"عرب بہار” کا کیا ہوا؟ ـ نگار سجاد ظہیر

دس سال قبل عرب ممالک میں عوامی رد عمل کا ایسا جوار بھاٹا اٹھا تھا جس نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا تھا ۔آمریت کے خلاف اٹھنے والی اس عوامی تحریک کو Arab spring کا نام دیا گیا ۔کئی سال تک لوگوں کی نظریں اس عوامی بیداری کی لہر کا قریب سے جائزہ لیتی رہیں، اور اب یہ تاریخ کا ایک باب بن چکا ہے ۔
عرب بہار نے مصر، تیونس، لیبیا، یمن اور شام کو غیر معمولی تبدیلیوں سے دوچار کیا ۔
عرب بہار کی ابتدا 17۔دسمبر2010 کو تیونس کے شہر سیدی بوزید سے ہوئی، جب ایک غریب ریڑھی والے محمد بوعزیزی نے پولیس کی طرف سے تنگ کئے جانے پر گورنر ہاوس کے سامنے پٹرول چھڑک کر خود سوزی کی ۔بو عزیزی دو ہفتے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 4۔جنوری کو چل بسا ۔اس کے بعد گویا تیونس میں آگ لگ گئی۔عوامی احتجاج کا دائرہ پورے ملک میں پھیل گیا جو صدر تیونس زین العابدین بن علی کے 23 سالہ دور اقتدار کو خاشاک کی طرح بہا لے گیا ۔دس دن بعد زین العابدین کو سعودی عرب فرار ہونا پڑا ۔زین العابدین بن علی نے 1987 سے جنوری2011 تک حکومت کی ۔

اس عوامی ردعمل کا دوسرا شکار مصر تھا ۔ مصر میں لاکھوں افراد نے قاہرہ کے تحریر اسکوائر کا رخ کیا اور ریاستی جبر کے باوجود احتجاج جاری رکھا ۔مصر کے صدر حسنی مبارک 30 سال سے اقتدار پر قابض تھے، حسنی مبارک نے مظاہرین کو سختی سے کچلنے کا عندیہ دے دیا، فوج کے خصوصی دستوں نے بدترین سفاکی کا مظاہرہ کیا لیکن عوامی مزاحمت اس قدر شدید تھی کہ11 فروری 2011 کو وہ ہوا جس کے بارےمیں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا یعنی مصر کے مطلق العنان حکمران حسنی مبارک نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ۔

ان دو حکمرانوں کے بعد لیبیا کے معمر قذافی کی باری آئی ۔معمر قذافی 1969سے برابر حکمران چلے آ رہے تھے، اور ان کا اقتدار 42 سال کو محیط تھا ۔ ان کا پورے خاندان کے ساتھ خاتمہ کر دیا گیا ۔

یہ عوامی تحریک پھر یمن میں پھوٹ پڑی ۔یمن کے حکمران علی عبداللہ صالح کا بارہ سالہ دور اقتدار ختم ہوا، علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب میں پناہ لی اور وہاں سے اپنے اقتدار کی بحالی کی کوشش شروع کی ۔
یمن سے اس تحریک نے سعودی عرب میں پنجے گاڑنے چاہے لیکن سعودی حکومت نے حکمت عملی سے اس تحریک کو دبا دیا ۔
اس عوامی تحریک کا اگلا شکار شام کا آمر بشار الاسد تھا ۔لیکن بشار الاسد کا اقتدار ختم نہیں کیا جا سکا۔اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ شامی فوج اور حکومتی مشنری نے بشار کا اقتدار بچانے کے لئے عوام کو داؤ پر لگا دیا ۔38 ہزار افراد قتل کر دیے گئے اور لاکھوں افراد ملک چھوڑ کر دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ۔
اب اس کے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کس ملک کو اس عوامی تحریک کے عوض کیا ملا؟
تیونس میں انقلاب کامیاب رہا ۔زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار کے بعد تیونسی سیاست دانوں نے سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے عوام کو تقسیم ہونے سے روکا ۔فوج اور سیاست دانوں نے قتل و غارت گری روکنے اور امن وامان کی بحالی پر خصوصی توجہ دی ۔النہضہ پارٹی نے اتفاق رائے کی حکومت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش میں کامیابی حاصل کی ۔یوں تیونس میں انقلاب کامیاب رہا ۔
اب آ جاتے ہیں مصر کی طرف ۔ مصر میں حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہوا۔انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کو کامیابی ملی مگر صرف ایک ہی سال کے بعد محمد مرسی کے اقتدار کی بساط لپیٹ دی گئی، وزیر دفاع جنرل عبد الفتاح سیسی نے بغاوت کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔گویا ملک دوبارہ آمریت کی گود میں چلا گیا بلکہ سیسی کی سفاکی اور درندگی، حسنی مبارک سے بھی بڑھ کر ہے ۔
اب دیکھئے کہ لیبیا میں کیا ہوا ۔معمر قذافی کے 42 سالہ اقتدار کے خلاف کھڑے ہونے والے جب اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو متوازن حکومت قائم نہیں کر سکے اور جنگجو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ۔گویا ایک خرابی نے ختم ہو کر دوسری خرابی کو جنم دے دیا ۔
یمن میں یہ ہوا کہ علی عبداللہ صالح کا بارہ سالہ اقتدار تو ختم ہو گیا لیکن ملک فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں آ گیا ۔یمن میں آج بھی لاکھوں بچوں کو غذا اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ اس انقلاب نے یمن کو فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔
شام دس سال سے خانہ جنگی کی کیفیت میں ہے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں نہ تو بشار کی آمریت کا خاتمہ ہو سکا اور نہ ہی ملک مکمل طور پر خانہ جنگی کی کیفیت سے باہر آ سکا ہے ۔ شام تباہ ہو چکا ہے، نہیں معلوم دوبارہ کب اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے گا ۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اس عرب بہار کے نتائج میں بڑے اسباق پوشیدہ ہیں ۔