ارنب گوسوامی:گرفتاری کا خطرہ ٹلا نہیں۔ایم ودود ساجد

بامبے ہائی کورٹ میں آج ارنب گوسوامی کی اس رٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی جس پر سماعت کرنے سے جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے انکار کردیا تھا۔۔۔ بات صرف اتنی سی تھی کہ ٹی آر پی میں بدعنوانی کے معاملہ میں ارنب گوسوامی کو یہ خوف تھا کہ اسے ممبئی پولیس تفتیش کےلیے تھانے میں بلاسکتی ہے۔۔ ارنب گوسوامی یہ نہیں چاہتے کہ کوئی پولیس افسر انہیں ’پوچھ تاچھ‘ کےلیے پولیس اسٹیشن میں بلائے۔۔ ان کی یہ چاہت بے دلیل بھی نہیں ہے۔۔ جب انہیں اس سے بڑے بڑے معاملات میں سپریم کورٹ سے راحت مل چکی ہے تو پھر ٹی آر پی کے معاملہ میں ان کے سر پر خطرہ کی تلوار کیوں لٹکی رہے؟
آگے بڑھنے سے پہلے مختصراً یہ جان لیتے ہیں کہ ارنب گوسوامی کو کس کس معاملے میں سپریم کورٹ سے راحت مل چکی ہے۔مہاراشٹر میں پال گھر واقعہ کے بعد ان کے خلاف پانچ مختلف مقامات پر کانگریسیوں نے ایف آئی آر کرائی تھی۔۔ وہ سپریم کورٹ گئے اور ان کے خلاف چار ایف آئی آر کالعدم کردی گئیں۔۔ جو ایک کلیدی ایف آئی آر پونے میں ہوئی تھی اسے ممبئی منتقل کردیا گیا۔بعد میں ممبئی ہائی کورٹ نے اسے بھی ختم کردیا۔یعنی شکایت کنندگان کو ارنب گوسوامی کے زہریلے ٹی وی شوز سے جو تکلیف پہنچی تھی نہ تو اس کی کوئی تلافی کی گئی اور نہ ہی اس تکلیف کی پاداش میں ارنب کو ہی کوئی سزا دی گئی۔اس سے ارنب کے حوصلے بلند ہوگئے۔۔ مرکز میں مودی حکومت تو اس کی پشت پر کھڑی ہی ہے۔
اس کے بعد ممبئی پولیس نے ارنب کے ایک رپورٹر کو وزیر اعلی اودھو ٹھاکرے کے فارم ہاؤس میں چوری چھپے گھسنے کی کوشش کے الزام میں ماخوذ کرلیا۔وہ پانچ دن جیل میں رہ کر آیا اور پھر ضمانت ملی۔۔ پھر ارنب گوسوامی کو وزیر اعلی کے خلاف بد زبانی کرنے پر مہاراشٹر اسمبلی نے مراعات شکنی کے تحت 60 صفحات کا ایک نوٹس ارسال کردیا۔ارنب کو اس نوٹس کا جواب دینا تھا لیکن وہ پھر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔۔ وہاں چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ میں اس کی سماعت ہورہی ہے۔۔لیکن قانونی پوزیشن یہ ہے کہ ارنب کو اس نوٹس کا جواب دینا پڑے گا۔۔ چیف جسٹس کی بنچ اس کا اشارہ دے بھی چکی ہے۔۔اسمبلی ارنب کوجیل بھی بھیج سکتی ہے۔

اس کے بعد ٹی آرپی میں بدعنوانی کے معاملہ میں ارنب کے چینل کے تین افسروں کو ممبئی پولیس نے سمن جاری کرکے تفتیش کےلیے طلب کرلیا۔یہاں تک کہ ہفتہ کے روز ان کے چینل کے نمبر دو‘ پردیپ بھنڈاری کو بھی نو گھنٹے تھانے میں بٹھاکر رکھا گیا اور ان کے سارے موبائل ضبط کرلئے۔ارنب نے چینل پر چیخ پکار کرکے بچنے کی بہت کوشش کی۔لیکن وہ اپنے ملازمین کو گھنٹوں کی پوچھ تاچھ سے نہ بچاسکے۔اسی معاملہ میں ارنب کو خطرہ ہوا کہ انہیں بھی بلایا جاسکتا ہے اور پھر گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ اسی کیس میں دو چینلوں کے دو افراد پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں۔لہذا وہ سپریم کورٹ پہنچے لیکن وہاں سے اس بار انہیں کوئی راحت نہیں ملی اورآج ممبئی ہائی کورٹ نے بھی کوئی راحت نہیں دی۔
پولیس نے سی آر پی سی کی دفعہ 108 کے تحت ارنب کو پابند مچلکہ کرنے کیلئے ایک اور سمن جاری کر رکھا ہے۔یہی نہیں ارنب کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ‘دہلی ہائی کورٹ اور خود سپریم کورٹ میں بھی میڈیا ٹرائل کے الزام میں تین بڑے مضبوط معاملات کی سماعت ہورہی ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ارنب نے کانگریس‘ شو سینا‘ سونیا گاندھی‘ اودھو ٹھاکرے‘ شرد پوار‘ ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ‘ تبلیغی جماعت اور عمومی طورپر عیسائیوں اور مسلمانوں کے خلاف اپنے بہت سے شوز میں انتہائی سخت کلامی’ بدزبانی بلکہ زہر افشانی کر رکھی ہے۔
ارنب گوسوامی نے جب پچھلے دنوں ممبئی پولیس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا میں نے اسی وقت ٹویٹ کے ذریعہ سپریم کورٹ سے ہی پوچھا تھا کہ کیا مجھے یا کسی اور غریب اور عام سے شہری کوبھی اسی طرح براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ ۔۔ سپریم کورٹ نے ارنب گوسوامی کو بیرنگ لوٹا کراس سوال کا بالواسطہ جواب دے دیا تھا۔۔آج ممبئی ہائی کورٹ میں بحث کے دوران مہاراشٹر پولیس کے وکیل کپل سبل نے بھی پر زور انداز میں یہی بات دوہرائی اور پوچھا کہ کیا ارنب گوسوامی کوئی خاص آدمی ہے؟
Is he a special person?

یہ سوال انہوں نے ارنب کے وکیل ہریش سالوے کے اس اصرار کے بعد کیا کہ ارنب کو کسی بھی ممکنہ گرفتاری سے محفوظ کردیا جائے۔ممبئی ہائی کورٹ نے اس سوال کا بھی براہ راست جواب دے دیا جب اس نے ارنب کے وکیل کو پہلے تو مسلسل اصرار کرنے سے روکا اور پھر ایسی کوئی راحت نہیں دی اور ارنب کے وکیل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لے لیا کہ جب ممبئی پولیس ارنب کو کوئی سمن بھیجے گی تو وہ پولیس سے تعاون کریں گے اور خود چل کر تھانے جائیں گے۔
ممبئی پولیس کے وکیل کپل سبل نے ارنب کے وکیل کے الجھانے کی کوششوں کے باوجود الجھنے سے بچنے میں کامیابی حاصل کرلی اور یہ یقین دہانی نہیں کرائی کہ پولیس ارنب کو گرفتار نہیں کرے گی۔آخر کار ارنب کے وکیل نے عدالت سے محض اتنی سی راحت دینے کی گزارش کی کہ اچھا اگلی سنوائی یعنی 5 نومبر تک ہی گرفتاری سے راحت دیدی جائے۔لیکن عدالت نے کہہ دیا کہ زیر بحث معاملہ میں ابھی تک آپ کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ہے۔ اس لیے ایسی کوئی راحت قانوناً نہیں دی جاسکتی۔البتہ عدالت نے یہ یقین دہانی کرادی کہ اگر ارنب کے خلاف ممبئی پولیس کوئی کیس بنانا چاہے گی تو پہلے انہیں سمن جاری کرے گی جس پر ارنب گوسوامی کو تعاون کرنا ہوگا۔۔ اور سمن کی صورت میں گرفتاری کا کوئی مطلب نہیں ہے۔۔ ارنب کے وکیل نے بجھے دل سے کہا کہ میں سمجھ رہا تھا کہ کپل سبل کی طرف سے عدالت یہ بات ریکارڈ پر لے لیگی کہ ارنب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
سچی بات یہ ہے کہ ارنب نے ممبئی سے دہلی اور پھر دہلی سے ممبئی ساری بھاگ دوڑ اسی لیے کی تھی کہ کوئی تو اسے یہ اطمینان دلادے کہ اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب اسے یہ فکر ستا رہی ہے کہ اس نے پولیس کمشنر سے لے کر وزیر اعلی تک سے جس طرح بد زبانی کرکے اور ان کی بار بار بے عزتی کرکے بات بگاڑ لی ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*