ارنب گوسوامی کی گرفتاری:بی جے پی کے ردعمل پر کانگریس کا جوابی حملہ،کہا،بھگوا پارٹی کا رویہ شرمناک

نئی دہلی:ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی کی گرفتاری کے بارے میں بی جے پی کے ردعمل پرکانگریس پارٹی نے گھیراہے۔پارٹی نے کہاہے کہ آزادی صحافت پر بی جے پی کا ’’انتخابی غم وغصہ‘‘شرمناک ہے اورری پبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر کے خلاف معاملے میں اس نے اپنا راستہ اختیار کیاہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ارنب گوسوامی کو بدھ کی صبح ممبئی کے گھرسے ایک 53 سالہ انٹیریرڈیزائنر کو خود کشی کے لیے اکسانے کے الزام میں گرفتار کیاگیاہے۔ اس معاملے پر بی جے پی اورکانگریس کے درمیان زبانی جنگ ہورہی ہے۔ بی جے پی نے اس گرفتاری کو آزادی صحافت پرحملہ قرار دیا ہے لیکن کانگریس نے بی جے پی کے’’انتخابی غم وغصے‘‘پرتنقید کی ہے۔ مہاراشٹر میں شیوسینا ‘این سی پی‘ کانگریس کی مخلوط حکومت ہے۔دوسری طرف بی جے پی کی تنقید پرتنقیدکرتے ہوئے کانگریس نے کہاہے کہ آزادی صحافت پر زعفرانی پارٹی کانتخابی غم وغصہ شرمناک ہے اور ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر کے خلاف اس معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا۔اترپردیش کے ضلع مرزا پور میں بچوں کو نمک اور روٹی کھانے کی خبر شائع کرنے پر جب ایک صحافی کو مہینوں قید کی سزا دی جاتی ہے ، جب صحافیوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو غصہ کیوں نہیں دکھایاجاتاہے۔سپریہ شرما کے خلاف ایک مقدمہ درج کیاگیا ہے ، جس نے وارانسی کے ایک گاؤں میں قابل رحم صورتحال کو بے نقاب کیا ، جب صحافیوں کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو بی جے پی کیوں خاموشی اختیار کرتی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ یوپی میں پی پی ای کٹ گھوٹالہ کو بے نقاب کرنے والے رپورٹر کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور انھیں غداری کے سنگین الزامات کا سامنا ہے ، اس گھوٹالے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں۔بی جے پی کو کچھ بھی کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہاہے کہ وہ خود دو دہائیوں سے صحافی رہی ہیں اور انہوں نے الزام لگایا ہے کہ گوسوامی نے صحافت کی توہین کی ہے۔