اسد محمد خاں کی کہانیوں میں تاریخ کی بازگشت-ضیافاروقی

بیسویں صدی میں افسانوی ادب کو جو عروج حاصل ہوا وہ صاحبان نقدونظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔اس دورانیے میں افسانے کو زندگی کے تلخ و شیریں حقائق سے ہم رنگ کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے اس میدان کو سر سبز و شاداب کرنے میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں ۔ ذاتی طور پر اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ بحیثیت قاری فکشن میں میری ترجیحات کیا ہیں تو میں بے جھجھک یہ اعتراف کرنے کو تیار ہوں کہ تاریخی پس منظر میں لکھی گئی وہ کہانیاں جن میں ہماری تہذیبی اور اخلاقی قدروں کی لے تیز ہو میرے دل و دماغ پر تادیر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔ عزیز احمد ،قاضی عبدالستار ، قرۃ العین حیدر ،اسد محمد خاں ، نیر مسعود ، شمس الرحمن فاروقی، سید محمد اشرف ، انیس اشفاق اور اقبال مجید وغیرہ وہ فکشن نگار ہیں جن کے یہاں تاریخ کی بازگشت ہی نہیں تہزیب و تمدن کا ایک خصوصی رچاؤ بھی موجود ہے اور یہی رچاؤ ہمیں اسد محمد خاں کی کہانیوں کو پڑھنے پر راغب کرتا ہے
اسد محمد خاں کی کہانیوں میں اوراق گمشدہ کی بازیافت کا عمل اتنا متاثر کن ہے کہ کہانی جب ورق ورق اپنے اختتام پر پہنچتی ہے تو شعور و لا شعور کے کتنے ہی دریچے وا ہو جاتے ہیں جن میں شوخ رنگوں سے عبارت مناظر اور زندگی سے بھرپور کردار اپنے پورے وجودکے ساتھ نظر آتے ہیں ۔کہیں وندھا چل اور مانڈو کی تہذیب زندہ اور متحرک ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے تو کبھی خلجیوں اورلودھیوں کے دربار کی ریشہ دوانیاں کہانی کا روپ دھار لیتی ہیں ۔کہیں لہریں مارتا نربدا اور دوسرے دریاؤں کا جلترنگ ہمیں سنائی دیتا ہے تو کبھی مئی دادا اور مریم جیسے گھریلو خدمتگاروں کی روداد الم ہمیں لہولہان کر دیتی ہے ۔ دراصل ہند اسلامی تہذیب کا وہ ماحول جو صدیوں کی گردش کے بعد عالم وجود میں آیا ہے اسے اس طرح کہانی میں ڈھال دینا کہ سارے کردار زندہ ہوکر ہمارے وجود کو جل تھل کر دیں یہ اسد محمد خاں کا کمال ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خان صاحب کا قلم صرف۔ تغلقوں ، خلجیوں یا لودھیوں کی تاریخ پارینہ ہی سے کہانی کے پلاٹ نکال کر لاتا ہے بلکہ انھوں نے آج کی مشینی اور سائنسی دنیا کے مدوجزر کو بھی اپنے قلم کی گرفت میں لے کر بہترین کہانیاں لکھی ہیں ۔ انھوں نے روایتی بیانیہ اور جدید علامتی آہنگ کے درمیان اپنا وہ اسلوب خلق کیا ہے جس میں کرداروں کا تنوع بھی ہے اورعہد اور معاشرے کی رنگا رنگی بھی ۔ "رگھوبا اور تارئخ فرشتہ ” کے برادھو بھائیوں کا احوال اور کردار ہو یا پھر "نربدا” کے بکرم سارنگ سنگھ اور بکرم نارنگ سنگھ جیسے سپاہیوں کی شخصیت کا بیان ہو جو سوریوں کے عہد کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔ ان کردار کی نشست و برخاست اور بولی ٹھولی ہمیں تاریخ کے قدیم ایوانوں کی سیر کراتے ہیں ، ان کے مقابلے میں جانی میاں اور ” ہے للا للا ” کے کرداروں کی دنیا ہی الگ ہے بقول مبین مرزا "ان کے افسانوں کے کردار انسانی نہیں بلکہ انسانی حقیقتوں کے مظاہر ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

"اسد محمد خاں جیسے لوگ کہانی لکھتے ہوئے عوام الناس کی خواہشات اور مطالبات کو نہیں بلکہ اپنے فن کےتقاضوں اور فکر کے زاویوں کو سامنے رکھتے ہیں ان کے افسانے اپنی اوپری سطح پر اظہار و ابلاغ کا کتنا ہی ڈرامائی سہل اور رواں دواں اسلوب کیوں نہ اختیار کرہں واقعہ یہ پے کہ یہ افسانے تہہ در تہہ معنویت کا ایک گمبھیر اور پیچیدہ سلسلہ رکھتے ہیں "ـ

دیکھا جائے تو ادھر ساٹھ ستر برس قبل تک جاگیر داروں اور رئیسوں کی حویلیوں اور ڈیوڑھیوں میں مئی دادا اور مریم جیسے کردار نشاط و ملال کے ہزاررنگوں کے ساتھ زندگی گزارتے نظر،آتے تھے ۔ یہ خانگی اور پثتینی ملازم افراد خاندان کی طرح عمر بھراپنی وفاداریوں نبھاتے تھے مگر شجروں اور خاندانی تذکروں پر ان کی پرچھائی بھی نہیں پڑتی تھی ۔ ان بے،شناخت لوگوں کو اسد محمد خاں نے جس جزباتی اور متاثرکن انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور افراد خاندان کے مرتبہ تک لے گئے ہیں اس نے ان کرداروں کو زندہ جاوید بنادیا ۔گنج باسودہ کی میواتن مریم جو حویلی کے بچوں کی دائی کی حیثیت سے آتی ہے اور پھر تمام زندگی بزرگ خاندان کی طرح حویلی میں ہی گزار دیتی ہے وہ جسے اپنے بیمار بیٹے سے زیادہ حویلی کے بچوں کی فکر ہے جو ٹھیک سے کلمۂ طیبہ نہ جاننے کے باوجود عشق رسول میں دیوانی ہے اور جو اپنے جوان بیٹے کی موت پر اس لئے غمگین ہے کہ” حرامی کے جنے ” نے اس کے وہ سب پیسے خرچ کرادئے جو اس نے مکہ مدینہ جانے کے لئے جوڑے تھےاور سرکار کے روضہ کی زیارت کو نہ جا سکی یقین جانو کہ یہی لوگ جنتی ہیں جو مرتے مرتے بھی اپنے سرکار کے نام پیغام چھوڑ جاتے ہیں کہ کن مجبوریوں کے تحت وہ حاضری سےمعزور رہے اور جنھیں اسد محمد خاں کا قلم اپنے حصار میں لے کر زندہ کر دیتا ہے ۔اسی طرح مئی دادا کا کردار جن کے بقول افسانہ نگار تین نام تھے مجیتا ، مجید اور مئی دادا ۔مجیتا کہنے والے ان کے سامنے اللہ کو پیارے ہو گئے ،اماں مجید کہنے والے دو تین بڑے بوڑھوں کے علاوہ تمام لوگوں کے لئے بلکہ سارے شہر کے لئے وہ مئی دادا تھے ۔ یہی مئی دادا جنھیں دھوبیوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ ذات کے تیلی ہیں مگر وہ خود کو نہ صرف یہ کہ” ابدل مزید خاں ایسپ جئی” کہتے رہے بلکہ پٹھانوں کے کٹمب قبیلے کی کئی پشتوں کے شجرے بھی منھ زبانی یاد رکھے ہوئے تھے اور جو مرتے مرتے نہ صرف ڈیوڑھی کے وفادار رہے بلکہ اپنی جان پر کھیل کر خاندان کی عزت نفس کا تحفظ بھی کیاـ
اسد محمد خاں نے تاریخ کے دھندلے اجلے مناظر اور ان میں رقصاں شہ زوروں ، کمزوروں ، بٹ ماروں اور سیاسی چال چلنے والے شاطروں کو ان کی پوری نفسیات کے ساتھ لفظوں کا جو پیرہن عطا کیا ہے وہ اتنا شوخ اور جاذب نظر ہے کہ شاید زبان کے صدیوں کے سفر کے بعد بھی ان کی چمک دمک میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ تہزیبوں کی شناخت میں علاقائی مظاہر کی اہمیت کیا ہوتی ہے اس کا احساس اسد محمد خاں کے اس جملہ سے بھی ہوتا ہے کہ ” دریا کو آدمی اور آدمی کو دریا دو سو برس میں اپناتاہے اور کہیں پانچ سو برس میں کہیں جا کر دوست بناتا ہے ”
آسد محمد خاں کی کہانیوں میں زبان و بیان کا اپنا ایک خاص انداز ہے ۔وہ کہانی بنتے وقت بیانیہ، ماحول ،رہن سہن ،اور زبان کی نشست و برخاست کا وہی قرینہ ترتیب دیتے ہیں جس کا تقاضہ کہانی کرتی ہے ۔مثلاٗ "ایک وحشی خیال کا منفی میلا پن ” کا یہ اقتباس دیکھئے
” مسئلہ یہ ہے کہ دیوار کے اس طرف یا اس طرف پتھر کی ایک عمارت ہے جہاں لوگ جھوٹی گواہیاں دینے اور جھوٹے ایفی ڈیوٹ بنوانے آتے ہیں ۔ اسکی سنگین سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تم نے دیکھا ہوگا کہ دائیں یا بائیں گملوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، ان گملوں میں ہیری پام ،کینا ،کولیئس اورکروٹن کے پودے انتظار ہی انتظار میں نمک لگے بھنس کے چمڑے کی طرح سوکھ گئے ہیں اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سور کے بچوں نے ہیری پام کے بالوں بھرے پتوں پر پان کی پیکیں ماری ہیں اور یہ پتے خون میں لتھڑے ہوئے پنجوں کی طرح ہو گئے ہیں ، جبکہ ان سیڑھیوں پر سجائے جانے میں ا ن کا کوئی قصور نہیں تھا ، یہ بیچارے تو اپنی سادگی میں مارے گئے ”
” ایک خیال کا منفی میلا پن ” آج کی دکھ بھری کہانی ہے ۔ اب ذراچار چھ صدی پرانی تصویر دیکھئے جسے "نربدا” کے حوالے سے اسد محمد خاں نے پیش کیا ہے ـ

” خاندیش کےمیکھی بار علاقے کے مفلوک الحال کسانوں کی ایک خراب و خستہ بیل گاڑی ۔۔۔بیل گاڑی کو بھک مرے بیلوں کی جوڑی چیونٹی کی رفتار سے کھنچتی ہوئی دریا کی طرف جانے کا جتن کر رہی ہے ۔اس بیل گاڑی پر وہ تینوں سوار ہیں ۔بڈھا بکرم نارنگ سنگھ ،اس کا بیٹا بکرم سارنگ سنگھ اور وہ لڑکی ۔ لڑکھڑاتی بیل گاڑی گراوٹ پکڑے پکڑے برگدکے چھتنار کے نیچے پہنچ کر رک گئی۔یہاں جا بجا بے قاعدہ چولھے بنے ہوئے تھے اور نئے پرانے الاؤ کے نشان تھے۔
گاڑی رکتے ہی سارنگ ٹھیے سے اٹھا اور چکٗے کی موٹھ پر ہتھیلی جمائے پھرتی سے الٹی چھلانگ لگاتا زمین پرآ کھڑا ہوا ۔اس نے یہ سب دکھاوے کے لئے نہیں کیا تھا ۔ایک پہر سے وہ گاڑی ہانکتا ہوا آیا تھا تو گاڑی کی ماٹھی چال نے ہاتھ پیروں میں آلس بھر دی تھی۔ اس سے پیچھا چھڑانا ضروری تھا ۔اب اس نے پچھلے تختے سے بندھا مشکیزہ کھولا اور اپنے باپ کو پانی پلایا ۔بوڑھے نے اوک سے پانی پیا تھا ۔ لڑکی اسے محویت سے دیکھ رہی تھی ۔بوڑھے نے ایک قطرہ بھی نہ گرنے،دیا ۔ پانی پی کر اس نے گیلے ہاتھوں سے اپنا چہرہ تر کیا اور دھیرے سے کہا۔۔۔ مااائے بھوانی”۔

کہانی طویل مگر دلچسپ ہے ۔ شیرشاہ سوری کا عہد ،نربدا کے کنارے کا گاؤں تلونڈی جس کی گھاٹ چوکی پر بٹ ماروں نے شاہی کارندوں کو مار کر قبضہ کر رکھا ہے اور گاؤں کی ایک بیوہ کو بھی اپنے چنگل میں پھنسائے ہوئے ہیں ۔اس طرح وہ گھاٹ پر آئے مسافروں کو لوٹتے ہیں اور گاؤں والوں پر رعب ڈالتے ہیں کہ وہ بیس گاؤں کے بیوپاری اور بیوہ کے بھائی بند ہیں ۔یہ ٹھگ نربدا گھاٹ پر ٹھاکر باپ بیٹے کو بھی گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔اسد محمد خاں نے اس پورے منظر کو جس ڈرامائی انداز میں پیش کیا ہے اس میں سوری عہد میں وسط ہند کا معاشرہ ، سپاہیوں کا جنگی طرز اور اس علاقہ کی بولی ٹھولی کا انداز سب کچھ سامنے آتا ہے ۔اب یہی ڈائیلاگ دیکھئے جب سارنگ باپ بیٹے گاؤں جاکر صورتحال سے آگاہ ہوتے ہیں اور گاؤں والوں سے مکالمہ ہوتا ہے ـ

” مکھیا بولا "۳ویسے چاروں بٹ ماروں نے عورت کو کوئی چیج کی کمئ نئیں ہونے دی ، ناج ،گھی ، تیل ،دال ،گڑ سبھئی ڈھیر کرکے رکھا تھا سسروں نے۔ ایک بات بھلے منسی کی یہ تھی کہ بساطی کی ودھوا سےماس اوس کدے نئیں پکوایا ، کھد پچھواڑے جاکے بکرا ، مرگا مار کے اپنا چولھا بنا اپنے مٹی کے باسنو میں پکا لیتے تھے ۔ دارو چینڈا بھی ادھر گاؤں میں نئیں پیا ”
"ہاں جو گھاٹ سے پی پا کے آگئے تو اتی کوئی اودھم نئیں کی ”
"ہاں رے ،جو بات جتٗی ہو اتٗی کہنا چئے، بھگوان کو بھی ایک روج منھ دکھانا ہے ، یہ آخری بات گاؤں کے پنڈے نے کہی جو ہلدی چندن سے خوب اپنا ماتھا اور بھجائیں رنگے آیا تھا اور دھوتی کے پلے میں ہاتھ ڈالے انڈوے کھجائے جا رہا تھا "ـ

ان چند اقتباس کے حوالے سے میں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسد محمد خاں کو زبان و بیان پر نہ صرف یہ کہ دسترس حاصل ہے بلکہ معاشرے میں بکھرے ماضی اور حال کے واقعات و حادثات کو پوری ادبی فنکاری سے پیش کرنے پر قدرت کاملہ بھی رکھتے ہیں ۔بیانیہ کو پر اثر اور پر درد بنانے کا جو ہنر اسد محمد خاں کے قلم میں ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔ اردو کہانی میں علاقائی زبانوں اور محاورں کو اس طرح برتنا کہ اجنبیت کا احساس نہ ہو فنکار کا کمال فن ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*