عارف اقبال کے شوق جنوں کا شاہکار:’مولانا سید ابو اختر قاسمی – حیات و خدمات‘-احتشام الحق

انچارج ہیڈ ماسٹر سکنڈری اسکول مجھولیہ، حیاگھاٹ، دربھنگہ
حضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی صاحب مدظلہ کی شخصیت دربھنگہ اور متھلانچل ہی نہیں پورے شمالی بہار میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ ان کا جو منصبی فریضہ رہا ہے اور درس و تدریس سے لے کر دعوت و تبلیغ کے جو فرائض انجام دیے ہیں ان کے سبب پورے بہار اور بہار سے باہر بھی ان کی شناخت قائم ہے۔ منصب تدریس پر فائز ہونے کے سبب ایک بڑی تعداد نے ان سے استفادہ کیا ہے اور پھر ان میں سے ایک قابل لحاظ تعداد ایسی شخصیات کی ہوئی ہے جنہوں نے اپنے ملک اور سماج میں ایک مرتبہ بنایا ہے اور جو ہندوستان اور دنیا کے مختلف گوشوں میں دین اور انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا سید ابو اختر قاسمی صاحب کا فیض ہندوستان اور دنیا کے مختلف حلقوں میں اب بھی جاری ہے۔
میں مبارکباد دیتا ہوں برادر عزیز جناب عارف اقبال کوکہ انہوں نے ”حضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی – حیات و خدمات“ کے نام سے کتاب ترتیب دیتے ہوئے تقریبا ساڑھے چار سو صفحات میں مولانا کی شخصیت کے تقریبا تمام روشن پہلوؤں کو سمیٹ لیا ہے اور عمدہ طباعت کے ساتھ قاری کے لیے پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب صوری اور معنوی ہر دو اعتبار سے بڑی وقیع اور اہم ہوگئی ہے۔
اس کتاب کے مشمولات پر نظر ڈالیں تو اس میں تقریبا چھ ابواب ہیں۔ پہلا باب نقوش حیات کے ذیلی عنوان سے ہے جس میں مولانا شمشاد رحمانی قاسمی، مولانا اشرف عباس قاسمی، فضیل احمد ناصری قاسمی، انجینئر عادل اختر عادل، مولانا خالد نیموی قاسمی، مفتی آفتاب غازی، سیدہ گلفشاں بانو، حذیفہ حسن اور قاری نسیم اختر کے مضامین شامل۔ اس میں مرتب نے مولانا کے صاحبزادے، صاحبزادی اور داماد کو بھی جگہ دی ہے جس سے ان کی گھریلو زندگی اور اندرون خانہ کے حالات پر روشنی پڑتی ہے۔ سوانحی طرز کی کتابوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس میں گھر کے حالات بھی شامل ہوں۔ کہا جاسکتا ہے کہ مرتب اس میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ مرتب کتاب عارف اقبال کا کتاب کے تئیں یہ والہانہ پن ہی ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے ساٹھ برسوں بعد دار العلوم دیوبند سے مولانا کی سند نکالی اور پھر اس کا عکس کتاب میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مولانا کی نایاب تصویریں بھی شامل کی ہیں۔ قاری تصویروں کے ذریعہ بھی بچپن سے لے کر عہد پیری تک کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ حالانکہ تصویروں کی اس فراوانی کے جواز اور عدم جواز پر سوال قائم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان تصویروں کی تلاش اور اس میں کامیابی مرتب کی جاں فشانی کی عکاسی کرتی ہے۔
مشاہدات و تاثرات کے ذیلی عنوان کے تحت تقریبا پچیس مضامین شامل ہیں۔ اس میں کئی بڑی شخصیتوں نے اظہار خیال کیا ہے جو علمی دنیا میں اپنا اعتبار اور منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ اس باب میں مولانا ابو الکلام قاسمی، مفتی ثناء الہدی قاسمی، مولانا محمد شبلی قاسمی، صفی اختر، مفتی احمد نادر القاسمی، مولانا اعجاز احمد، مفتی عبد السلام قاسمی، ڈاکٹر مشتاق احمد، مولانا عبد الکریم قاسمی، پروفیسر ایم کمال الدین، پروفیسر شمیم باروی، آچاریہ شوکت خلیل، ڈاکٹر عطا عابدی، ڈاکٹر منظر سلیمان، غفران ساجد، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر ایوب راعین، مولانا ارشد فیضی، سیف الاسلام قاسمی، مولانا احمد حسین قاسمی، ڈاکٹر احسان عالم، مولانا خالد سیف اللہ ندوی، قاری فرید عالم صدیقی اور حافظ صلاح الدین شامل ہیں۔ اس باب میں مولانا کے رفیق کار اور ایسے حضرات کے  مضامین بھی شامل ہیں جن کومولانا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے اور ان کے کام کے طریقہ کو قریب سے دیکھا اور سمجھا ہے۔ مولانا ابو اختر قاسمی نے ہمیشہ سماجی معاملات سے سروکار رکھا ہے اور اس طرح مختلف مسالک و مشارب کے لوگوں کے درمیان بھی کام کرنے کا انھیں موقع ملا ہے۔ مرتب نے مختلف مسالک و مشارب کے علما اور دانشوران کی آرا  مولانا کے بارے میں حاصل کی ہیں اور اس کا کتاب کا جز بنایا ہے۔ حالانکہ اس موضوع پر مواد حاصل کرنا بھی کوئی سہل کام نہیں ہے۔ تعلیمی و تنظیمی خدمات کے عنوان سے چار شخصیات کے مضامین کو شامل کیا گیا ہے جس میں مولانا کی تنظیمی اور علمی خدمات کا بھر پور احاطہ کیا گیا ہے۔
مولانا کی شخصیت کا اہم عنصر ان کا مخصوص طرز خطابت ہے جس کے لیے وہ معروف رہے ہیں اور ظرافت سے بھر ے جملے جس کا خاصہ رہا ہے۔ مرتب نے خطابت و ظرافت کے عنوان سے آٹھ شخصیات کے مضامین کو جگہ دی ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں نے مختلف جلسوں اور تقریبات میں مولانا کے ساتھ شرکت کی ہے اور وہ خود خطابت کا بڑا ملکہ رکھتے ہیں اور اچھی خطابت کے اوصاف سے بخوبی واقف ہیں۔ کئی مضامین میں مولانا کی خطابت کے حوالے سے بہت سے یاد گار واقعات کا ذکر کیا گیا جو کتاب کو دلچسپ اور قابل مطالعہ بناتے ہیں۔ڈاکٹر عبد الودود قاسمی نے اپنے مضامین میں جلسوں میں مولانا کی شرکت اور اپنی شراکت کے حوالے سے کئی اہم یاد گار اور ان کی خوش کلامیوں کو پیش کر کے کتاب کی وقعت اور جواز میں اضافہ کیا ہے۔ اس باب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کی خطابت کے کیا اوصاف رہے ہیں اور کس طرح وہ سامعین پر اپنی گرفت بناتے تھے۔ اس سے مولانا کے دائرہ کار اور مقبولیت کا بھی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
مرتب عارف اقبال نے مولانا ابو اختر قاسمی کی شخصیت کو شاگردوں کی نظر سے بھی دیکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ ایک اچھا اور کامیاب استاد وہ ہوتا ہے جس کی کامیابی کی شہادت اس کے طلبہ دیں۔ایک استاد کا بہترین تجزیہ کار اس کا طالب علم ہی ہوتا ہے اور یہ کہئے کہ ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ مولانا ابو اختر قاسمی نے خانقاہ رحمانی مونگیر، مدرسہ امدادیہ اور شفیع مسلم اسکول میں استاد کی حیثیت سے اور مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا میں ایک مربی کی حیثیت سے ہزاروں طلبہ کی تربیت کی ہے اور ان میں سے کئی آج شجر سایہ دار اور شاخ ثمر دار بنے ہوئے ہیں۔ مرتب نے گیارہ ایسے لوگوں کے مضامین کو جگہ دی ہے جنہوں نے شاگرد  کی حیثیت سے اپنے تجربات و احساسات بیان کئے ہیں اور بحیثیت استاد مولانا کی خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
مرتب نے اپنے ذوق ادب کا ثبوت دیتے ہوئے کتاب میں دس افراد کے منظوم تاثرات بھی پیش کئے ہیں۔ ایسے تاثرات میں بھی مولانا کے مختلف اوصاف کا اظہار ہوا ہے۔ کتاب کے آغاز میں مولانا کے تعلق سے اکابر اور دانشوران کے مختصر تاثرات بھی پیش کئے گئے ہیں جن سے مولانا کی مقبولیت اور عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان شخصیات میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، امیر شریعت رابع حضرت مولانا سیدمنت اللہ رحمانی،حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین،حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری،حضرت مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی،حضرت مولانا محمد قاسم مظفر پوری رحمہم اللہ کے علاوہ حضرت مولانا اشتیاق احمد،موجودہ امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی،حضرت مولانا عبد السبحان رحمانی، سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی، ڈاکٹر محمد منظور عالم اور چیف سکریٹری بہار جناب عامر سبحانی جیسی شخصیات شامل ہیں۔ کتاب کی پشت پر شعبہ اردودہلی یونیورسٹی کے استاذڈاکٹر ابو بکر عباد کے تاثرات ہیں۔ جبکہ کتاب کے اندرحضرت مولانا ابو اختر قاسمی کا عکس تحریر اور ان کا پیام، امیر شریعت حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانی کا خط بنام مرتب،حضرت مولانا اشتیاق احمد کے دعائیہ کلمات، حضرت مولانا ہارون الرشید قاسمی،حضرت مولانا بدر الحسن قاسمی کویت، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،حضرت مولانا قاسم مظفر پوری،حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر شکیل احمد اورمعروف نقاد حقانی القاسمی کی ان تحریروں کو بھی جگہ دی ہے جن میں مولانا ابو اختر قاسمی کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خود مرتب نے مبسوط مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں میں مولانا سے اپنی وابستگی، مولانا کے تئیں تاثرات اور اس کتاب کی اشاعت کے غرض و غایت پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔
2020ء کا سال دنیائے انسانیت  کے لیے اس طرح یادگار ہے کہ یہ دنیائے انسانیت کے لیے رفتار شکن ثابت ہوا۔ ہر شعبے میں دوڑتی بھاگتی زندگی ٹھہر گئی لیکن ایسے حالات میں بھی کچھ دیوانے ایسے تھے جنہوں نے اپنے جنون عمل کو تھکنے نہیں دیا اور ایسا کچھ کر دکھایا جس کا فیض ہر انسان کو پہنچے۔ عارف اقبال کی یہ کاوش بھی ایسے ہی فیض رساں عمل میں شامل ہے۔ کوووڈ19 کے سبب جاری لاک ڈاؤن کے درمیان ہی اس کتاب کے بیشتر کام کو انہوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا طباعت و اشاعت کے مرحلے سے گزار کر  لوگوں تک دستیاب کرایا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس دوران وہ خود بھی کووڈ19سے متاثر ہوئے اور گھر سے بہت دور قرنطین بھی ہوئے، لیکن اس کے باوجود ان کے پائے استقلال میں کوئی کمزوری نہیں آئی اور یہ شوق جنوں انہیں منزل مقصود تک لے گیا۔خلاصہ یہ کہ یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا قیمتی تحفہ ہے اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں کام کرنے والوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔