہیں،ہم نے مسلم قوم کو ہندوؤں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
خیراندیش محمد اقبال‘‘
(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 418,261)
دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ پاکستان سکیم کی مخالفت 1934ء میں کر رہے ہیں اور وہ بھی انتہائی شدت سے ،جبکہ ان وہ مشہور و معروف خطبہ الہٰ باد، جس سے تصورِ پاکستان اخذ کیا جاتا ہے، وہ انہوں نے 1930ء میں یعنی 4 سال پہلے دیا تھا:
ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے!
اس خط سے تو صاف ظاہر ہے کہ علامہ ایک متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانانِ ہند کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دلوانے کے خواہش مند تھے اور اس خودمختاری کے عوض متحدہ ہندوستان کے دفاع کی ذمے داری بھی مسلمانوں کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں، وہ انگریز اور ہندو کو بتاتے ہیں کہ اسی خودمختاری کے نتیجے میں انہیں پنجاب ،سرحد اور بلوچستان سے ہندوستان کی کل فوج کا 62؍ فیصد سے زیادہ حصہ مسلم فوج کی صورت میں دستیاب ہوگا، جو تمام ہندوستان کو غیرممالک کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکے گا، مزید یہ کہ وہ ہندوؤں اور انگریزوں کو یہ یقین دہانی بھی کرواتے ہیں کہ مسلمانوں کی ریاستوں میں شرحِ سودپر کوئی پابندی نہیں ہوگی؛ کیونکہ ’’مسلم دورِ حکومت میں ہندوستانی مسلم ریاستوں نے شرحِ سود پر کوئی پابندیاں نہیں لگائیں‘‘ ۔اقبال کا تصورِ پاکستان مزید ان جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ ’’میرے نزدیک سب سے بہتر صورت یہ ہوتی کہ صرف برطانوی ہندوستان کے علاقوں پر مشتمل وفاق قائم کر کے ابتدا کی جاتی…… مسلمانوں کو اس وقت تک فائدہ نہیں ہو سکتا، جب تک انہیں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے پانچ میں تمام اختیارات مابقی کے ساتھ اکثریت کے حقوق حاصل نہ ہوں اور وفاقی مجلس قانون ساز میں انھیں 33 فیصد نشستیں نہ ملیں…… ہمارا مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ ان مسلم ریاستوں کے علاوہ جو فیڈریشن میں شریک ہوں، ہمیں آل انڈیا فیڈرل اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں حاصل ہوں‘‘۔
آپ خطبۂ الہٰ باد پورے کا پورا پڑھ لیجیے، مجال ہے ،جو آپ کو آزاد اور خودمختار پاکستان کے حوالے سے ایک جملہ بھی دستیاب ہو جائے، مگر ہمارا یہ گلہ علامہ سے نہیں ہے؛ بلکہ ان لوگوں سے ہے، جو تسلسل کے ساتھ علامہ کا ایک غیر حقیقی اور خلافِ تاریخ امیج بنانے اور اسے قوم سے منوانے پر مصر ہیں۔
علامہ کے بارے میں ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ ان کے دل میں پوری مسلم امت کا درد تھا، وہ پان اسلام ازم کے حامی تھے ؛اسی لیے انہوں نے ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسی شاعری سے انکار کر کے وطن کو بت قرار دے دیا تھا اور مسلمانوں کی اجتماعیت کے متعلق اس خواہش کا اظہار فرمایا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کا شغر
لیکن جب ہم مسلمانوں کے اتحاد کی اس قدر شدید خواہش رکھنے والے شاعر کو سیاست کے محاذ پر یہ کہتے سنتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان بیرونی مسلمان حملہ آوروں سے بھی اس ملک کی حفاظت کریں گے،تو پان اسلام ازم کا تصور اور خواہش بغلیں جھانکنے لگتی ہے، اپنے خطبہ الہٰ باد میں کہتے ہیں:
’’مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفاع کی خاطر غیرجانبدار بری اور بحری فوجوں کو قائم کرنے پر بخوشی رضامند ہو جائیں گی……مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیرجانبدار ہندوستانی فوج کے قیام سے مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے اس بدگمانی کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ بیرونی حملہ کی صورت میں مسلمان، حملہ آور مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے‘‘۔
اس تمام خطبے سے ایک بات عیاں ہے کہ علامہ کے ذہن میں ایک کلی طور پر آزاد اور خودمختار پاکستان کا کوئی تصور نہیں تھا؛ بلکہ ان کی خواش محض اتنی تھی کہ مسلمانوں کو ہندوستانی وفاق میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی معاملات طے کرنے کی آزادی دیدی جائے اور آل انڈیا وفاقی اسمبلی میں 33؍ فیصد نشستیں الاٹ کر دی جائیں، جہاں تک فوج کا تعلق ہے ،وہ وفاق کی ہوگی اور مسلم ریاستیں ہندوستان کا اس حد تک دفاع کرنے پر برضا و رغبت تیار ہونگی کہ اگر حملہ آور مسلمان ہوں گے،تو ان سے لڑنے اور انھیں شکست دینے سے گریز نہیں کریں گی، اب آپ ہی بتایئے کہ اس خطبے میں سے اقبال کا ’’موجودہ تصورِ پاکستان‘‘ کس طرح سے دریافت کیا جائے یا ان کا پان اسلام ازم ڈھونڈا جائے؟ کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے کہ ایسی باتوں سے تاریخ بھری پڑی ہے، مگر کیا کریں، ہم جھوٹ کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ سچ ہماری سماعت میں خراشیں ڈال دیتا ہے اور ہم شدتِ درد سے چیخنے اور چلانے لگتے ہیں اور ایسا سچ لکھنے سے بہت سے لوگوں کے مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخر میں یہی عرض کروں گا کہ یہ اقبال کا قصور نہیں کہ وہ ایسے کیوں تھے؛ بلکہ یہ ہمارے مفادپرست طبقوں کا قصور ہے کہ انھوں نے اقبال کو وہ کیوں بنا دیا ،جو وہ نہیں تھے؟ ہمارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ ہم اپنے مفاد کے لیے انسانوں اور لیڈروں کو پیغمبر بنانا چھوڑ دیں، ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمارا انسانوں پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*