عارف مسعود کےخلاف بھاجپا کی انتقامی کارروائی ـ سمیع اللہ خان

بھوپال مدھیہ پردیش کے مسلم لیڈر ایم ایل اے، عارف مسعود کی تعلیمی املاک پر آج مدھیہ پردیش کی بھاجپا سرکار کی ضلعی انتظامیہ نے بلڈوز چلا دیا ہے، عارف مسعود کی پراپرٹی کو اس کارروائی میں منہدم کردیاگیا ہےـ
عارف مسعود کے خلاف انتقامی کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ انہوں نے گزشتہ دنوں ناموس رسالتﷺ کے مسئلے پر ریلی نکالی تھی، انہوں نے بھوپال شہر میں گستاخِ نبیۖ اور اسلام دشمن فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کےخلاف زبردست احتجاج کیا تھا، تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے ان کی یہ زبردست احتجاجی ریلی بھارت کی ہندوتوا سرکار کو ہضم نہیں ہوئی، کیونکہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے گستاخئ رسالتﷺ کے مسئلے میں فرانس کی حمایت کی ہے، موجودہ ہندوستانی سرکار رسول اللہﷺ کے گستاخانہ کارٹون کی بھی تائید کرتی ہےـ
اسی بنا پر مدھیہ پردیش حکومت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے عارف مسعود کو کمزور کرنے کے لیے کمربستہ نظر آ رہی ہے، عارف مسعود نے ناموس رسالت پر جو قدم اٹھایا اس سے کہیں نا کہیں ایک بڑی ریاست کی راجدھانی میں مضبوط مسلم لیڈرشپ کے وجود کا پیغام بھی گیا، اس وجہ سے بھی بھاجپا اب عارف مسعود کو پرانے مقدمات اور مختلف قانونی باریکیوں میں گھیر کر توڑنے کی کوشش کرےگی، یہ سب اترپردیش میں کئی سالوں سے یوگی آدتیہ ناتھ کر رہا ہے، اسی کے نقش قدم پر اب ایم۔پی کی شیوراج سرکار بھی چل رہی ہے، یوگی نے بھی اترپردیش میں اپنے مخالفین کے مکانات اور املاک پر بلڈوزر چلوا دیے جن کا ریکارڈ نہایت شرمناک ہے، اب یہی کچھ عارف مسعود کےخلاف کرنے کی تیاری نظر آتی ہے ۔
جبکہ عارف مسعود نے مکمل پرامن اور قانونی احتجاج بلا کسی غلطی کے منعقد کیا ـ اس کے باوجود ان کے خلاف جمہوریت، آئین اور پولیس کا ناجائز استعمال ہورہاہے، کئی مقدمات ٹھونک دیے اب تک، کوئی اب بتائے کہ مسلمان جب پرامن اور قانونی دائروں میں بھی گھیرا جانے لگے تو کس منہ سے جمہوریت اور آئین کے حوالے سے امیدیں قائم رکھے؟ بتائیے تعلیم گاہ کالج کو منہدم کرنے والے یہ لوگ کتنے گھٹیا ہوں گے؟
یقین جانیے، شیوراج ہوں کہ یوگی، مودی ہو کہ امیت شاہ، یہ سب دنیا کے سب سے بڑے بزدل اور ڈرپوک لوگ ہیں، یہ آج غراتے اور دندناتے ہیں کیوں کہ انہوں نے طاقت پر قبضہ کر رکھا ہے، وہ اپنی ہمت اور شجاعت سے نہیں لڑتے ہیں وہ سرکار کے سہارے ظلم کرتے ہیں لیکن انہیں ایک دن اپنے تمام مظالم کا حساب دینا ہوگا، جس دن انصاف کا قلم مظلوموں کے ہاتھ میں ہوگا ـ
چونکہ عارف مسعود کے خلاف یہ کارروائیاں ناموس رسالت والی ریلی کے بعد شروع ہوئے ہیں اس لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکے مدھیہ پردیش کے مسلمانوں کو اس وقت بھرپور انداز میں عارف مسعود کے ساتھ کھڑا ہوناچاہئے، کیونکہ ایسی کارروائیاں نہ صرف انتقام ہوتی ہیں بلکہ دیگر بولنے یا کچھ کرنے کی ہمت رکھنے والوں کو وارننگ بھی ہوتی ہے، مدھیہ پردیش کے ہر ضلع اور شہر کے ذمہ دار مسلمان خواہ کسی پارٹی یا جماعت کے ہوں انہیں عارف مسعود کی طاقت بننا چاہیے، آپ اگر آج اپنے ایک فرد کو ٹوٹتا ہوا دیکھتے رہیں گے تو آپ اپنے لیے بھی ظلم خریدیں گےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*