عربی و اردو کے شہرۂ آفاق ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی نہیں رہے،علمی و ادبی دنیا سوگوار

نئی دہلی:(قندیل ڈیسک)دارالعلوم دیوبند میں عربی و زبان و ادب کے موقر استاذ،ماہنامہ’’الداعی‘‘عربی کے مدیر اعلیٰ، برصغیر کے شہرۂ آفاق ادیب اور عربی و اردو زبانوں میں درجنوں کتابوں کے مصنف و مترجم مولانا نور عالم خلیل امینی کا تقریباً ۶۹ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ مولانا گزشتہ کئی دنوں سے بیمار تھے اور میرٹھ کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ مولانا امینی کی رحلت دارالعلوم دیوبند کے وابستگان اور فضلا کے لیے ہی نہیں، پوری علمی و ادبی دنیا کے لیے شدید تکلیف دہ سانحہ ہے اور جب سے ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی ہے ان کے تلامذہ و اہل علم میں سخت رنج و غم کا ماحول ہے۔ مولانا امینی کا تعلق بہار کے ضلع مظفر پور سے تھا۔ انھوں نے دارالعلوم امدادیہ دربھنگہ،دارالعلوم مئو،دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ امینیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی اور ۱۹۷۲میں فضیلت کی تکمیل کی۔ مدرسہ امینیہ کے شیخ الحدیث معروف مصنف و مؤرخ مولانا سید محمد میاں سے خاص تعلق تھا۔ فراغت کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلما میں تقریباً دس سال تدریسی خدمات انجام دیں،اس عرصے میں مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی کے علمی و ادبی معاون بھی رہے اور ان کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ ۱۹۸۲ میں اپنے خاص استاذ مولانا وحید الزماں کیرانوی کی دعوت پر دارالعلوم دیوبند آگئے اور یہاں تا حیات عربی زبان و ادب کے استاذ اور عربی ماہنامہ’’الداعی‘‘کی ادارت کی۔ اس طویل عرصے میں ان سے ہزاروں طلبا نے کسب فیض کیا۔ مولانا نہایت نفیس الطبع اور شایستہ اسلوب کے حامل ادیب تھے۔ ان کا طرز زندگی بھی اصول پسندی اور نظام الاوقات کی پابندی کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا۔ انھوں نے عربی اور اردو زبان میں ادب،سیرت و سوانح،تاریخ اور دیگر علمی موضوعات پر درجنوں کتابیں لکھیں جنھیں ملک و بیرون ملک میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ مولانا کی نگاہ قومی و عالمی سیاست پر بھی بڑی گہری تھی اور انھوں نے الداعی میں مسلسل چالیس سال تک نہایت فکر انگیز اداریے تحریر کیے۔ ان کی کتابوں میں وہ کوہ کن کی بات،پس مرگ زندہ،کیا اسلام پسپا ہورہا ہے،عالم اسلام کے خلاف صلیبی صہیونی جنگ ،فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں(عربی و اردو)،مفتاح العربیہ(برصغیر کے ہزاروں مدارس میں شامل نصاب)،حرف شیریں،الصحابۃ وکانتہم فی الاسلام،مجتمعاتنا المعاصرۃ والطریق الی الاسلام،المسلمون فی الھند،الشیخ المقری محمد طیب وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے دو درجن سے زائد کتابوں کا ترجمہ کیا جن میں مولانا محمد قاسم نانوتوی،اشرف علی تھانوی،مولانا علی میاں ندوی،مولانا قاری محمد طیب وغیرہ کی تصانیف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ملک کے رسائل و مجلات میں سیکڑوں مضامین و مقالات لکھے۔ مولانا حالیہ دنوں میں کئی تصنیفی پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے اور ان کی کئی کتابیں زیر طبع تھیں،جن میں شخصیات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ’’رفتگانِ نارفتہ‘‘اور الداعی میں ’’اشراقۃ‘‘کالم کے تحت شائع ہونے والے مضامین کامجموعہ( پانچ جلدیں)خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ مولانا کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ مولانا کی کی جنازہ دارالعلوم دیوبند،احاطۂ مولسری میں ایک بجے ادا کی جائے گی اور قبرستانِ قاسمی میں تدفین ہوگی۔