ارنب گوسوامی:جیسی کرنی ویسی بھرنی ـ شکیل رشید

ارنب گوسوامی اور ریپبلک ٹی وی پھر موضوع گفتگو ہیں ۔ کسی کا موضوع گفتگو بننا دو بنیادوں پر ہوتا ہے، یاتو لوگ اس کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، اس کے اچھے کاموں کی وجہ سے، یا پھر اس کی برائیاں گنوا رہے ہوتے ہیں ۔ ارنب کا جہاں تک سوال ہے تو جیسی کرنی ویسی بھرنی والا معاملہ ہے ۔ پہلے وہ مسلمانوں پر نشانہ سادھے ہوے تھے اور سی اے اے کی مخالفت کرنے والا ہر شخص ان کی نگاہ میں آتنک وادی تھا، اور اب بھی ہے۔کشمیریوں کو وہ دہشت گرد ہی سمجھتے ہیں، وزیراعظم نریندر مودی کا ہر نکتہ چیں ان کے لیے ملک دشمن ہے ۔ ارنب نے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو قتل قرار دینے کے لیے کس کس کو پھنسانے کی کوشش نہیں کی، ریا چکرورتی کا لمبے عرصے تک جیل میں رہنا صرف ارنب کے پروپیگنڈا کے سبب ممکن ہو سکا ۔ راجپوت معاملہ میں ریاست کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور ان کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کی طرف انگلی اٹھا کر انہوں نے بی جے پی کی دلی مراد پوری کی تھی.، مقصد تھا کہ مہاراشٹر کی سرکار کمزور ہو اور گر جائے ۔ ارنب پر مقدمات درج ہیں جن میں ایک معاملہ ایک شخص کو خودکشی پر اکسانے کا بھی ہے۔ اس معاملے میں ارنب کو ضمانت ملی ہوئی ہے۔ ایک معاملہ ٹی آر پی گھوٹالے کا بھی ہے ۔ الزام ہے کہ ریپبلک ٹی وی کو نمبر ایک کا بنانے کے لیے انہوں نے ٹی آر پی بڑھانے کے لیے روپیے دیے یعنی بدعنوانی کی، اور ٹی آر پی بڑھوا کر اس کا مالی فائدہ مہنگے اشتہارات حاصل کر کے اٹھایا ۔ اب اس معاملہ میں بارک کے سابق سربراہ پارتھو داس گپتا سے ان کی مبینہ واٹس ایپ چیٹ کے ریکارڈ سامنے آے ہیں جو اس گھوٹالے میں پی ایم او یعنی وزیراعظم کے دفتر اور این ایس اے یعنی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور وزارت اطلاعات و نشریات تک کو کھینچ لاتے ہیں ۔ یہ مبینہ چیٹ انکشافات سے پر ہیں، ان سے یوں لگتا ہے جیسے کہ ارنب گوسوامی نے اپنے خود کے اور بارک کے فائدے کے لیے پی ایم او، این ایس اے اور وزیر اطلاعات و نشریات کا استعمال کیا ہو ۔ اس مبینہ چیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارنب گوسوامی کو پہلے سے کئی سرکاری فیصلوں کا پتہ تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ وینکیا نائیڈو کو نائب صدر بنایا جا رہا ہے اور اسمرتی ایرانی کو وزارت اطلاعات و نشریات دی جا رہی ہے ۔ بالا کوٹ آئر اسٹرائک اور کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی وہ واقف تھے ۔ اس مبینہ چیٹ میں بالاکوٹ اسٹرائک سے تین دن پہلے ارنب کہتے نظر آ رہے ہیں کہ عام دھماکے سے بڑا ہی کچھ ہوگا۔ اس میں داؤد ابراہیم کا بھی نام ہے ۔ ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے چیٹ پر ایک پریس کانفرنس میں کئی سوال اٹھائے ہیں، انہوں نے سازشوں اور طاقت کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی نے پاور بروکر کی طرح کام کیا ہے ۔ یہ چیٹ ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں اور انہیں ٹی آر پی معاملہ میں اضافی چارج شیٹ کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ سب سے زیادہ تشویشناک امر اس مبینہ چیٹ میں وزیراعظم کے دفتر کے نام کا آنا ہے ۔ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی پی ایم او کی طرف سے ارنب گوسوامی کی مدد، وہ بھی حدود کو پھلانگ کر، کی گئی ہے؟ پارتھو کو تو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے لیکن کیا ارنب کو دوبارہ گرفتار کر سکے گی؟ لگتا ہے کہ یہ سوال کرنے والے بڑے بھولے ہیں، جہاں تک پی ایم کے دفتر اور ارنب میں رابطے کا سوال ہے تو یہ ممکن ہے، ارنب ایک جرنلسٹ ہیں ان کا رابطہ حیران کن نہیں ہے ۔ ہاں مبینہ چیٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رابطے صرف صحافی اور سیاست دان کے طور پر نہیں ہیں بلکہ گہرے ہیں، ویسے یہ بھی حیران کن نہیں ہے کیونکہ ارنب ان دنوں حکومت کی تالی دونوں آنکھیں بند کر کے بجا رہے ہیں، لہذا پی ایم او ان کی مدد کے لیے ہر طرح سے کھڑا رہ سکتا ہے ۔ بھلے عزت پر دھبہ آئے ۔ رہی بات ارنب کی گرفتاری کی تو اگر ممبئی پولیس نے گرفتار کر بھی لیا تو کیا ہو جائے گا، نچلی عدالت نہیں تو سپریم کورٹ دوسرے دن انہیں ضمانت دے دے گی ۔ آج کل تو ایسے ہی لوگوں کی سنی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود دل یہی چاہتا ہے کہ ارنب پکڑا جائے اور ایک ہی دن کے لیے سہی سلاخوں کے پیچھے جائے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)