عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات – ایک مطالعہ

 

احمد سعید قادری بدایونی

اچّھا ! تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ ویسے تو ہماری اُردو، ہندی دونوں زبانوں میں ہی بے شمار محاورے پائے جاتے ہیں، ہاں! یہ الگ بات ہے کہ ہم "ناچ نا آوے، آنگن ٹیڑھا” اور "نہ نَو مَن تیل ہوگا، نہ رادھا ناچےگی” جیسے محاوروں/ضرب المثل کو اپنے حریف پر حملہ کرنے یا کسی کو زچ کرنے کے لئے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔

ارے نہیں! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ زچ کرتے ہیں بس ایک بات کہی ناراض نہ ہوں اور نا یہ سمجھیں کہ پیشِ نظر تحریر میں ہم اُردو محاوروں کی بات کرنے جا رہے ہیں وہ کبھی اور کریں گے آج کچھ عربی محاوروں کی بات کرتے ہیں۔

اب دیکھیں، عربی زبان میں ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے "أخذ حِزامَ الطَريق” جس کا مطلب ہوتا ہے "صحیح قدم اٹھانا یا صحیح راستہ اختیار کرنا” لیکن آپ کو یہ جان کر قدرے حیرانی ہوگی کہ اس جملے کو "محاورہ” لکھنے کے بعد میں یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ اس کو محاورہ کہہ کر میں نے صحیح قدم اٹھایا ہے یا غلط ؟ کیونکہ عربی ادباء و لغویئین نے لفظِ محاورہ اور ضرب المثل کے اطلاق کو لیکر اتنی "سیاہی ریز” جنگیں کی ہیں کہ بس اللہ کی پناہ۔۔

ابو عبیدہ (ت٢٠٨ھ)، ابو زید (ت٢١٥ھ) سے لیکر اصمعی (ت٢١٦ھ) اور الازہری (ت٣٨٠ھ) تک کوئی بھی "تعبیر اصطلاحی/ محاورے” کو الگ سے ذکر کرنے کو تیار نہیں تھا ہر کوئی "التعبير الاصطلاحي/محاورے” کو ضرب المثل کے ضمن میں ہی ذکر کرنے کے درپے نظر آتا ہے، یہاں تک کہ ابو منظور (ت ٧١١ھ) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "لسان العرب” میں اور میدانی (ت٥١٨ھ) نے اپنی کتاب "مجمع الأمثال” میں بھی "التعبير الاصطلاحي/محاورے” کو بلا کسی تفریق و امتیاز عام جملوں کے ساتھ ہی ذکر کردیا۔
وہ تو بھلا ہو ثعالبى (ت٤٢٩ھ) کا کہ انہوں نے اپنی کتاب "فقہ اللغۃ” میں "محاورے”‌ کو کم سے کم ضرب المثل کی قید سے چھڑا کر "استعارے” کی فصل تک تو پہنچایا۔

محاورے اور ضرب المثل کو لے کر "صفحات سیاہ کن جنگیں” بدستور چلتی رہیں اور آخر کار ڈاکٹر کریم زکی کی تحقیق کے مطابق ۱۹۵۰ء کے قریب اسماعیل مظہر نے اپنی کتاب "قاموس الجمل والعبارات الإصطلاحية” میں محاورات کو ضرب المثل سے علاحدہ ذکر کرکے امن کا پرچم بلند کیا اور اِس طرح اُنہیں پہلا ایسا شخص ہونے کا شرف حاصل ہوا جس نے "تعبير اصطلاحی/محاورے” کو باضابطہ طور پر الگ ذکر کیا۔

اچّھا عربی محاوروں کو لیکر ہونے والی قلمی جنگوں کے ضمن میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ الفاظ کے اطلاق و تعریف کی یہ خانہ جنگی صرف عربی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ضرب المثل، محاورہ اور اصطلاح کے الفاظ کے اطلاق کو لیکر اُردو کے ادباء و ناقدین نے بھی اپنے اپنے خاموں سے حسبِ استطاعت قرطاس کا سينہ چھلنی کیا ہوا ہے کسی نے کُچھ تعریف کی ہے تو کسی نے کُچھ۔
خیر! ہم اس بحث میں نہیں پڑتے اور اپنی تحریر کے اصل مقصد کی طرف آتے ہیں۔

پیشِ نظر تحریر اُردو معلّی کی اُس عظیم شاہکار تصنیف کا ایک تعارفی خاکہ پیش کرنے کی ادنٰی کوشش ہے جو بیک وقت عربی و اُردو دونوں زبانوں کے محاوراتی لعل و گوہر اور ناياب موتیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے، ایک ساتھ اسیرانِ زلف لیلیٰ عرب اور خوشبوئے گیسوئے محبوبۂ میر و غالب کی تلاش میں سرگرداں رہنے والوں کو وصل سے ہمکنار کرانے کے لئے ‌مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

جی! آپ صحیح سمجھے، میں بات کر رہا ہوں استاذ محترم مولانا اُسيد الحق قادرى بدايونى علیہ الرحمہ کی نابغۂ روزگار تصنیف "عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات” کی، جو بلا مبالغہ اُردو معلّی کی وہ واحد تصنیف ہے جو بیک وقت دونوں بڑی زبان عربی اور اُردو کے محاورات کو شامل ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ عربی و اُردو زبان میں محاوروں پر کوئی کام نہیں ہوا ہے، بیشک دونوں زبانوں میں کثیر تعداد میں کتابیں محاورات اور ضرب المثل پر لکھی گئی ہیں جو اپنے اندر بڑی اہمیت کی حامل ہیں مثلاََ اُردو کی چند اہم کتابیں دیکھیں:
۱. "اُردو کہاوتیں اور اُن کے سماجی و لسانی پہلو – پروفیسر یونس اگاسکر
۲۔ "اُردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ – عشرت جہاں ہاشمی
۳. "ہمارے محاورے” – نعمان ناصر اعوان
٤۔ "کیفیہ” – پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی۔

اِسی طرح عربی کی درج ذیل کتابیں بھی عربی محاورات و ضرب المثل کے معاملے میں کافی اہمیت رکھتی ہیں:
۱. "لسان العرب” – ابن منظور۔
٢. "مجموع الأمثال” – ميدانى۔
٣. "التعبير الاصطلاحي” – ڈاکٹر کریم زکی حسام الدین۔
٤. "معجم المصطلحات والتراكيب و الأمثال المتداولة” – ڈاکٹر موسیٰ الشریف۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ مذکورہ ساری کتابوں سے بیک وقت یا تو صرف اُردو کے محاورے پڑھ سکتے ہو یا صرف عربی کے۔

مولانا اُسيد الحق قادری علیہ الرحمہ کی مذکورہ کتاب "عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات” سے پہلے اُردو کی کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آتی جو ایک وقت میں عربی اور اُردو دونوں زبانوں کے محاورات کو شامل ہو اور یہی بات اِس کتاب کو دوسری کتابوں سے ممتاز کردیتی ہے۔

• مشمولات:

۲۲٤ صفحات کو محیط یہ کتاب مصنف کے اظہاریہ، ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم (صدر شعبہ اُردُو، جامعہ ازہر، قاہرہ)، ڈاکٹر عصام عید فہمی (جامعہ قاہرہ، قاہرہ) اور ڈاکٹر مصطفیٰ شریف (جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن،ہند) کی تقریظات، ایک مقدمہ اور دو باب پر مشتمل ہے۔

• اظہاریہ

اظہاریہ کے تحت مصنف نے کتاب کی وجہِ تصنیف کا ذکر کیا ہے جو آپ کے رفیقِ محترم سید شحات الأزرق منصور الحسيني صاحب سے اتفاقاً ملاقات (جو بعد میں گہری و بے تکلف دوستی میں تبدیل ہو گئی) کے سبب معرض وجود میں آئی، آئیے مصنف کی زبانی ہی اُس اتفاقیہ ملاقات کا قصہ سنتے ہیں،

"۲۰۰۲ء میں ایک اتفاق کے تحت محب گرامی شحات الأزرق الحسینی سے ملاقات ہوئی، اُنہوں نے جامعہ ازہر (قاہرہ) کے شعبہ اُردو سے اُردو میں ایم اے کیا تھا، اُس کے بعد "قرۃ العین حیدر کی ناول "گردشِ رنگ چمن” میں اُردو محاورات کا استعمال” کے موضوع پر ایم فل کی تیاری کررہے تھے، اُنہیں کسی ایسے آدمی کی تلاش تھی جو عربی اور اُردو دونوں زبانوں پر نظر رکھتا ہو، یہ شحات کی محبت اور اُن کا حسن ظن تھا کہ اُنہیں میرے اندر یہ دونوں خوبیاں نظر آگئیں، حالانکہ من آنم کہ من دانم”۔

اظہاریہ کے مطابق کتاب کی ترتیب کا کام مصنف کے قیامِ مصر کے دوران ۲۰۰٤ء میں ہی مکمل ہوگیا تھا لیکن ہندستان لوٹنے کے بعد مصروفیات کے سبب اشاعت میں تاخیر ہوتی رہی لیکن بالآخر ۲۰۱۱ء میں یہ نایاب تحفہ جہانِ ادب کو میسر آیا۔

• مقدمہ:

۱. مقدمہ کتاب کے صفحہ ١٧ سے صفحہ ٦٢ تک تقریباً ۵۰ صفحات پر مشتمل ہے جس میں فاضل مصنف نے اُردو محاوروں کی تعریف و تفہیم کے ذیل میں کسی جملے پر محاورہ اور ضرب المثل کے اطلاق کا تقابلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف تعریفات میں ذکر کردہ قیود کی رو سے صاحب تعریف کی پیش کردہ مثالوں پر نقد کرتے ہوئے پیش کردہ امثال پر ضرب المثل اور محاورے کے اطلاق و عدم اطلاق کا حکم لگایا ہے اور زبان کی رو سے پیش کردہ تعریفات میں سے چند ایک کو راجح یا زیادہ مناسب قرار دیا ہے۔

۲. اُردو محاورے کی تعریف و تفہیم کے بعد مصنف علیہ الرحمہ نے عربی محاورے کی تعریف و تفہیم، اُردو محاورے اور عربی محاورے کے مابین فرق بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر کریم زکی اور ڈاکٹر احمد علی ہمام کے نزدیک محاورے کی تعریف پیش کی ہے اور ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ عربی محاورے کے لئے اُردو محاورے کی طرح دو لفظی ہونا ضروری نہیں ہیں بلکہ بسا اوقات عربی محاورہ یک لفظی بھی ہوتا ہے۔

۳. التعبير الاصطلاحي (محاوره) کی تعریف ذکر کرنے کے بعد مصنف علیہ الرحمہ نے قدماء اور متاخرين کے نزدیک "التعبير الاصطلاحي” کو ضرب المثل کے ضمن اور علاحدہ ذکر کرنے کے حوالے سے واقع اختلاف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ متاخرين نے "التعبير الاصطلاحي” پر جن جدید اصطلاحات کا انطباق کیا ہے اُس کو بھی درج کیا ہے۔

٤. مقدمہ کے صفحہ ۳٦ سے صفحہ ٤٦ تک استاذ محترم نے قدیم و جدید عربی محاوروں کا تذکرہ کیا ہے جس میں قدیم محاوروں کو آپ نے تین قسموں میں بانٹا ہے:
• ایسے قدیم محاورے جو اب متروک ہے یعنی اب اُن کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔
• ایسے قدیم محاورے جو آج بھی اتنی ہی کثرت سے استعمال ہوتے ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے مثلاً "قَلَبَ له ظَهرَ المِجَنّ” جس کا مطلب ہوتا ہے (دوستی کے بعد) قطع تعلق کرلینا، دشمنی پر آمادہ ہو جانا۔ یہ ایک قدیم محاورہ ہے لیکن اُس کے باوجود آج بھی اُسی معنى میں استعمال ہوتا ہے جس میں قدماء استعمال کرتے تھے۔ اِس محاورے کو حضرت علی نے حضرت ابن عباس رضى الله عنہما کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ
"قلبت لابن عمك ظهر المجن” (تم نے اپنے چچا زاد بھائی سے قطع تعلق کرلیا ہے)۔
• ایسے قدیم محاورے جو اپنے الفاظ و ہیئت کے لحاظ سے تو قدیم ہیں البتّہ اُن کا قدیم مجازی معنى اب متروک ہو گیا ہے اور اب اُن سے نیا مجازی معنى مراد لیا جاتا ہے جیسے:
"ضرب أخماسا لأسداس”
قدیم عرب میں یہ محاورہ ایسے انسان کہ لئے بولا جاتا تھا جو اصل میں دھوکہ دے اور بظاہر خود کو خیر خواہ اور اطاعت گزار ظاہر کرتا ہو لیکن اب معاصر عربی میں یہ محاورہ شدید حیرت کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

• جديد محاورے
جدید محاوروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آپ نے ایسے محاوروں کی طرف اشارہ کیا ہے جو دورِ حاضر کے کھیلوں کو دیکھتے ہوئے معرض وجود میں آئے جیسے والی بال یا فٹ بال کھیلتے ہوئے جب بال دوسری ٹیم کے پالے میں پہونچ جاتی تو وہ اُس ٹیم کی ذمداری ہوتی ہے اِسی بات سے متاثر ہوکر عربی میں اِس تعبیر کو استعمال کیا جاتا ہے مثلاً جب بابری مسجد کا قضیہ مرکزی حکومت سے سپریم کورٹ میں چلا گیا تو اس کی رپورٹ "الاہرام” اخبار میں کُچھ یوں نشر کی گئی تھی:
"أن الحكومة المركزية قذفت بالكرة في مرمى المحكمة العليا” یعنی مرکزی حکومت نے گیند سپریم کورٹ کے پالے میں ڈال دی ہے۔

• معرّب محاورے
ایسے محاورے جو غیر عربی زبانوں سے منتقل کئے گئے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس مسئلے میں بھی خاصا اختلاف و تشدد برتا گیا ہے۔

• مقدمہ کے صفحہ ۵۱ سے صفحہ ٦٢ تک مصنف علیہ الرحمہ نے عربی اُردو محاورات کا تقابلی جائزہ اور بامحاورہ ترجمے میں احتیاط کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

مقدمہ کے اختتام پر کتاب کی ترتیب کے بارے میں کچھ نکات اور پھر مقدمہ کے مصادر و مراجع درج ہیں۔

• بابِ اول
پہلا باب صفحہ ۷۳ سے شروع ہو کر صفحہ ۱٥٩ پر ختم ہوتا ہے جس میں کم و بیش ۳۲٤ ایسے محاورے ذکر کئے گئے ہیں جو کسی "فعل” سے شروع ہوتے ہیں بالفاظِ دیگر ایسے محاورے جو جملہ فعلیہ ہوتے ہیں۔ محاورے ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ مصنف علیہ الرحمہ نے عربی محاورے کا اُردو متبادل محاورہ بھی ذکر کیا نیز بطور نمونہ جملے میں استعمال کرکے بھی دکھایا ہے تاکہ مبتدی بھی کتاب سے اچھی طرح استفادہ کرسکیں۔

• بابِ دوم
دوسرا باب صفحہ ١٦٣ سے شروع ہوتا ہے اور صفحہ ٢١٤ پر ختم ہوتا ہے تقریباً ان پچاس صفحات میں لگ بھگ ٢١٤ ایسے محاورے ذکر کئے گئے ہیں جو کسی اسم/حرف سے شروع ہوتے یعنی ایسے محاورے جو جملہ اسمیہ ہوتے ہیں۔
پہلے باب کی طرح اس باب میں بھی عربی محاوروں کے ساتھ متبادل اُردو محاورے/محاوراتی ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اور ایک دو جملے میں استمعال کرکے دکھایا گیا ہے اور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔

کتاب کے آخر میں ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم (صدر شعبہ اُردُو، جامعہ ازہر، قاہرہ، مصر) اور ڈاکٹر عصام عید فہمی (جامعہ قاہرہ، قاہرہ، مصر) کی اصل عربی تقریظ درج ہے اور اس کے بعد مصنف علیہ الرحمہ کا سوانحى و تعليمى خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

(نوٹ: تحریر میں راقم الحروف نے عربی "التعبير الاصطلاحي” کو قارئین کے آسانی کے پیشِ نظر "محاورہ” لکھا ہے ورنہ عربی میں التعبير الاصطلاحي کا مفہوم اُردو محاورے کے مفہوم سے بہت وسیع ہے۔)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*