آروگیہ سیتو ایپ میں اردو زبان کی عدمِ شمولیت باعثِ تشویش:شہاب الدین احمد

بزمِ صدف انٹرنیشنل نے محبّانِ اردو سے اس سلسلے سے مہم چلانے کی اپیل کی

دوحہ،قطر:کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے سے مرکزی حکومت کی ایپلی کیشن آروگیہ سیتو ایپ کے ڈیولپ کرنے والوں پر لسانی تعصب برتنے کا الزام لگ رہا ہے۔ وجہ ہے یہ کہ اس ایپلی کیشن میں چھوٹی بڑی بارہ زبانوں کو چننے کا اختیار دیا گیا ہے جس میں ہندی، مراٹھی، پنجابی، بنگلہ، اُڑیا وغیرہ زبانیں شامل ہیں۔ لیکن ہندستان کی مشہور و معروف زبان اردو جو آج بین الاقوامی سطح پرقبولِ عام کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور تقریباً پوری دنیا میں اس کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں، اسے اس ایپلی کیشن میں جگہ دینے کی زحمت نہیں کی گئی ہے۔
اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بزمِ صدف انٹرنیشنل کے چیرمین جناب شہاب الدین احمد نے ٹوئیٹر کے ذریعے ہندستان اور پوری دنیا کے محبانِ اردو سے اس سلسلے میں مہم چلانے کی اپیل کی ہے۔شہاب الدین احمد نے اپنے پریس اعلانیہ کے ذریعے یہ بتایا ہے کہ اردوخالص ہندستان کی زبان ہے اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہندی فلموں میں اَسّی سے نوّے فی صد مکالمے اور نغمے اردو زبان کے الفاظ سے ہی دلکش اور شیریں بنتے ہیں۔ ایک زمانے میں اردو زبان ہندستان گیر پیمانے پر لنگوا فرینکا کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔ لیکن حکومت کی عدم توجہی کہیے یا پھر ایپلی کیشن ڈیولپ کرنے والوں کی کوتاہ نظری کہ صوبائی سطح پر بولی جانے والی زبانیں تو اس ایپلی کیشن میں شامل کی گئیں لیکن اردو کو یہ شرف بخشنے سے محروم کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز حکومتِ ہندنے ٹرینوں اور ہوائی جہاز کے سفر کے لیے آروگیہ سیتوٗ ایپ کے استعمال کو لازمی ٹھہرایا ہے اور اس کے بغیر کسی کو سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ایسے میں اردو داں طبقے میں افسردگی اور غم و غصے کا ماحول ہے کہ ان کی ہر دل عزیز زبان کو اپیلی کیشن کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ بزمِ صدف انٹرنیشنل اردو کے سلسلے سے ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو پوری دنیا میں اردو کے فروغ کے لیے وقف ہے۔ کورونا کی وبا کے سلسلے سے غریب اور مزدور طبقے کے لیے اس سے قبل اس تنظیم نے ملک کے مختلف شہروں میں راشن مہیا کرانے کی کامیاب مہم چلائی جس سے بہار،مہاراشٹر، دہلی اور ملک کے دیگر صوبوں کے بہت سارے غریبوں اور مزدوروں کو زندگی کی جدّ و جُہد میں آسانی پیدا ہوئی۔ اب اردو کے ساتھ ہونے والی اس لسانی زیادتی کے بارے میں یہ پہل قابلِ توجّہ ہے۔ شہاب الدین احمد نے ٹوئیٹر کے ذریعے تمام محبانِ اردو سے گزارش کی ہے کہ اس سلسلے میں ہیش ٹیگ #ArogyaSetuAppUrdu کے ذریعے اس مسئلے کو اُٹھائیں تاکہ اس لسانی تعصب کا سر کُچلا جا سکے۔